نکتے کی تفصیل — لیکچر 9: احتکار اور اکتناز کی ممانعت

احتکار واکتناز کا مفہوم۔

موجودہ خلاصہ
کتاب

تیسرا اصول یہ ہے کہ دولت اور سرمایہ کو ذخیرہ کرکے (احتکار) یا محض جمع کرکے رکھنا (اکتناز) قطعاً ناقابلِ تسلیم ہے — دولت کا سمٹ کر مخصوص حلقوں یا طبقوں میں محدود ہوجانا اور اس کا گردش وتقسیم نہ ہونا انسانی زندگی کو مفلوک الحال بنا دیتا ہے۔ اس کی حرمت کے ثبوت میں قرآن کریم کی وہ آیات پیش کی گئی ہیں جو سونا چاندی جمع کرکے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی خبر دیتی ہیں، اور یہ کہ دولت صرف مندوں (امیروں) ہی میں گردش نہ کرے بلکہ فقراء ومساکین تک بھی پہنچے۔ جمہور علماء کے نزدیک زکوٰۃ ودیگر مالی فرائض ادا کرنے اور اپنی وعیال کی بنیادی ضروریات (حاجاتِ اصلیہ) پورا کرنے کے بعد بچ جانے والی دولت کا پاس رکھنا احتکار میں شامل ہے، جبکہ حضرت ابوذر غفاریؓ کا زیادہ سخت موقف یہ تھا کہ نفقہ سے زائد ہر درہم جمع رکھنا حرام ہے۔

حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 27-29