9

احتکار اور اکتناز کی ممانعت

سمسٹر 3 — لیکچر 9
دولت اور سرمایہ داری کے وہ اصول قابل تقسیم قطعاً نہیں جن میں احتکار اور اکتناز کی کوئی صورت بھی سکے اور ان سے دولت وکنز پھیلنے اور تقسیم ہونے کی بجائے سمٹ کر خاص حلقوں اور مخصوص طبقوں میں محدود ہو جائے اور اس طرح عام انسانی زندگی کو مفلوک الحال بنا دے۔ دولت وثروت، جمع وذخیرہ کے لیے نہیں بلکہ صرف خرچ کے لیے ہے اور اس کا مصرف ذاتی وانفرادی تعیش کی بجائے انفرادی واجتماعی ضروریات کی کفالت ہے۔ (ص:15،17)
مقصد
  • قرآنی اصول معاشیات کے تیسرے اصول کی وضاحت
دائرہ کار
  • قرآنی تعلیمات کی روشنی میں
بنیادی نظریہ
معاشی عدل و مساوات
نکات
  1. احتکار واکتناز کا مفہوم۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    تیسرا اصول یہ ہے کہ دولت اور سرمایہ کو ذخیرہ کرکے (احتکار) یا محض جمع کرکے رکھنا (اکتناز) قطعاً ناقابلِ تسلیم ہے — دولت کا سمٹ کر مخصوص حلقوں یا طبقوں میں محدود ہوجانا اور اس کا گردش وتقسیم نہ ہونا انسانی زندگی کو مفلوک الحال بنا دیتا ہے۔ اس کی حرمت کے ثبوت میں قرآن کریم کی وہ آیات پیش کی گئی ہیں جو سونا چاندی جمع کرکے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی خبر دیتی ہیں، اور یہ کہ دولت صرف مندوں (امیروں) ہی میں گردش نہ کرے بلکہ فقراء ومساکین تک بھی پہنچے۔ جمہور علماء کے نزدیک زکوٰۃ ودیگر مالی فرائض ادا کرنے اور اپنی وعیال کی بنیادی ضروریات (حاجاتِ اصلیہ) پورا کرنے کے بعد بچ جانے والی دولت کا پاس رکھنا احتکار میں شامل ہے، جبکہ حضرت ابوذر غفاریؓ کا زیادہ سخت موقف یہ تھا کہ نفقہ سے زائد ہر درہم جمع رکھنا حرام ہے۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 27-29
  2. اسلام کا قانون تقسیم دولت ورفاہیت عامہ۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    اسلام کا قانونِ تقسیمِ دولت اس بات پر مبنی ہے کہ دولت کا سمٹ کر چند ہاتھوں میں مقید رہنا اس کی روح کے خلاف ہے — زکوٰۃ وصدقات کے مصارف کی قرآنی فہرست (فقراء، مساکین، عاملین، مؤلفۃ القلوب، غلاموں کی آزادی، مقروضوں کا قرض، فی سبیل اللہ اور مسافروں) خود اس بات کی دلیل ہے کہ دولت کا رخ عام رفاہیتِ عامہ کی طرف موڑا جائے، نہ کہ وہ چند مالداروں ہی کے درمیان گردش کرتی رہے۔ چوتھے اصول کی بنیاد بھی یہی ہے کہ میراث وغیرہ کے قوانین کا مقصد دولت جمع کرنا نہیں بلکہ اس کی تقسیم اور تنسیخ (پھیلاؤ) ہے تاکہ اس کا فائدہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک وسیع ہو۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 27-28، 30
  3. اسلام کا قانون انفاق:
    • aزکوٰۃ کے علاوہ دیگر مالی فرائض: 1) زوج، زوجہ، زوجہ کی خادمہ بشرطیکہ خاند خوشحال ہو، نابالغ یا معذور اولاد 2) والدین، دادا، دادی، نانا، نانی جبکہ وہ محتاج ہوں خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں 3) ذوی الارحام یعنی ماں کی طرف سے رشتہ دار جبکہ وہ نابالغ ہوں یا محتاج ہوں یا بالغ محتاج عورت ہو یا معذور اور اندھا بالغ لڑکا 4) نوکروں اور نوکرانیوں کا کھانا و نفقہ (حجۃ اللہ البالغہ، تربیت الملایک، جلد 2، صفحہ 378 تا 381)
    • bجمہور امت کا موقف اور حضرت ابوذر غفاریؓ کا نقطہ نظر
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    اسلام کا قانونِ انفاق زکوٰۃ کے علاوہ دیگر مالی فرائض کو بھی لازم قرار دیتا ہے۔ اس ضمن میں دو زاویے قابلِ ذکر ہیں: پہلا یہ کہ نماز واجب اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، مرنے سے پہلے راہِ خدا میں دینا، اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالنا — یعنی محض جمع کرکے بیٹھ رہنا — قرآن کریم کی نصوص سے ثابت ہے۔ دوسرا یہ کہ اس واجب انفاق کی حدود میں فقہاء کے مابین اختلاف ہے: جمہور کے نزدیک حاجاتِ اصلیہ اور فرائض کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والا مال ہی اس کا دائرہ ہے، جبکہ حضرت ابوذر غفاریؓ اسے حاجت سے زائد ہر درہم پر واجب سمجھتے تھے۔ نوٹ: زیرِ مطالعہ کتاب ''قرآنی اصول معاشیات'' اور مجلہ ''شعور وآگہی'' میں انفاق کے مستحقین کی تفصیلی فہرست (زوج وزوجہ، والدین، ذوی الارحام وغیرہ، بحوالہ حجۃ اللہ البالغہ) دستیاب نہیں تھی — یہ تفصیل غالباً تیسرے مصدر ''خطباتِ ملتان'' سے ماخوذ ہے جو راقم کے پاس موجود نہیں، اس لیے اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 28-29 (سوم ماخذ خطباتِ ملتان دستیاب نہیں)
  4. موجودہ دور کی اکتنازی واحتکاری معیشت کا جائزہ۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    موجودہ دور کی معیشت میں احتکار واکتناز کی وہی صورتیں سرمایہ دارانہ نظام کی شکل میں رائج ہیں جہاں دولت اور وسائل مخصوص طبقے کے قبضے میں سمٹ آئے ہیں اور مارکیٹ کی ترقی کے باوجود عام آبادی خوش حالی سے محروم ہے۔ کتاب کے مطابق اسلام کا معاشی نظام اس صورتِ حال کا حل اس طرح پیش کرتا ہے کہ نہ تو مارکسی اشتراکیت کی طرح طبقاتی جنگ چھیڑی جائے اور نہ سرمایہ دارانہ نظام کی طرح دولت ووسائل کو مخصوص طبقے تک محدود رہنے دیا جائے، بلکہ زکوٰۃ، انفاق اور احتکار کی ممانعت کے ذریعے دولت کی گردش کو یقینی بنایا جائے۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 26، 37
حاصلِ تعلیم

احتکاری واکتنازی معیشت کا شعوری ادراک

عملی تقاضے

سامراجیت سے آزاد قومی معاشی اداروں کی تشکیل۔

ماخذ:
  • 1- قرآنی اصول معاشیات از مولانا محمد حفظ الرحمٰن سیوہاروی، مطبوعہ شاہ ولی اللہ میڈیا فاؤنڈیشن
  • 2- مجلہ شعور آگہی اپریل تا جون 2019
  • 3- خطبات ملتان، خطبہ نمبر 4، ص:249 تا312
اضافی مواد (آڈیو)

ابھی تک کوئی مواد اپ لوڈ نہیں ہوا۔