حق معیشت میں مساوات اور درجات معیشت میں توازن
- قرآنی اصول معاشیات کے پہلے دو اصولوں کی وضاحت
- قرآنی تعلیمات کی روشنی میں
- صالح معاشی نظام کی ضرورت اور اہمیت
تفصیل دیکھیں
کتابکائناتِ ہست وبود میں ایک صالح معاشی نظام کی ضرورت ہر انسان کے اندر موجود فطری جذبے سے واضح ہوتی ہے، مگر افرادی کشمکش اور وسائلِ حیات کی کھینچا تانی سے خدائے تعالیٰ کا وضع کردہ قانونِ فطرت متاثر ہوتا ہے۔ ایسا نظام صرف اسی وقت وجود میں آسکتا ہے جب لوگوں کے درمیان بنیادی عدل اور حقِ معیشت میں مساوات پر مبنی تعاون واشتراک ہو۔ ایک صالح معاشی نظام کے چار بنیادی اصول ہیں: ہر فرد کو معاشی زندگی سے محروم نہ رکھا جائے؛ وسائلِ معیشت کا قلع قمع (لوٹ مار) کرنے والے اسباب نہ ہوں؛ دولت کسی خاص فرد یا محدود جماعت کے اندر مقید نہ ہو؛ اور محنت وسرمایہ کے درمیان صحیح توازن قائم رہے۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 7 - اسلام کے معاشی نظام کے فوائد و ثمرات
تفصیل دیکھیں
کتاباگرچہ جدید علمی دور میں ''علم المعیشت'' پر بڑے بڑے علمائے یورپ نے ضخیم تصانیف لکھی ہیں، مگر آج تک عام رفاہیت (خوش حالی) کا حصول ممکن نہ ہوسکا کیونکہ دولت مخصوص طبقے کے ہاتھوں میں سمٹ آئی ہے۔ اس کے برخلاف، اسلام کے ظہور سے لے کر خلافتِ راشدہ کے دور تک، بلالحاظ مسلم وکافر ومشرک، عام خوش حالی کا دور تھا، کیونکہ ہر چھوٹے بڑے، اجیر ومستاجر کو اپنی محنت کا حق ادا کرنے والا نظام رائج تھا — تاریخ گواہ ہے کہ اس دور میں صدقات کا مال قبول کرنے والا کوئی شخص میسر نہ آتا تھا۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 8 - معاشی نظام کا اصل منشا اور مقصد
تفصیل دیکھیں
کتابکسی بھی ''معاشی نظام'' کی صحت کا معیار محض اس کے ظاہری قواعد و ضوابط نہیں بلکہ اس کے پیچھے کارفرما ذہنیت اور منشا بھی ہے۔ اگر نظام کا محرک محض زیادہ سے زیادہ نفع کمانا ہو (سرمایہ دارانہ نظریہ، جس کی زیرِ اثر کارپوریشنیں اربوں کماتی ہیں جبکہ عام آبادی افلاس واحتیاج کا شکار رہتی ہے) تو بظاہر درست نظر آنے والے اصول بھی فاسد ہوجاتے ہیں۔ اسلام کے معاشی نظام کا بانی ومؤسس اس کے برعکس صرف انسانی حاجات کے رفع اور افراد واجتماع کی ضروریات کی تکمیل کو منشا بناتا ہے، نہ کہ نفع در نفع کی دوڑ کو۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 8-10
- اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے کے عقیدہ اور اس کی وضاحت۔
تفصیل دیکھیں
کتابرزق اور معاش کا حقیقی تعلق صرف ذاتِ الٰہی سے وابستہ ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی ہر ذی روح کا رازق و ضامن ہے — قرآن کریم کی متعدد آیات (وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقہا، وفی السماء رزقکم، ان اللہ ہو الرزاق ذوالقوۃ المتین وغیرہ) اس عقیدے کی بنیاد ہیں۔ رزق میں فطری تفاوت کے باوجود، جو زیادہ رزق پاتا ہے وہ دراصل اس زائد حصے کا امانت دار ہے، نہ کہ مالکِ مطلق — جیسا کہ شیخ سعدیؒ نے کہا کہ غیب کے خزانے کا نگہبان بنایا گیا شخص خود اس پر بخل نہ کرے۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 11-14 - قرآن حکیم کے بیان کردہ اصول معاشیات۔
تفصیل دیکھیں
کتابقرآن حکیم کی یہ اپنی اصولی روش رہی ہے کہ اس نے عبادات، معاشرتی معاملات اور سیاسیات کی طرح معاشیات میں بھی صرف بنیادی اصول اور کلیات کا مختصر بیان کیا، اور ان کی تفصیلات وتشریحات کو احادیثِ نبویہؐ اور ان سے مستنبط فقہی احکام کے حوالے کردیا۔ یہی وہ چار بنیادی اصول ہیں جو ذیل میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 11 - پہلا اصول: حق معیشت میں مساوات اور اس کا مفہوم
تفصیل دیکھیں
کتابپہلا اصول یہ ہے کہ حقِ معیشت میں تمام انسان مساوی اور برابر کے حق دار ہیں — رزق کے حصول میں فطری تنوع (Natural Diversity) کے باوجود، اللہ تعالیٰ نے کسی فرد کو بھی حقِ معیشت سے محروم نہیں رکھا۔ اس اصول کے ثبوت میں قرآن کریم کی متعدد آیات پیش کی گئی ہیں (جیسے وجعلنا لکم فیہا معایش، ہو الذی خلق لکم مافی الارض جمیعا وغیرہ) جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ زمین کے وسائل بلاامتیاز ہر جان دار کی معیشت کے لیے مہیا کیے گئے ہیں۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 11-14 - شیخ البند کا نقطہ نظر اور علامہ ابن حزم کا موقف
تفصیل دیکھیں
کتابشیخ الہند مولانا محمود حسنؒ سورۃ البقرہ کی آیت ''ہو الذی خلق لکم مافی الارض جمیعا'' کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ دنیا کی تمام اشیاء بنی آدم کی مشترکہ ملکیت ہیں، اور انفرادی ملکیت صرف نزاع ختم کرنے کے لیے ایک عارضی انتظام ہے — اصل میں سب کا حق ان چیزوں پر باقی رہتا ہے۔ اسی طرح مشہور محدث علامہ ابن حزم ظاہریؒ اپنی کتاب ''المحلی'' میں لکھتے ہیں کہ ہر بستی کے اہلِ ثروت پر فقراء وغربا کی معاشی کفالت فرض ہے، اور اگر بیت المال کافی نہ ہو تو حاکم انہیں کھانے، پہننے اور رہنے جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی پر مجبور کر سکتا ہے — حضرت ابوسعید خدریؓ، حضرت عمرؓ، حضرت ابوعبیدہؓ اور محمد بن حنفیہؒ سے منقول روایات اس موقف کی تائید کرتی ہیں۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 15-18 - دو بنیادی شبہات
تفصیل دیکھیں
کتابحقِ مساوات کے اس اصول پر عام طور پر دو بنیادی شبہات پیش کیے جاتے ہیں: پہلا یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود بعض کو رزق میں بعض پر فضیلت دی ہے تو کیا یہ مساوات کے اصول سے متصادم نہیں؟ دوسرا یہ کہ اگر حقِ معیشت میں سب مساوی ہیں تو غربت وامارت کا فرق سرے سے پیدا ہی کیوں ہو؟ ان دونوں شبہات کا جواب عالمِ تکوین اور عالمِ تشریع کے فرق میں مضمر ہے — تکوینی تفاوت محض ایک آزمائش اور معاشی ترقی کا فطری ذریعہ ہے، جبکہ تشریعی نظام (زکوٰۃ، انفاق) اسی فطری تفاوت کو حقِ مساوات کے تابع رکھتے ہوئے متوازن کرتا ہے۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 18-21 - غربت اور امارت کے متعلق ایک شبہ کا جواب
تفصیل دیکھیں
کتابیہ شبہ کہ فطری تفاوت کے باوجود غربت وامارت کیوں پیدا ہو، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحتِ عامہ اور حکمتِ بالغہ کی بنا پر امارت وغربت کے درجات پیدا کیے تاکہ صاحبِ ثروت اپنی زائد دولت کو غربا ومساکین کی فلاح کے لیے استعمال کرے — یہ دولت اس کے لیے رحمت ہے نہ کہ محض ذاتی ملکیت۔ اگر صاحبانِ ثروت خود اس ذمہ داری کو ادا نہ کریں تو خدا کے نائب (خلیفہ) ہونے کی حیثیت سے حکومت انہیں بذریعہ قانون اس پر مجبور کر سکتی ہے اور بیت المال کے ذریعے حقِ مساوات کی تکمیل کر سکتی ہے۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 18-21 - عالم تکوین اور عالم تشریع کا فرق
تفصیل دیکھیں
کتاب''عالمِ تکوین'' سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ نظام ہے جو خالصتاً اس کی اپنی ذات سے متعلق ہے اور جس میں کسی کی دخل اندازی کی گنجائش نہیں (جیسے رزق میں فطری تفاوت پیدا کرنا)، جبکہ ''عالمِ تشریع'' وہ قانونِ الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے کائنات کی کامرانی کے لیے وضع فرمایا اور جس کی تعمیل ذی عقل مکلف انسان کے ذمے ہے۔ ان دونوں کا فرق سمجھے بغیر غربت وامارت سے متعلق مغالطے (وسوسے) جنم لیتے ہیں۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 19-20 - دوسرا اصول: درجات معیشت میں فطری تفاوت، مفہوم اور حکمت
تفصیل دیکھیں
کتابدوسرا اصول یہ ہے کہ اگرچہ حقِ معیشت میں سب مساوی ہیں، مگر درجاتِ معیشت میں فطری تفاوت ایک حقیقت ہے — یہ تفاوت اس لیے ضروری نہیں کہ سب کے لیے یکساں سامانِ معیشت ہو، بلکہ اس لیے کہ انسان اپنی محنت وصلاحیت کے مطابق قومی وسائل سے فائدہ اٹھا کر ترقی کریں۔ تاہم یہ تفاوت اعتدال پر قائم رہنا چاہیے تاکہ کسی پر ظلم نہ ہو، اور زکوٰۃ ودیگر مالی فرائض کے ذریعے حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ زیادہ کمانے والوں کی دولت سے عام لوگوں کی ضروریات پوری کرے۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 24-25 - سرمایہ داری نظام کے طبقاتی اصول کا جائزہ
تفصیل دیکھیں
کتابدرجاتِ تفاوت کا درست مفہوم یہی ہے کہ یہ فرق محنت وصلاحیت کے فطری امتیاز تک محدود رہے، جوچ وظلم پر مبنی نہ ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام کا طبقاتی اصول اس درست فہم سے انحراف کی مثال ہے — جب معاشی درجات کا یہ فطری تفاوت اعتدال سے ہٹ کر ایسا طبقاتی نظام وجود میں لے آئے جس میں سرمایہ پرست لوگ دوسرے محنت کشوں کا استحصال کریں، تو یہ اسلامی اصول کی روح کے خلاف اور غلط ہے۔
حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 24-26
حق معیشت میں سب مساوی ہیں لیکن درجات معیشت میں تفاوت ہے اور حق معیشت میں مساوات کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی عطا کردہ تمام چیزوں سے فائدہ اٹھانے کا ہر جاندار کو برابر کا حق ہے۔
حق معیشت اور درجات معیشت کا درست ادراک اور اس کے قیام کی جدوجہد۔
- 1- قرآنی اصول معاشیات از مولانا محمد حفظ الرحمٰن سیوہاروی، مطبوعہ شاہ ولی اللہ میڈیا فاؤنڈیشن
- 2- مجلہ شعور آگہی اپریل تا جون 2019
- 3- خطبات ملتان، خطبہ نمبر 4، ص:249 تا312