نکتے کی تفصیل — لیکچر 7: دینی انقلاب کے شعوری تقاضے

علماء کی باشعور اجتماعیت کا تعارف۔

موجودہ خلاصہ
کتاب

دہلی صدیوں سے مسلمانوں کی تہذیب و تمدن اور سیاسی و معاشی فکر کا گہوارہ رہی ہے، اور علمائے ہند نے اسی روایت میں دینی بصیرت کو ملک کی سیاسی و تہذیبی زندگی کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ایک باشعور اجتماعیت کی بنیاد رکھی۔ شاہ عبدالعزیزؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی جدوجہدِ آزادی سے لے کر 1919ء میں جمعیۃ علماء ہند کے قیام تک، علماء نے حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی قیادت میں ایک ایسی جماعت تشکیل دی جو نہ خود مختار تھی نہ محض کانگریس سے وابستہ، بلکہ صف اول میں رہ کر جدوجہدِ آزادی میں شریک ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے تہذیبی و مذہبی حقوق کی حفاظت کو بھی اپنی ذمہ داری بنایا — چنانچہ کانگریس کے کراچی اجلاس (1931ء) میں اقلیتوں کے حقوق کو محض تحفظات نہیں بلکہ ”بنیادی حقوق“ کا درجہ دلوایا۔ حکیم اجمل خان، مولانا محمد علی جوہر اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسی شخصیات کا روحانی فیضان آج بھی اسی اجتماعیت کو کارفرما رکھے ہوئے ہے۔

حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 5-9