نکتے کی تفصیل — لیکچر 10: سرمایہ اور محنت میں عادلانہ توازن

سرمایہ کی اصل حقیقت اور اس کا تعاونی کردار۔

موجودہ خلاصہ
کتاب

سرمائے کی اصل حقیقت اور اس کا تعاونی کردار یہ ہے کہ اجتماعی ومعاشی زندگی میں تعاونِ باہمی ایک فطری اور ناگزیر ضرورت ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسے واجب قرار دیا ہے۔ سرمایہ بجائے استحصال کے، صحیح طریقوں پر تعاونِ باہمی کی صورت میں مفید کردار ادا کرتا ہے — مثلاً ایک شخص تجارتی مال کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتا ہے، دوسرا شخص اپنی محنت کے ذریعے مال کی فروخت میں سہولت کاری (Sale) کرتا ہے، یا کوئی نئی ایجاد یا کاریگری کے ذریعے دوسروں کے سرمائے کو بہتر قیمت اور صنعت وحرفت کا ذریعہ بناتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں تعاونِ باہمی کے بغیر معاشی زندگی استوار نہیں ہوسکتی۔

حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 32-35