نکتے کی تفصیل — لیکچر 9: احتکار اور اکتناز کی ممانعت

اسلام کا قانون انفاق:

موجودہ خلاصہ
کتاب

اسلام کا قانونِ انفاق زکوٰۃ کے علاوہ دیگر مالی فرائض کو بھی لازم قرار دیتا ہے۔ اس ضمن میں دو زاویے قابلِ ذکر ہیں: پہلا یہ کہ نماز واجب اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، مرنے سے پہلے راہِ خدا میں دینا، اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالنا — یعنی محض جمع کرکے بیٹھ رہنا — قرآن کریم کی نصوص سے ثابت ہے۔ دوسرا یہ کہ اس واجب انفاق کی حدود میں فقہاء کے مابین اختلاف ہے: جمہور کے نزدیک حاجاتِ اصلیہ اور فرائض کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والا مال ہی اس کا دائرہ ہے، جبکہ حضرت ابوذر غفاریؓ اسے حاجت سے زائد ہر درہم پر واجب سمجھتے تھے۔ نوٹ: زیرِ مطالعہ کتاب ''قرآنی اصول معاشیات'' اور مجلہ ''شعور وآگہی'' میں انفاق کے مستحقین کی تفصیلی فہرست (زوج وزوجہ، والدین، ذوی الارحام وغیرہ، بحوالہ حجۃ اللہ البالغہ) دستیاب نہیں تھی — یہ تفصیل غالباً تیسرے مصدر ''خطباتِ ملتان'' سے ماخوذ ہے جو راقم کے پاس موجود نہیں، اس لیے اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔

حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 28-29 (سوم ماخذ خطباتِ ملتان دستیاب نہیں)