7

دینی انقلاب کے شعوری تقاضے

سمسٹر 3 — لیکچر 7
علماء ہند کے تفقہ فی الدین کا کرشمہ تھا کہ ہندوستان کی مختلف قوموں کے مختلف مذاہب اور مذہب قوموں کو ایک سیاسی محور پر جمع ہوئے۔ ایک صحیح معاشرتی انقلاب صرف شعوری طور پر وجود میں آسکتا ہے۔ اور آج کے صنعتی دور میں انقلاب ایک علم و فن کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج مذہب اور صحیح روحانیت لامحدود نجی ملکیت اور تفوق مدارج کی آلائشوں سے پاک ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جس کا نام دینی انقلاب ہے، جس میں مسلمان سوسائٹی میں بے دینی کا پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ مذہبی پیشوا اس دور کے معاشرتی سوالات پر ملتفت نہیں ہوتے۔ (ص:4،8،13)
مقصد
  • انقلاب کے غیر شعوری رویوں کا رد اور شعوری تقاضوں کی وضاحت
دائرہ کار
  • بیسویں صدی عیسوی کے حالات کے تناظر میں
بنیادی نظریہ
منظم شعوری مشاورتی عمل
نکات
  1. علماء کی باشعور اجتماعیت کا تعارف۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    دہلی صدیوں سے مسلمانوں کی تہذیب و تمدن اور سیاسی و معاشی فکر کا گہوارہ رہی ہے، اور علمائے ہند نے اسی روایت میں دینی بصیرت کو ملک کی سیاسی و تہذیبی زندگی کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ایک باشعور اجتماعیت کی بنیاد رکھی۔ شاہ عبدالعزیزؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی جدوجہدِ آزادی سے لے کر 1919ء میں جمعیۃ علماء ہند کے قیام تک، علماء نے حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی قیادت میں ایک ایسی جماعت تشکیل دی جو نہ خود مختار تھی نہ محض کانگریس سے وابستہ، بلکہ صف اول میں رہ کر جدوجہدِ آزادی میں شریک ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے تہذیبی و مذہبی حقوق کی حفاظت کو بھی اپنی ذمہ داری بنایا — چنانچہ کانگریس کے کراچی اجلاس (1931ء) میں اقلیتوں کے حقوق کو محض تحفظات نہیں بلکہ ”بنیادی حقوق“ کا درجہ دلوایا۔ حکیم اجمل خان، مولانا محمد علی جوہر اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسی شخصیات کا روحانی فیضان آج بھی اسی اجتماعیت کو کارفرما رکھے ہوئے ہے۔

    حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 5-9
  2. انقلاب کا مفہوم (شعوری انقلاب کی اہمیت)۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    انقلاب کا لغوی معنی ایک بڑی تبدیلی ہے، لیکن تاریخی و اصطلاحی معنوں میں انقلاب سے مراد وہ سیاسی، معاشی اور سماجی تبدیلی ہے جو رائج نظام تمدن کو بدل کر بالکل نیا نظام وجود میں لاتی ہے۔ یہ تبدیلی اتفاقی نہیں بلکہ انسان کے اپنے ماحول کے ساتھ شعوری یا غیرشعوری تعامل سے جنم لیتی ہے۔ آج دنیا (چین، اسپین، فلسطین) اسی نوعیت کی انقلابی فضا سے گزر رہی ہے، اور یہ ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کا مشترکہ تاریخی تقاضا ہے کہ وہ محض حکمرانی کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک درست ساجی و سیاسی نظام کے قیام کے لیے مل کر ایک مکمل، باشعور اور مرتب انقلاب برپا کریں — بے شعوری بہاؤ کے بجائے ایک واضح فکری پروگرام کے تحت۔

    حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 8-10
  3. عالم اسلام کو جمہوری انقلابی فکر و جہد سے علیحدہ رکھنے کی مغربی حکمت عملی کی وضاحت۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    عالمِ اسلام مراکش سے چین تک جغرافیائی طور پر پھیلا ہوا ہے، مگر مغربی استعمار نے صدیوں سے اسے متحد، جمہوری اور انقلابی فکر و جدوجہد سے الگ تھلگ رکھنے کی مسلسل کوشش کی ہے، آج بھی عراق، یمن، شام اور فلسطین جیسے ممالک مغربی سرمایہ داری کے زیرِاثر آزادی و اقتدار سے محروم ہیں۔ فسطائی اٹلی (مسولینی) اور نازی جرمنی نے عرب و مسلم رائے عامہ کو رجھانے کے لیے خلافتِ اسلامیہ کے حامی ہونے کا دکھاوا کیا (حتیٰ کہ نیورمبرگ کانفرنس میں عرب وفود کو بلایا گیا) — جبکہ ان کا اصل مقصد اپنے استعماری مفادات تھے۔ اسی طرح جاپان نے چیانگ کائی شیک کی حکومت کے مقابلے میں چینی مسلمانوں کو رجھانے کی کوشش کی، حتیٰ کہ ٹوکیو میں ایک مسجد و مدرسہ بھی قائم کیا۔ یہ سب فسطائیت و نازیت کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ظاہر کرکے عالمِ اسلام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی سامراجی سازشیں تھیں، جن کا مقصد مسلمانوں کی ”تہذیبی تقسیم“ کو گہرا کرنا تھا۔

    حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 11-13
  4. برعظیم کے مسلمان اور کل ہندی تحریک۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    ہندوستان کے مسلمان محض تعداد کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی ہونے کے علاوہ، ملک کی سیاسی اور ترقی پسند تحریکوں سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ برطانوی استعمار نے مسلمانوں کے سماجی طبقات کے تضاد سے فائدہ اٹھا کر انہیں تقسیم کیا — ایک طرف جاگیردار، رئیس اور سرکاری ملازم طبقہ جو برطانوی مفاد سے وابستہ ہے، اور دوسری طرف عام مسلم عوام جو معاشی زبوں حالی کا شکار ہیں؛ مسلمانوں کا محدود متوسط طبقہ اکثر ترقی پسند قومی تحریک کا ساتھ دیتا ہے۔ کانگریس کے کراچی اجلاس (1931ء) میں اقلیتوں کو ”بنیادی حقوق“ دیے جانے اور مزدور و کسان کے حق میں جاری پالیسی کو مصنف برعظیم کی جدوجہدِ آزادی کا حقیقی جواب قرار دیتے ہیں، اور مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اقلیتی جاگیردار نمائندوں کے بجائے کانگریس کے ترقی پسند کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ اتحاد کریں۔

    حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 13-16
  5. دور حاضر کی دینی بے تدبیر کا متوازن تجزیہ۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    آج مطالعۂ اسلام کا ایک محدود تصور رائج ہے جو اسے محض عبادات تک محدود رکھتا ہے اور اسلام کی تاریخی و سماجی تعلیمات کو موجودہ انسانی جدوجہد سے الگ کر دیتا ہے — حالانکہ اقبالؒ (1938ء) کے قول کے مطابق دینِ فطرت ایک زندہ، متحرک نفسیاتی و تاریخی عمل ہے جو ہر دور کے حالات کا ادراک کرتا ہے۔ نوجوان مسلمانوں میں ابھرنے والی ”بے دینی“ دراصل ایک غیر مرتب انقلابی جوش ہے جو ان استحصالی طبقوں کے خلاف ردعمل ہے جو مذہب کو محض پردہ بنا کر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں — یہ اسلام کا قصور نہیں بلکہ مسلم معاشرے کو اپنی حساس، اصلاح پسند دینی قیادت کی ضرورت ہے۔ خلافتِ راشدہ کا قیام بھی ایک خاص تاریخی منشا اور مخصوص حالات کا نتیجہ تھا؛ اس تاریخی منشا کو سمجھے بغیر کوئی مسلمان اسلام کی صحیح اجتماعی ہیئت کا درست تصور قائم نہیں کر سکتا۔

    حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 16-18
  6. سوشلزم کا ماضی، حال اور مستقبل کے تناظر میں تجزیہ۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    نوجوان مسلمان ایک مرتب و معین معاشرتی فلسفے کے بغیر ہی سوشلزم کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ سوشلزم دراصل تاریخِ انسانی کے تجزیے پر مبنی ایک نیا فلسفہ اور سیاسی و معاشی آزادی کا پروگرام ہے، جس کی علمی و تاریخی روایت علامہ ابن خلدونؒ (م 1406ء) سے کارل مارکس (م 1883ء) تک چلی آتی ہے۔ مارکسی معاشیات نے استحصال کو بے نقاب کر کے محکوم طبقات کو تاریخی جدوجہد پر آمادہ کیا، جس سے بیسویں صدی میں سوویت نظام وجود میں آیا۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ نہ اس تجربے کو کلیتاً رد کرنا درست ہے نہ اسے بلا تنقید قبول کرنا؛ ہندوستان کے سوشلسٹ خود کسی خاص عقیدے کو نہیں بلکہ مکمل آزادی کے پروگرام کو پیش کرتے ہیں۔ سوشلسٹوں کی مذہبی پالیسی لازماً مذہب مخالف نہیں — پنڈت نہرو کی 1936ء کی کانگریس صدارت میں مذہبی آزادی کی حمایت اور چینی کمیونسٹوں کا چینی مسلمانوں کے ساتھ حالیہ نرم رویہ اس کی مثالیں ہیں۔

    حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 18-19
  7. مذہبی بنیادوں پر سیاسی تنظیم کے مضمرات کا جائزہ۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    فلسطین اس بات کی مثال ہے کہ مذہبی و فرقہ وارانہ سیاست کو سامراجی طاقتیں کس طرح اپنے مفاد میں استعمال کرتی ہیں — برطانیہ نے صیہونی و بین الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی عرب مخالف پالیسیوں کو یکسر تبدیل کر دیا (جبری فوجی بھرتی سے استثنیٰ، قرضوں کی معافی، مسلم فوج کی تشکیل، اور تمام اسلامی فرقوں کو مکمل مذہبی آزادی)، جبکہ ایڈگر سنو کی ”ریڈ سٹار اوور چائنا“ چینی مسلمانوں کے غیر ملکی طاقتوں کے خلاف اتحاد کی مثبت مثال پیش کرتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کو فرقہ وارانہ بنیاد پر الگ تنظیم بنانی چاہیے؟ مصنف کے نزدیک ایسی تنظیم دراصل جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور برطانوی سامراج کے مفاد میں ہوگی جو مسلمانوں کی تفریق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے بجائے عملی تجویز یہ ہے کہ اردو ذریعہ تعلیم کے دن و رات کے مدارس قائم کیے جائیں اور مسلم امدادِ باہمی انجمنیں (Co-operative Societies) اور بینک قائم کیے جائیں تاکہ مسلمان سودی قرضے سے آزاد ہو سکیں۔

    حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 20-22
  8. سرد جنگ کے بعد کا دور اور باشعور افراد کی ذمہ داری۔
    تفصیل دیکھیں
    کتاب

    جمعیۃ العلماء ہند کی دوہری ذمہ داری ہے — مسلمانوں کے مذہبی و تہذیبی حقوق کا تحفظ، اور ساتھ ہی جدوجہدِ آزادی میں مکمل شرکت — اور یہ ذمہ داری ہر دور کے باشعور افراد پر منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اختتامی کلام میں مصنف نے تجویز دی کہ ترکی، مصر اور ایران کے علماء کی طرح ہمارے علماء بھی جدید علمی رجحانات کا مطالعہ کریں اور مذہبی تعلیمی نظام کی اصلاح کریں تاکہ دینی قیادت زمانے کے تقاضوں سے باخبر رہے۔ اختتامی پیغام سامعین کو دعوت دیتا ہے کہ وہ سیاسی انقلاب اور صحیح روحانی زندگی دونوں کو ایک ساتھ اپنائیں، تاکہ ہندوستان کے مسلمان ایک جامع، اصولی راہ پر گامزن ہو سکیں — یہ ذمہ داری کا وہی پیغام ہے جسے ہر نسل کو نئے سرے سے اپنانا ہے۔ (نوٹ: یہ خطبہ 1939ء میں دیا گیا؛ ماخذ کتاب میں لفظی طور پر ”سرد جنگ“ کا کوئی حوالہ نہیں، البتہ باشعور افراد کی ذمہ داری کا یہی اصول ہر بعد کے دور — بشمول سرد جنگ کے بعد کے دور — پر منطبق کیا جا سکتا ہے۔)

    حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 22-23
حاصلِ تعلیم
  • شعوری جدوجہد کا تعارف۔
عملی تقاضے
  • جماعت پیدا کر کے قومی انقلاب کے لیے بھرپور جدوجہد کرنا۔ درست تجزیہ کی صلاحیت پیدا کرنا۔
ماخذ:

شعوری تقاضے از مولانا شوکت اللہ انصاری، مطبوعہ شاہ ولی اللہ میڈیا فاؤنڈیشن

اضافی مواد (آڈیو)
C2S3T7.m4a
27.8 MB · 30:02
اپ لوڈ ہو گیا — ٹرانسکرپشن کا انتظار ہے
ویڈیو تیار
سب ٹائٹل دیکھیں

لوڈ ہو رہا ہے…