6

سرمایہ پرستی کا رد اور اجتماعیت پر مبنی انقلاب کی اہمیت

سمسٹر 3 — لیکچر 6
قرآن حکیم کا یہ عام اسلوب بیان ہے کہ وہ رجعت پسند مخالفین کی ذہنی کیفیت بیان کرنے کیلئے ایک نمونے کا شخص لے لیتا ہے اور پھر اس کی ذہنیت کا تجزیہ کرتا ہے۔ ایسا شخص اپنی ٹیم کیساتھ مل کر اس بین الاقوامی انقلاب کی تحریک کی مخالفت میں زور لگاتا ہے ۔ اور کل انسانیت کی بہتری کیلئے کچھ بھی کرنا نہیں جانتا۔ ایسے شخص کی ترقی ، ترقئ معکوس ہوگی۔ بظاہر جتنا اونچا جائے گا اتنا ہی وہ زیادہ شدید عذاب میں مبتلا ہوگا۔ انقلاب لانے والی پارٹی اسے دنیا میں سزا دےگی اور جب دنیا سے کوچ کرے گا تو سیدھا جہنم میں ڈالا جائے گا۔(طبع2009،ص: 658 تا663)(طبع2019 جلد اول،ص:278 تا280)
مقصد
  • سرمایہ پرستی کا تجزیہ اور اس کے مفاسد کا ردّ اور اس کے خلاف انقلاب کی اہمیت
دائرہ کار
  • قرآنی مطالعہ کی روشنی میں
بنیادی نظریہ
غلبہ دین حق کا شعوری نظریہ
نکات
  1. سرمایہ پرستانہ ذہنیت کا تجزیہ اور اس کا انجام۔
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    سورہ مدثر کی آیت نمبر 11 سے قرآن حکیم سرمایہ پرستانہ ذہنیت کا تجزیہ ولید بن مغیرہ کی مثال سے کرتا ہے، جسے اللہ نے تنہا پیدا کیا، مال و دولت اور اولاد سے نوازا، مگر اس کے باوجود اس کی حرص کم نہ ہوئی اور وہ ہمیشہ "کیسے مزید بڑھے" کے چکر میں رہا۔ یہ طبقہ اپنے لیے کام کرنے والے مزدوروں اور کمزوروں کی فلاح کا نام تک نہیں لیتا اور اپنی دولت و اقتدار کو صرف اپنی ذات، خاندان اور قبیلے تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔ قرآن اس ذہنیت کو انقلاب کا سب سے بڑا مخالف (Reactionary) قرار دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ اپنے ظالمانہ اعمال کے نتیجے میں ہی جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوگا — یہ ظلم نہیں بلکہ خود اسی کے اعمال کا حاصل ہے۔ لیکچر میں اسی تجزیے کو موجودہ پاکستانی سماج پر منطبق کر کے دکھایا گیا کہ یہی سرمایہ پرست ذہنیت آج بھی امیر ترین طبقے میں کارفرما ہے۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 278-284؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  2. قرآن کی دعوت پیش قدمی۔
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    نبی اکرم ﷺ نے اپنی دعوت کے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ یہ تمام اقوامِ عالم میں پھیل کر ان پر غالب آ جائے گی، اور خود یہی وسعت اس دعوت کی سچائی کی دلیل ہے۔ قرآن انسانوں کو خبردار کرتا ہے کہ ارتجاع پسند قوتیں کبھی اس انقلاب کو روک نہیں سکتیں (کلا انہ تذکرہ)، اس لیے ہر فرد کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ انقلاب کی صفِ اول (Vanguard) میں شامل ہو کر آگے بڑھے یا پیچھے رہ کر نقصان اٹھائے — کیونکہ ہر نفس اپنے اعمال کے عوض رہن ہے (کل نفس بما کسبت رہینہ)۔ لیکچر میں اسی پیش قدمی کو یاد دہانی کے طور پر بیان کیا گیا کہ یہ محض ایک وقتی پروپیگنڈا نہیں بلکہ اللہ کی مشیت اور حکمت کے مطابق حق قبول کرنے والوں کے لیے کھلی دعوت ہے، جسے اہلِ تقویٰ فوراً قبول کر لیتے ہیں جبکہ غلط فہمی کا شکار لوگ آخرکار توبہ کر کے اس میں شامل ہوتے ہیں۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 283-297؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  3. سرمایہ پرست معاشرے کی ناکامی کے اسباب:
    • aسعادت انسانی کے پروگرام سے انحراف
    • bپسماندہ افراد کا استحصال
    • cبے کار مباحثے
    • dاعمال کی ذمہ داری سے انکار
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    جنتی لوگ جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا، تو وہ چار اسباب بیان کریں گے: پہلا (الف) یہ کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے، یعنی اللہ کے ساتھ تعلق قائم کیے بغیر سعادتِ انسانی کے پروگرام سے منحرف ہو گئے۔ دوسرا (ب) یہ کہ ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، یعنی پسماندہ اور کمزور طبقات کی معاشی ضروریات پوری کرنے کی بجائے ان کا استحصال کرتے رہے۔ تیسرا (ج) یہ کہ ہم بے کار بحث کرنے والوں کے ساتھ مل کر خوض کرتے تھے، یعنی اصل مسائل کی بجائے فضول اور غیر ضروری مباحثوں میں وقت ضائع کیا۔ چوتھا (د) یہ کہ ہم یومِ جزا کا انکار کرتے تھے، یعنی اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری رہے۔ لیکچر میں واضح کیا گیا کہ یہی چاروں روئیے دراصل اس سرمایہ پرست معاشرے کی ناکامی کی حقیقی وجوہات ہیں، اور یہ اعتراف اب انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ سزا کے وقت کیا گیا اقرار سودمند نہیں ہوتا۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 296-298؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  4. اجتماعیت اور انارکی۔
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    مخالفینِ انقلاب کی حالت اس دہشت زدہ گدھے جیسی ہے جو شیر کے خوف سے بھاگتا ہے، حالانکہ ان کے پاس اس خوف کی کوئی معقول وجہ نہیں سوائے اپنی رجعت پسندانہ ذہنیت کے۔ اس کے بعد قرآن ان کے ایک اور مطالبے کا ذکر کرتا ہے: ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے الگ سے اپنا انفرادی صحیفہ یا چارٹر دے دیا جائے، تاکہ وہ اجتماعی نظام میں شامل ہوئے بغیر اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارے۔ قرآن اسے صریح "نراج" یا انارکی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی بھی منظم انسانی معاشرہ (Organised Human Society) اس انفرادیت پسندی سے قائم نہیں ہو سکتا؛ فرد کی حقیقی ترقی اجتماعیت ہی سے ممکن ہے۔ لیکچر میں اس نکتے کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا کہ سرمایہ پرست ذہنیت دراصل مساوات اور عدل پر مبنی اجتماعی پروگرام کو قبول نہیں کرنا چاہتی، اور اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے انتشار و انارکی کو ترجیح دیتی ہے۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 299-300؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  5. سوسائٹی اور قومی وبین الاقوامی انقلاب عدل۔
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    قرآن اس انقلاب کی ترقی کو چاند کی مثال سے سمجھاتا ہے: جس طرح چاند ہلال سے شروع ہو کر بتدریج بدرِ کامل بنتا ہے، اسی طرح یہ انقلاب بھی مرحلہ وار — پہلے ذاتی، پھر جماعتی، پھر قومی سطح پر عرب کو اپنی مرکزی کمیٹی (Central Committee) بنا کر، اور آخر میں بین الاقوامی سطح پر — مکمل ہوگا۔ یہ کسی ایک خطے یا قوم کے مفاد کے لیے استعمار (Imperialism) یا انتفاع (Exploitation) کا پروگرام نہیں بلکہ پوری نوعِ انسانی کی خیرخواہی کے لیے ہے، اس لیے ہر ملک کے ظالم و خودپرست حکمرانوں کو اس سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی تشریح کے مطابق تقویٰ میں عدل و احسان دونوں شامل ہیں، اور یہی انقلاب دنیا میں عدل قائم کرے گا۔ لیکچر میں اسی نکتے کو دہرایا گیا کہ سوسائٹی کے اندر سے پیدا ہونے والا یہ انقلاب رفتہ رفتہ قومی سے بین الاقوامی انصاف کی منزل تک پہنچے گا۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 289-291، 302-303؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  6. سورہ مزمل اور سورہ مدثر کا اجمالی مطالعہ۔
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    سورہ مدثر کے اختتام پر کتاب نو نکات میں پوری سورت کا خلاصہ پیش کرتی ہے: کہ صالح انقلاب انسانیت کو ترقی دینے والے قانون کا حامی اور سرمایہ پرستانہ ذہنیت کا شدید مخالف ہوتا ہے، یہ ذہنیت دنیا میں ناکام اور آخرت میں دردناک عذاب سے دوچار ہوگی، اور قرآن کی یہ تعلیم بین الاقوامی نوعیت کی ہے جو قومی سے بین الاقوامی درجے تک ترقی کرے گی، مساکین کی تنظیم کرے گی اور لوگوں کا تعلق اللہ سے استوار کرے گی۔ اس کے بعد سورہ مزمل اور سورہ مدثر کا موازنہ کیا گیا ہے: دونوں سورتیں نبوتِ محمدی کے ابتدائی دور کی ہم عصر ہیں، مزمل میں انقلابی جماعت کی تیاری (قیامِ شب، تہجد) اور تربیت کا حکم اجمالاً دیا گیا جبکہ مدثر میں اسی موضوع کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔ دونوں سورتوں سے مل کر دس بنیادی اصول اخذ کیے گئے ہیں: تبلیغ و تنظیم، تعلقِ باللہ کا قیام، مساکین کی منظم خدمت، ظاہری و باطنی پاکیزگی، سرمایہ پرستی کا استیصال، اجتماعیت، اور دنیا میں بین الاقوامی عدل و انصاف کا قیام۔ لیکچر کے اختتام پر بھی اسی اجمالی خلاصے کو دہرایا گیا۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 303-306؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
حاصلِ تعلیم
  • انارکی کا خاتمہ اور سرمایہ داری نظام سے مزاحمت۔
  • عادلانہ اجتماعیت کا قیام۔
عملی تقاضے
  • فکر منتقل کرنا اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا۔
ماخذ:

قرآنی شعور انقلاب (طبع2009 ص:658 تا686)(طبع2019 جلد اول،ص:278 تا306) تفسیر سورہ المدثر آیت نمبر 11 تا آخر

اضافی مواد (آڈیو)
C2S3T6.m4a
27.8 MB · 30:03
ٹرانسکرپشن مکمل
ویڈیو تیار
سب ٹائٹل دیکھیں

لوڈ ہو رہا ہے…

ٹرانسکرپٹ دیکھیں

آج کا یہ موضوع ہمارا سرمایہ پرستی کا رد اور اعتماد پر مبنی انقلاب کی اہمیت ہے اس موضوع کا مقصد سرمایہ پرستی کا تجزیہ اور اس کے مفاصلت کا رد اور اس کے خلاف انقلاب کی اہمیت کو واضح کرنا ہے اور اس موضوع کا جو دیرہ کا ہے وہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں صورت مدسر کے آیت نمبر 11 سے لے کے آخر تک اور اس موضوع کے اندر جو بنیادی نظریہ ہم نے سیکھنا ہے وہ ہے غلبہ دین حق کا شعوری نظریہ عزیز دوستوں پچھلی سیمائی کے اندر ہم نے صورت مدمل اور صورت مدسر کے موضوعات کا مطالعہ کیا اور یہ دونوں صورتیں بنیادی طور پر انقلاب کا جو عمل ہے اس کی وضاحت اس انقلاب کو گروہ کار لانے کے لیے جو ایک تیاری کا طریقہ کار ہے اس کے رہنمائی اور انقلاب لانے والی جماعت کے جو مطلوبہ روئیے ہیں اس حوالے سے صورت مدمل کے اندر ہم نے سارے موضوعات پڑھے اور پھر انقلاب کن کن مراحل سے گزر کر وہ پینل کوامی انقلاب تک پہنچتا ہے یہ ہم نے صورت مدمل کے اندر تین چار موضوعات کا مطالعہ کیا اور پھر اس کے بعد انقلاب کے مقاصد یہ صورت مدسر کی ابتدائی آیات جو ہیں وہ ہم نے مطالعہ کیا تو اس کا اگر تھوڑا سا موضوعات کا تعرف آپ دوستوں کے سامنے رہتا ہوں تاکہ چیزیں نکال ہو جائیں ہم نے صورت مدمل کا جو اس کا مقدمہ تھا اس مقدمے کی صورت میں ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سوسائٹی کے اندر جب زوال آتا ہے سوسائٹی زوال پذیر ہوتی ہے تو سوسائٹی اس زوال سے نکلے کے لیے جدوجہد کرتی ہے اور وہاں پہ ہم نے یہ چیزیں سکھیں کہ جدوجہد دو طرح کی ہوتی ہے ایک ارتقائی یا اصلاحی اور دوسری انقلابی اور جس سوسائٹی کے اندر مکمل زوال ہو وہ سوسائٹی ہمیشہ انقلاب کے صورت میں ترقی کرتی ہے اور اس کے بعد ہم نے انقلاب کو سمجھا کہ انقلاب کے بنیادی ناثر نظریہ جماعت اور لاحق عمل اور پھر اس سے اگلے موضوع کے اندر ہم نے جماعت سازی کا جو عمل ہے اس کا یہ عمل کی تربیہ ہے کہ جماعت کی تیاری کیسے ہوتی ہے روسیوں کے عمل تیار کیسے ہوتے ہیں صورت مدمل کی ابتدائی آیات میں ہم نے اس کو سمجھا اور پھر اگلی آیات کے اندر کہ اس جماعت جو دینی جماعت ہے انقلابی جماعت اس کے بنیادی حصول کیا ہے اس کے بنیادی حصول ہم نے کہا کہ اس کا بنیادی حصول یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرتی ہے پھر دوسرا حصول ہم نے یہ پڑھا کہ وہ جماعت جو انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے پھر تربیت کرواری ہے وہ مادی وسائل پر صرف بھروسہ نہیں کرتے وہ مادی وسائل کو استعمال کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتی ہے اپنے نظریہ پر اس کا بھروسہ ہوتا ہے اور پھر اسی چیز ہم نے یہ پڑھی کہ وہ سوسائٹی وہ جو انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے جماعت اس سوسائٹی کے اندر وہ صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتی ہے وہ مسائل اور ازمائشیں چلتی ہیں اور پھر سوسائٹی کے اندر انقلاب کے لیے اپنی جدوجہد چلائی جاتی ہے اور پھر ایک اور حصول ہم نے پڑھا کہ وہ جماعت عدوی تشدد کی بنیاد پر آتی ہے یہ ہمارا رسخہ عمل کی تربیہ ہے پھر اس کے بعد دینی انقلابی جماعت کے بنیادی حصول اور پھر اس کے بعد ہم نے یہ پڑھا کہ یہ انقلاب جب آتا ہے تو انقلاب کیسے مکمل ہوتا ہے ذاتی انقلاب پھر اس کے بعد جماعتی انقلاب پھر اس کے بعد قومی انقلاب اور قومی انقلاب کے بعد بین القومی انقلاب یہ ایک تطیب ہے انقلاب اور پھر صورت مدسر کی ابتدائی آیات کے اندر ہم نے انقلاب کے مقاسد کو سمجھا کہ انقلاب کے مقاسد جو انقلاب لانا چاہ رہے ہیں وہ انقلاب نتیجہ کیا پیدا کرے گا تو اس انقلاب کا نتیجہ اصلاح کے عربہ کا قیام اقبات سماحت تحارت اور عدالت یہ وہ اخلاق ہیں جو قرآنی انقلاب جو ہے وہ سوسائٹی کے اندر پیدا کرنا جاتا ہے اور اس کا ہم نے پچھلے موضوع کے اندر صورت مدسر کی اسی جو ابتدائی آیات ہیں اس کے اندر ہم نے اس کا متعلق کیا ہے اس پر ہم نے ڈسکیشن کی اس پر ہم نے ڈیبیٹ کی اور یہ آج کا جو موضوع ہے ہمارا سرمایہ پرستی کا رد اور اعتماد پر مبنی انقلاب کی اہمیت یہ موضوع صورت مدسر کی اگلی آیات ہیں اور ان آیات کے اندر بنیادی طور پر جو انقلاب مخالف قوت ہے جو انقلاب مخالف طاقت ہے جو رجت پسند طبقہ ہے اس طبقے کی بنیادی جو ذہنیت ہے اس ذہنیت کا تحضیر کیا گیا ہے اور پھر اس کے بعد یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ اس کی جو رجت پسندی ہے جو اس سوسائٹی کے اندر ظلم برتا کی ہوئے ہیں یہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور پھر انقلاب آئے گا سوسائٹی کے اندر اور پھر جو اتجاعی طاقت ہے وہ اپنے انجام کو پہنچے گی یہ اس بنیادی طور پر یہ ایک اس آج کے موضوع کا ہمارا دیرہ کہا رہا ہے جس پر ہم ڈسکیشن کریں گے اب قرآن نے بنیادی طور پر جیسا میں نے عرض کیا کہ ان آیات کے اندر قرآن تحضیر کرتا ہے جائزہ لیتا ہے سوسائٹی کے اس طبقے کا جو انقلاب مخالف ہے جو رجت پسند ہے جو سرمایہ پرست ذہنیت رکھتی ہے اب اس کا قرآن کا تجزیہ کا قرآن کا جب قرآن تجزیہ کرتا ہے سوسائٹی کا کسی پاسد ذہنیت کا سرمایہ پرست ذہنیت کا قرآن کا اسلوب ہے کہ قرآن نمونے کے طور پر کسی ایک شخصیت کو لیتا ہے اور اس کی ذہنیت کا تجزیہ کرتا ہے اس کے روئیوں کا تجزیہ لیتا ہے اس کی کیفیت بیان کرتا ہے اور اس کے بعد جو اس کے منفی روئیے ہیں وہ سوسائٹی کے سامنے رکھتا ہے اور پھر قرآن کا جو اسلوب یہ بھی ہے کہ قرآن جب کوئی چیز واضح کرنا چاہتا ہے تو قرآن دونوں ذہنیتوں کا معاضہ کرتا ہے جو سالح ذہنیت ہے اس کے جو روئیے ہیں اس کو بیان کرتا ہے اور جو منفی ذہنیت ہے جو رجت پسند ذہنیت ہے جو سرمایہ پرستی کی ذہنیت ہے اس کا بھی قرآن جائزہ لیتا ہے تو قرآن معاضہ کر کے جو حقیقت ہے اس کو واضح کرتا ہے تو اس موضوع کے اندر بنیادی طور پر ان آیات کے اندر قرآن نے یہی کیا ہے قرآن نے جو سرمایہ پرست ذہنیت ہے اس کا جائزہ لیا ہے کہ سرمایہ پرست ذہنیت کیا ہے سرمایہ پرست ذہنیت یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سوسائٹی کے جو وسائل ہیں وہ ان کے قبضے میں رہے وہ زیادہ سے زیادہ وسائل پر اپنی گریفت قائم کریں وہ سوسائٹی کے اندر کوئی ایسا کام جو عام طبقہ جو ان کی دولت بڑھانے کے لیے گھر دار ادا کرتا ہے جو ان کے لیے کام کرتا ہے جو ان کی زمینوں میں کام کرتا ہے جو ان کی تجارت کے اندر ان کا معامل بنتا ہے جو ان کی ملوں اور فیکٹریوں میں وہاں کام کرتا ہے اب اس طبقہ جو ان کی دولت بڑھانے والا طبقہ ہے اس کی ذہنیت یہ ہے کہ یہ اس کے مفاد کے لیے سوچتے تک نہیں ہیں یہ ہر وقت اس چکر میں رہتے ہیں کہ ان کی دولت کیسے مزید بڑھے گی یہ ہمیشہ 99 کے کھیل میں رہتے ہیں کہ جو دولت ان کے پاس موجود ہے اس کو آگے کیسے بڑھانا ہے اور جو مظلوم طبقہ ہے جو کام کرنے والا طبقہ ہے جو محنت پر طبقہ ہے جو کسان ہے اس کی دولت کو کیسے ہتھیانا ہے اس کی محنت کو کیسے ہتھیانا ہے یہ اس سرمایہ پرست ذہنیت کا دھنیہ ہے یہ قرآن نے بطور نمودے کے یہاں پہ قریش کا ایک بڑا سردار ولید بن مغیرہ اس کی ذہنیت کا تحضیر کیا ہے ایک ذہنیت کا تحضیر کر کے قرآن جو اس کے منسی رویہ ہے اس کو واضح کرنا چاہتا ہے تو قرآن کہتا ہے ذرنی ومن خلقت وریدہ وَجْعَلْتُ لَهُ مَعْلَم مَمْدُودًا وَبَنِينَ شَهُودًا وَمَهَدْتُ لَهُ تَمْحِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَدِيدًا یہ قرآن نے ایک نقشہ کھینچا کہ یہ وہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اکیلا پیدا کیا پیدا سکتا اکیلا مالک ہے مال و دولت اس کے پاس بافر ہے پھر بافر ہونے دولت بافر ہونے کی وجہ سے اکیلے ہونے کی وجہ سے اس کی تعلیم و تربیت ایسی ہوئی ہے کہ اس کے پاس سکیل پینس کے پاس مہارتیں ہیں اس کے پاس علم آ گیا ہے اور وہ اپنے علم کی بنیاد پر اپنی دولت کو مزید آگے بڑھاتا ہے ترقی دیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت بیٹے بھی دیئے اس کے اولاد دیئے جو اس وقت ہر وقت اس کے سامنے رہتی ہیں لیکن اس کی ذہنیت کیا ہے کہ وہ لوگ جو ان کے ساتھ کام کرتے ہیں وہ ان کے لیے کچھ نہیں سوچتا اور یہ ہر وقت لالچ کم اور حرص ہے اس کے اندر کہ میری دولت کیسے بڑھے گی ثُمَّ يَتْمَعُوا أَنْ أَزِيدًا پھر یہتما کرتا ہے لالچ کرتا ہے کہ میں اپنی ساری چیزوں کو کیسے بڑھا اور پھر قرآن نے ایک اور اس ذہنیت کا تہجیہ کرتا ہے کہ یہ صرف دولت تک نہیں بلکہ یہ اپنے دولت اس کے پاس ہوتی ہے اس کے پاس طاقت ہوتی ہے تو یہ سیاسی طاقت بھی حاصل کر لیتا ہے یہ اقتدار حاصل کر لیتا ہے یہ اختیارات حاصل کر لیتا ہے اور پھر اس کی ذہنیت یہ ہے کہ یہ اقتدار اور اختیار بھی اپنے خاندان سے اپنی ذات سے اپنے قلوب سے پاہ نکلنے کے لیے دیان نہیں کرتا کہ لالچ کرتا ہے کہ مجھے مزید بڑے سے بڑے مناسب ملے مجھے اقتدار کے اندر زیادہ سے زیادہ حصہ ملتا جائے میں اپنی خاندانی سطح پہ اپنی قومی سطح پہ بدل قومی سطح پہ میں اپنے مناسب اور اپنے اقتدار حاصل کرتا ہوں یہ اس کی ذہنیت ہے لیکن قرآن کہتے ہیں کہ یہ خاص اس ذہنیت ہے اس کے اندر وہ روئیے جو انقلاب کی صورت میں ہم نے پچھلے موضوع کے اندر پڑے جو صورت مدسر کی ابتدائی آیات تھیں قرآنی انقلاب کے مقاسد یہ مقاسد کے قلاف ہے اس نے اپنے روئیے وہ اخلاقی عربت کے مطابق نہیں بنایا بلکہ اس کے مخالف بنایا ہے اور اس کے باوجود یہ چاہتا ہے کہ یہ اس کو ترقی ملے اگر اس کو ترقی ملے گی تو یہ سوسائٹی کے اندر بگاڑ پیدا کرے گا مزید کیونکہ پہلے اس کا ظلم قرار نہ ہو تو قرآن کہتا ہے قلعہ ہرگز نہیں انہو کان لیا یدینا نیزا یہ تو ہماری آیات کا مخالف ہے یہ تو انقلاب کا مخالف ہے یہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا اس کو کبھی ترقی نہیں ملے گی یہ اپنے انجام کو پہنچے گا یہ قرآن بنیادی طور پر یہ صورت مدسر جو ہے یہ ابتدائی صورت ہے جو غالباً جو نفری جو بیست ہے بیست کے پہلے سال میں نازل ہوئی اور یہ انقلابی جماعت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی جو اس کی تیاری کروائی جاتی ہے پہلے سے نہدک والے کیا جا رہا ہے کہ یہ انقلابی جماعت اپنے حدث کو حاصل کرے گی اور اس انقلاب کی جو مخالف طاقت ہے جو نجات قسم ذہنیت ہے وہ شکست کھائے گی اور اس کی یہ ذہنیت ساندھے رکھے گی اس کی اور قرآن نے کہا قلعہ انہو کان لیا یدینا نیزا ہرگز نہیں یہ ہماری جو تعلیمات ہیں قرآنی تعلیمات ہیں انقلابی تعلیمات ہیں یہ اس کا مخالف ہے یہ اپنے انجام کو پہنچے گا بنیادی طور پر اس ذہنیت کا ذکر کیا جا رہا ہے ایک سارت کو بدور نمونہ قرآن نے بنایا اور اس ذہنیت کا نقشہ کھینچا جو قریش کی عمومی ذہنیت ہے اور یہ ذہنیت صرف قریش کی نہیں یہ قرآن تجزیہ کر رہا ہے کسی بھی زوال یافتہ سوسائٹی کے اندر سرمایہ پرست ذہنیت کا کہ اس سوسائٹی کے اندر وہ ایک تبقہ جو دولت حاصل کرتا ہے ملوں کا مالک بنتا ہے فیکٹریاں جلاتا ہے تجارت پر کبزہ ہوتا ہے کراس پر کبزہ ہوتا ہے اور پھر وہ اپنی دولت کو مزید آگے بڑھانے کے چکر میں رہتا ہے اور وہ اس کے لیے جو کام کرنے والے جو باہمی تعاون اس کے ساتھ لوگ کر رہے ہیں اس کے لیے کوئی کردار ثابت نہیں کرتا آج آپ اپنی سوسائٹی کا جا جا لیں قرآن ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری اس پاکستانی سوسائٹی کا تجزیہ کر رہا ہے کہ یہاں پہ ہمارے ہاں جو سرمایہ پرست ذہنیت ہے ایک تبقہ دیکھیں کہ اوپر گوگل کریں اور دیکھیں کون سے پاکستان کے امید ترین لوگ کون کون سے ہیں ان کی دولت کا جا جا لیں اور ان کے روئیے دیکھیں کون کے روئیے کیا ہیں وہ ہر صبح کے اندر ان کے طرف گزرات میں بھی ہیں وہ تجارت میں بھی ہیں وہ ملوں کے بھی مالک ہیں وہ ایک سپورٹ بھی کرتے ہیں وہ ایک پورٹ بھی کرتے ہیں لیکن نتیجہ کیا ہے اس کے اندر جو ان کے لیے کام کرنے والا تبقہ ہے وہ مظلوم ہے وہ پیسا ہوا ہے قرآن کسی ذہنیت کا یہاں پہ جائزہ لیں اور پھر قرآن آگے یہ کہتا ہے قرآن کہتا ہے کہ یہ انجام کو پہنچے گا اس کو جہنم میں ڈالا جائے گا کیونکہ یہ وہ تبقہ ہے یہ وہ ذہنیت ہے جس نے اس انقلاب کی مخالفت کی اور پھر یہ ہمیشہ اس کے لیے مخالفت کے لیے کام کیا اس نے سوسائٹی کے لیے سوسائٹی کی بھلائی کے لیے مفاد عامہ کے لیے کوئی کردار دانی کیا تو یہ وہ تبقہ جو ہے یہ اپنے انجام کو پہنچے گا جب انقلاب آئے گا تو یہ تبقہ کا احتساب ہوگا اس کو صدا دی جائے گی آپ نے دیکھا کہ غزوہ غدر کے اندر یہ وہ تبقہ تھا قریش کا اس تبقے کو راستے سے ہٹا دیا گیا اس تبقے کو تیہتائی کیا گیا ستر سردار جو قریش کے تھے بڑے بڑے ان سرداروں کو وہاں سے ہٹایا گیا اور باقیوں کو قید کر لیا گیا ان کو ذلیل کیا گیا اور ان کا احتساب کیا گیا یہ قرآن کہتا ہے یہ دنیا کے اندر انقلابی جماعت اس کا احتساب کرے گی اور پھر اگر وہ یہاں سے بچ بھی گیا تو قیامت کے اندر آخرت کے اندر اس کا احتساب ہوگا اور اس کو جہنم کے اندر ڈالا جائے گا اس کا احتساب ہوگا اور اس کی الٹی چڑھائی ہوگی مین کہ وہ سمجھ رہا ہوگا کہ میں آگے بڑھ رہا ہوں لیکن وہ نیچے کہہ رہا ہوگا جہنم کیا آگ ایسی ہوگی جو اس کی کھال کو بار بار جلائے گی اور قرآن کہتا ہے کہ یہ ظلم نہیں ہے یہ اس کے اپنے روئیے ہیں اس کے اپنے عمال کا نتیجہ ہے جو اس نے دنیا میں کیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرتا انسان جس طرح کے روئیے اس کے اندر پیدا ہوئے آپ وہ روئیوں کا وہاں پر اس کا احتساب دینا پڑے گا وہی روئیے ہیں اس کے یہ وہ روئیے ہیں قرآن کہتا ہے کہ اس کو وہ خود جہنم کے اندر کوئی آگ جہنم کے اندر آگ قرآن کہتا ہے نہیں ہے یہ آگ وہ ہے جو یہ خود یہاں سے لے کے گیا ہے اپنے ساتھ یہ وہاں اس کو جلائے گی اور پھر آگے قرآن نے کہا پھر اس کے بعد قرآن جو ہے وہ اس انقلابی جماعت کی جو پیش کرنی ہے اس انقلابی جماعت کی جو پیش کرنی ہے اس کے حوالے سے قرآن بیان کرتا ہے قرآن کہتا ہے کہ جس طرح وہ چاند ہے جس طرح چاند بتدریج آگے ترقی کرتا ہے کہ ہلال سے وہ بدر کی طرف جاتا ہے پہلے دن کا چاند ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد وہ آگے بڑھتا ہے اور چودنہ کا چاند بنتا ہے بنیادی طور پر قرآن نے یہاں پہ یہ کہا کہ جو انقلابی جماعت ہے جو محنت کاری ہے جو دودھ کر رہی ہے اس کو اس کا انقلاب قومی سطح پر مکمل ہوگا اس کو وہ انقلاب آئے گا وہ چمکے گا چاند اور پھر اس کے بعد قرآن نے کہا یہ جو ظلم ہے جو اس سرمایہ پرست ذہنیت نے ظلم برپا کیا ہوا ہے یہ ختم ہو جائے گا اور پھر اس کے بعد روشن صبح ہوگی بین الاقوامی انقلاب آئے گا اور یہ کہتے آئے گا یہ پوری قرآن نے اس کی ترتیب وعدہ کی چاند کی مثال سے کہ یہ انقلاب کیسے آگے بڑھے گا کس طرح یہ انقلاب ذاتی انقلاب جماعتی انقلاب قومی انقلاب اور اس کے بعد پھر بین الاقوامی انقلاب کی سطح پر جا کے انقلاب مکمل ہوگا اور پھر قرآن نے یہاں پہ ایک اور چیز کا ذکر کیا اب یہ جو سرمایہ پرست ذہنیت ہے اس ذہنیت کا قرآن نے جو اس کے انجام ہے اس انجام کو واضح کرنے کے لیے قرآن نے یہاں پہ ایک مقالمہ پیش کیا کہ یہ جو جنت والے لوگ ہیں یہ اہل جمین جو ہیں یہ جب جنت پہ پہنچ جائیں گے اور یہ جو مجرمین ہیں یہ جہنم میں جائیں گے تو جنت کے لوگ وہاں پہ مقالمہ پوچھیں گے سوال کریں گے ایک دوسرے سے ان کے اندر ایک تجسس ہوگا کہ ہم جہنم والے لوگوں کے پوچھیں کہ کن عمال کی وجہ سے جہنم میں گئے تو وہاں قرآن نے ایک پورا مقالمہ ہے جس کو قرآن نے یہاں پہ واضح کیا ہے وہ اہل جمین جو ہیں جو جنت کے لوگ ہیں وہ پوچھیں گے پوچھیں گے جہنم والے سے پوچھیں گے کہ وہ اسی وقت فائدہ حاصل کر سکتا ہے اس جیل سے اس سزا سے جب اس کو سزا اپنے جرم کا پتا ہوگا تو یہ جب جہنم میں جائیں گے تو یہ جو جہنمی لوگ ہیں یہ اپنے ان عمال کو جانتے ہوں گے کہ کن عمال کی وجہ سے ہم جہنم میں گئے ہیں جب اہلِ یمین جنتی لوگ مجرمین سے جہنم کے لوگوں سے مقالمہ کریں گے ان سے پوچھیں گے کہ تمہیں دوزق میں کس چیز نے ڈالا؟ تم بتائیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں پر حضرت مولانا عبدالعزیز صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز جو ہے وہ بنیاد طور پر کیا ہے؟ نماز اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہے اور اس تعلق کا نتیجہ تعلق مع اللہ کا نتیجہ خدا پرستی کا نتیجہ کیا ہے؟ انسان دوستی اب یہ لوگ بتائیں گے کہ ہم خدایی تعلیمہ جو تھی جو الہی تعلیمہ تھی اس میں نظام بنانے کی بجائے ہم صرف مادے کے پیچھے پڑے رہے ہم نے مان اکٹھا کیا اور نماز جیسے الويل للمرسللین الذین ہم من صلات ہم صاحبوں الذین ہم یراعونم جبنہون المعون کہ جو صورت معون کے اندر ہے قرآن کے اندر کہ جو نمازی ہیں ان کی نمازی کیوں گھٹے میں نہیں کہ انہوں نے جو روئیہ پیدا کرنے تھے جو نماز کے تقاضے بنتے تھے کہ ان جو مسکین ہیں مظلوم ہیں یتیم ہیں ان کے لئے کام کرنا ہی انہوں نے کام نہیں کیا وہ کہہ گئے کہ ہم سعادت انسان سے محروم تھے ہم نے خدمت انسانی کا کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے ہم جہنم میں گئے اور پھر تو کہیں گے کہ ہم جو مسکین تھے جو کمزور طبقات تھے ان کے معاشی ضرورت کا جو بندوبست تھا وہ ہم نے اس کو کوئی نظام نہیں بنایا ہم نے ان کا استحصال کیا ہم نے ان کے لئے ان کو آگے پڑھنے کے لئے ان کی ضرورت پر پوری کرنے والا کوئی سسٹم نہیں بنایا اس وجہ سے ہم جہنم میں گئے اور پھر تیسری چیز کہیں گے تیسری چیز کیا تیسری وہ چیز ہے جو ہمارے اندر پیدا ہوئی وہ کیا تھی کہ ہم فضول بیسوں میں پڑے رہتے تھے ہم سوسائٹی کے اندر ایسی ایسی بیسے چھیڑتے تھے جن کا سوسائٹی کی ترقی کے اندر کوئی رول نہیں ہوتا تھا ایسی میڈیا ٹاک ایسی چیزیں جو اصل مسائل سے نظر ہٹا کے جو جوزوی اور غیر ضروری مسائل ہیں ان مسائل کی طرف توجہ دلوا کرتے ہیں کوئی ترقی کا جو عمر تھا کوئی ایسی تحقیق جس کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی آگے بڑھے ہم اس ترقی کوئی ڈسکیشن کچھ نہیں کرتے تھے بلکہ فضول بیسوں کے اندر ہم مل کے بیسے کیا کرتے تھے اور پھر چوتھی چیز یہ ہے تو وہ کہیں گے کہ ہم یومِ جزا ہے یہ جو انصاف کا دن ہے آفت کا دن ہے ہم اس کا بھی انکار کرتے تھے ہم نے ہم کھنتے تھے کہ یہ سسٹم ایسی چلتا جائے گا یہ جو ہماری وہاں پہ ایک ذہنیت ہے جو ہماری اجارہ داری ہے جو ہماری اقتدار ہے وہ ہمیشہ رہے گا ہمیں کہیں پہ ایک صاحب کا سننا نہیں کرنا پڑے گا ہم ذمہ داری جو ذمہ داری تھی ہمارے پر اس ذمہ داری کے لیے اپنے آپ کو کہیں ایک حساب کے لیے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے تھے یہ سمجھتے تھے اور اس کا نتیجہ کیا نکلا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہم جہنم میں ہیں یہ فاسد ذہنیت کے روئیے ہیں جو قرآن نے یہاں پہ بیان کیے وہ جو پہلے ہم نے بیان کیے اس سرمایہ پرست ذہنیت کے روئیے کیا ہے اس کی کیفیت کیا ہے اور اس کو پھر قرآن نے انقال میں تصویرت میں یہاں پہ باتے دیا جو اہل جہنم اور اہل یمین اہل جنت کے درمیان ہیں اور یہ وہ کنیادی روئیے ہیں سارے جس کی وجہ سے وہ جہنم کے اندر گئے پھر اس کے اندر قرآن ایک اور آگے ذکر کرتا ہے قرآن یہ کہتا ہے کہ سرمایہ پرست جو ذہنیت ہے اس کا ایک روئیہ یہ ہے کہ جو انقلاب آتا ہے انقلاب تو سوسائٹی کے اندر عام انسانوں کو ترقی دینا چاہتا ہے تمام انسانیت کو آگے بنانا چاہتا ہے اور وہ ہمیشہ جو انقلابی پارٹی ہوتی ہے وہ پارٹی پولیٹکس کی بنیاد پر اپنا سسٹم تشکیل دیتی ہے اختیارات پارٹی پولیٹکس کی بنیاد پر آگے بڑھاتی ہے اپنا سیاسی نظام قائم کرتی ہے اور ایک منشور کے مطابق آگے بڑھتی ہے لیکن یہ جو سرمایہ پرست ذہنیت ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں ہر ہر فرد کو علیہ دہ علیہ دہ صحیح پر دیا جائے ہمیں علیہ دہ علیہ دہ منشور دیا جائے ہمیں علیہ دہ علیہ دہ چارٹر بھی دیا جائے جس کے مطابق ہم اپنے اپنے مفادات کے تابعے رہ کے اس کو آگے بڑھائیں قرآن کہتا ہے کلہا ہرگز نہیں ایسا نہیں ہو سکتا یہ کہہ بے ببوف ہیں کیا کوئی سوسائٹی اس طرح آگے بڑھ سکتی ہے کہ ہر فرد وہ اپنے اپنے مفادات کے تابعے منشور اور چارٹر لے اور اس کے مطابق کام کرے تو کیا کوئی سوسائٹی اس طرح آگے بڑھ سکتی ہے قرآن کہتا ہے ایسا نہیں ہو سکتا یہ ان کا غیر طبیعی اور بے ببوفانہ مقادرہ ہے اور یہ کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا یہ ہو نہیں سکتا کہ ایسی سوسائٹی جس کے اندر ہر ایک بندے کو ہر ایک فرد کو اپنا اپنا منشور دے دی جائے اور وہ کوئی سوسائٹی ایسے آگے نہیں بڑھ سکتی قرآن کہتا ہے کہ ان کا یہ مطالبہ کامیاب نہیں ہوگا اور پھر اس کے بعد قرآن نے اس صورت کے آخر میں پھر ایک اور چیز دوبارہ کیا کلہ ہرگیز نہیں انہو تذکرہ فمن شاہ ذکرہ وما یذکرون الا ان یشاء اللہ ہو اہل التقوی و اہل المغفرہ اب قرآن نے یہاں ایک چیز دوبارہ کیا کہ سوسائٹی کی کہتے ہیں کہ یہ ساری چیزیں ہیں یہ کسی باہر کے باہر سے کوئی اب دباب آئے گا یہ کوئی چیز باہر سے پیدا ہوگی باہر سے پیدا نہیں ہوگی انقلاب سوسائٹی کے اندر سے پیدا ہوتا ہے کوئی قیادت جو ہے وہ کوئی باہر سے آکے کسی اور جگہ سے آکے سوسائٹی کے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتی سوسائٹی کے اندر سے انقلاب پیدا ہوتا ہے اور یہ لوگ انہوں نے سزا پا رہے ہیں یہ سزا بھی ان کے اپنے عمال کا نتیجہ ہے جو انہوں نے اپنے نفس کے اندر پیدا کیا ہے یہ جو یہاں پہ انقلاب ان کے اندر پیدا ہو رہا ہے یہ ان کے ان عمال کا نتیجہ ہے جو انہوں نے وہاں پہ اختیار کیا ہے اور سوسائٹی کے اندر انقلاب جو تبدیلی ہے وہ سوسائٹی کے اندر سے پیدا ہوتی ہے سوسائٹی کے اندر سے لیڈرشپ پیدا ہوتی ہے جو سوسائٹی کے اندر انقلاب لے کے آتی ہے اور پھر قرآن میں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ قرآن نے ایک نصیحت ہے تمام انسانوں کے لیے اب سوسائٹی کے اندر قرآن یہاں ذکر کرتا ہے دو طبقوں کا جب قرآن کے انقلاب کی دعوت آتی ہے تو قرآن کہتا ہے کہ دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو اہلِ تقوی ہیں جو اپنی استعداد کے مطابق ادھر کی جب ان کو تعلیم ملتی ہے انقلاب کی دعوت ملتی ہے تو اس انقلاب کی دعوت کو قبول کر لیتے ہیں وہ ہیں ہدلِ المتقیم اہلِ تقوی ہیں جب ان کو ہدایت کی تعلیم ان کے سامنے آئی تو انہوں نے اپنی استعداد کے مطابق اس تعلیم کو قبول کر لی اور اس پر جدوجہد اختیار کی اور دوسرا قصہ وہ ہے جو کسی پروپوگنڈے کا شکار ہوتا ہے جو کسی غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے اس کی ذہنیت اس طرح کی نہیں ہوتی کہ اس کو فورا سمجھ سکے وہ سنگتائن غلطیاں بھی کرتا ہے وہ اس انقلاب کے مخالف پروپوگنڈے کا شکار بھی ہوتا ہے لیکن آخر کال وہ اس انقلاب کی جو تعلیم ہے جو حق ہے اس حق بات کو سمجھ لیتا ہے اور پھر اس کو توبہ کرتا ہے استغفار کرتا ہے اور اس جدوجہد کے اندر شامل ہو جاتا ہے اور ایسی جماعت کو اہلِ مقصود کہتے ہیں اور قرآن کہتا ہے کہ یہی جو طبقے ہیں یہی کامیاب ہوں گے جو جنت میں جائیں گے اور پھر اس صورت کے آخر میں پھر مولانا بطل صدی نے اس کا ایک اجمالی جو تعرف تھا صورت مدسر اور صورت مدمل کا جو میں نے موضوع کے شروع میں رکھا وہ دوبارہ اس کو کم رہا کہ صورت مدمل اور صورت مدسر جو ہے وہ سوسائٹی کے اندر انقلاب کے حوالے سے پورا لاحی عمل دیتی ہے نظریہ کی دعوت اور اس کے اوپر جماعت سازے کا عمل پھر اس جماعت کی تربیت پھر اس جماعت کی تربیت کے بنیادی اصول اور پھر انقلاب ان مرحلہ بار ترقی کرتے کرتے کس طرح بینون قومی سطح پر اپنا انقلاب بربا کرے گا کیا اس کے مراحل ہوں گے اور پھر قرآن اس انقلاب کے ذریعے سوسائٹی کے اندر اتفاقی عربہ کا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو انقلاب کا مقصد ہے اور پھر اس موضوع کے اندر قرآن نے جو انقلاب مخالف ذہنیت ہے جو رجب پسند طبقات ہیں جو انتجائی ہیں جو ایکشنری ہیں جو اس انقلاب کو ختم کرنا چاہتے ہیں اس انقلاب کے مقابلے میں آتے ہیں قرآن نے یہاں پہ ان کی ذہنیت کا نقشہ کھینچا اور اس کے بعد ان کا جو انجام تھا اس انجام کو بھی بتایا اور پھر جو حقیقی انقلاب ہے جو قرآن نے ولکام قرآن تصرف خیچاند کی کہ یہ انقلاب آ کے رہے گا اور یہ عام انسانیت کی ترقی کے لیے کام کرے گا اور یہ کسی وجہ سے جو انقلابی جماعت ہے وہ Bolehi dia.