10

سرمایہ اور محنت میں عادلانہ توازن

سمسٹر 3 — لیکچر 10
خرید و فروخت اور لین دین کے معاملات میں کوئی ایسا معاملہ جائز نہیں جس سے فاسد نظام معیشت بروئے کار آئے یا اس کو کسی قسم کی اعانت پہنچے یا محنت اور معیشت کے لیے جائز جدوجہد بے حقیقت ہو کر رہ جائے۔ اور اس طرح محنت اور سرمایہ کے درمیان اعتدال اور توازن باقی نہ رہے۔ نیز انسان مدنی الطبع واقع ہوئے ہیں تو ان کی معاشی زندگی باہمی تعاون واشتراک کے بغیر ناممکن ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس تعاون باہمی واشتراک عمل کو واجب کر دیا۔ (ص:18،20)
مقصد
  • قرآنی اصول معاشیات کے چوتھے اصول کی وضاحت
دائرہ کار
  • قرآنی تعلیمات کی روشنی میں
بنیادی نظریہ
معاشی عدل و مساوات
نکات
  1. پیدائش دولت کے مبینہ عوامل۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    پیدائشِ دولت کے مبینہ عوامل پر گفتگو کرتے ہوئے کتاب واضح کرتی ہے کہ معیشت کے حصول کے تین بنیادی، عملی ذرائع زراعت، تجارت اور صنعت وحرفت ہیں۔ قدرتی وسائل (اموالِ مباح) خود بخود دولت نہیں بنتے، بلکہ انسان چرائی کے ذریعے مویشیوں کی افزائشِ نسل کرکے، زمین کی سیرابی وکاشت کاری کرکے، یا تجارت وصنعت کے ذریعے ان قدرتی وسائل کو ایک شخص کی مملوکہ اور متعین دولت میں تبدیل کرتا ہے — یعنی دولت کی پیدائش کسی خودکار قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی محنت وتدبیر کا مرہونِ منت ہے۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 32-33
  2. سرمایہ اور محنت اصل عاملین پیدائش دولت
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک پیدائشِ دولت کے اصل عاملین محنت اور سرمایہ ہیں۔ کوئی شخص کسی قدرتی (مباح) شے پر محنت و مشقت کے ذریعے سبقت لے جا کر اسے اپنے قبضے میں لیتا ہے، یا میراث کے ذریعے، یا پھر جائز طریقوں (خرید وفروخت، لین دین، باہمی رضامندی کے معاملات) سے دوسرے کے مملوکہ مال کو حاصل کرتا ہے۔ ان دونوں (محنت اور سرمایہ) کے سوا دولت پیدا کرنے کا کوئی تیسرا جائز راستہ کتاب میں تسلیم نہیں کیا گیا۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 32
  3. سرمایہ کے استحصالی کردار کا جائزہ۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    سرمائے کے استحصالی کردار کا جائزہ لیتے ہوئے، چوتھے اصول (سرمایہ ومحنت میں عادلانہ توازن) کے تحت وہ تمام تجارتی معاملات ناجائز قرار دیے گئے ہیں جن میں سرمایہ اور محنت کے مابین توازن ختم ہوکر سرمائے کی طرف جھک جائے — سود کی ہر قسم، جوا، اور احتکار واکتناز کی تمام ظاہری وپوشیدہ شکلیں اسی زمرے میں آتی ہیں۔ قرآن کریم کی رو سے اللہ تعالیٰ نے خرید وفروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، اور سودی کاروبار کو نمو نہیں دیتا بلکہ مٹا دیتا ہے۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 30-31
  4. سرمایہ کے استحصالی قوت کا ایک پہلو۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    سرمائے کی استحصالی قوت کا ایک نمایاں پہلو سود (ربا) ہے، جس میں سرمایہ دار اپنی دولت کی بنیاد پر، بغیر کسی مساوی محنت یا خطرہ مول لیے، مقروض کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ قرآن کریم نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کا کاروبار مٹا دیتا ہے اور صدقات وخیرات کو ترقی دیتا ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی ناشکرگزار گناہ گار کو دوست نہیں رکھتا — یہ آیات سرمائے کے یک طرفہ استحصالی کردار کی مذمت میں نازل ہوئیں۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 30-31
  5. سرمایہ کی اصل حقیقت اور اس کا تعاونی کردار۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    سرمائے کی اصل حقیقت اور اس کا تعاونی کردار یہ ہے کہ اجتماعی ومعاشی زندگی میں تعاونِ باہمی ایک فطری اور ناگزیر ضرورت ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسے واجب قرار دیا ہے۔ سرمایہ بجائے استحصال کے، صحیح طریقوں پر تعاونِ باہمی کی صورت میں مفید کردار ادا کرتا ہے — مثلاً ایک شخص تجارتی مال کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتا ہے، دوسرا شخص اپنی محنت کے ذریعے مال کی فروخت میں سہولت کاری (Sale) کرتا ہے، یا کوئی نئی ایجاد یا کاریگری کے ذریعے دوسروں کے سرمائے کو بہتر قیمت اور صنعت وحرفت کا ذریعہ بناتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں تعاونِ باہمی کے بغیر معاشی زندگی استوار نہیں ہوسکتی۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 32-35
  6. سرمایہ کے استحصالی کردار کا تجزیہ
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    سرمائے کے استحصالی کردار کا گہرا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصل مسئلہ رضامندی کی نوعیت میں ہے — جوا جیسے کاروبار میں تعاون بظاہر موجود ہوتا ہے، اور سود جیسے معاملات میں تعاون ظاہر تو نظر آتا ہے مگر حقیقت میں یہ زبردستی کا تعاون ہوتا ہے، حقیقی رضامندی نہیں۔ ایک مفلس ونادار محنت کش کو اپنی معاشی پریشانیوں کی بنا پر جن معاملات کو قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، ان میں اس کی رضامندی حقیقی رضامندی ہرگز نہیں کہلائی جاسکتی، اور یہی وہ نکتہ ہے جو سرمائے کے استحصالی کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 34
  7. محنت، حقیقی اور اصل پیدائش دولت
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اپنی کتاب ''حجۃ اللہ البالغہ'' کے باب ''ابواب ابتغاء الرزق'' میں سب سے پہلے محنت کی عظمت واہمیت پر گفتگو کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا کیا تو زمین میں ان کی معاشی حیات کے لیے سب کچھ سامان مہیا کرکے سب کے لیے مباح اور عام کردیا، لیکن جب لوگ اس (مباح مال) سے منتفع ہونے میں باہم ٹکرانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جو شخص محنت ومشقت کے ذریعے کسی قدرتی چیز کو سبقت لے کر اپنے قبضے میں کرلے، وہی اس کا حق دار ہے — یعنی محنت ہی دولت کی حقیقی اور اصل پیدائش کا ذریعہ ہے۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 31-32
  8. تعاون باہمی کا اصول۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    تعاونِ باہمی کا اصول امام شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک اجتماعی ومعاشی زندگی کی بنیاد ہے — چونکہ انسان فطری طور پر مدنی الطبع (اجتماعیت پسند) ہے، اس لیے معاشی زندگی باہمی تعاون واشتراکِ عمل کے بغیر ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہر فرد پر واجب قرار دیا ہے، اگرچہ بعض حالات کسی شخص کو اس تعاون سے معذور بھی کرسکتے ہیں۔ تاہم یہ تعاون صحیح اور محفوظ طریقوں پر ہونا چاہیے تاکہ ایک فریق دوسرے کو نقصان نہ پہنچائے۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 32
  9. عاملین پیدائش دولت اور امام شاہ ولی اللہ کا نقطہ نظر۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نقطہ نظر کے مطابق پیدائشِ دولت کے عاملین کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کا اقتصادی نظام محنت (سبقت و ملکیت کا حصول)، میراث، اور جائز باہمی تعاون (تجارت، اجرت، صنعت) — ان تین ذرائع کے سوا دولت کے حصول کا کوئی اور راستہ تسلیم نہیں کرتا، اور مجبور محنت کش سے حاصل کردہ نام نہاد ''رضامندی'' کو حقیقی رضامندی نہیں سمجھتا، جیسا کہ سود اس کی واضح مثال ہے۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 31-34
  10. شاہ صاحب کی نظر میں محنت کی عظمت
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    شاہ صاحبؒ کی نظر میں محنت کی عظمت یہ ہے کہ وہی پیدائشِ دولت کا اصل الاصول ہے — اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لیے زمین کے تمام وسائل مباح اور مشترک بنائے، مگر جب ان وسائل پر تصرف کا حق طے کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے محنت و مشقت کے ذریعے سبقت لے جانے ہی کو ملکیت کے حصول کا معیار قرار دیا، نہ کہ محض سرمائے کی موجودگی کو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کا اقتصادی نظام محنت کش کے استحصال کو ہر صورت میں مسترد کرتا ہے۔

    حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 31-32
حاصلِ تعلیم

معاشرے کی معاشی ترقی اسی میں مضمر ہے کہ سرمایہ اور محنت دونوں کے مابین عادلانہ توازن کو مبنی تعاون باہمی کے انداز سے فروغ دیا جائے کہ اس پر ملکی نظام معیشت کا ڈھانچہ استوار ہو سکے۔

عملی تقاضے

عاملین پیدائش کے حوالے سے رسوخ پیدا کرنا اور دلائل جمع کرنا۔

ماخذ:
  • 1- قرآنی اصول معاشیات از مولانا محمد حفظ الرحمٰن سیوہاروی، مطبوعہ شاہ ولی اللہ میڈیا فاؤنڈیشن
  • 2- مجلہ شعور آگہی اپریل تا جون 2019
  • 3- خطبات ملتان، خطبہ نمبر 4، ص:249 تا312
اضافی مواد (آڈیو)

ابھی تک کوئی مواد اپ لوڈ نہیں ہوا۔