عالم اسلام کو جمہوری انقلابی فکر و جہد سے علیحدہ رکھنے کی مغربی حکمت عملی کی وضاحت۔
عالمِ اسلام مراکش سے چین تک جغرافیائی طور پر پھیلا ہوا ہے، مگر مغربی استعمار نے صدیوں سے اسے متحد، جمہوری اور انقلابی فکر و جدوجہد سے الگ تھلگ رکھنے کی مسلسل کوشش کی ہے، آج بھی عراق، یمن، شام اور فلسطین جیسے ممالک مغربی سرمایہ داری کے زیرِاثر آزادی و اقتدار سے محروم ہیں۔ فسطائی اٹلی (مسولینی) اور نازی جرمنی نے عرب و مسلم رائے عامہ کو رجھانے کے لیے خلافتِ اسلامیہ کے حامی ہونے کا دکھاوا کیا (حتیٰ کہ نیورمبرگ کانفرنس میں عرب وفود کو بلایا گیا) — جبکہ ان کا اصل مقصد اپنے استعماری مفادات تھے۔ اسی طرح جاپان نے چیانگ کائی شیک کی حکومت کے مقابلے میں چینی مسلمانوں کو رجھانے کی کوشش کی، حتیٰ کہ ٹوکیو میں ایک مسجد و مدرسہ بھی قائم کیا۔ یہ سب فسطائیت و نازیت کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ظاہر کرکے عالمِ اسلام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی سامراجی سازشیں تھیں، جن کا مقصد مسلمانوں کی ”تہذیبی تقسیم“ کو گہرا کرنا تھا۔