سرمایہ پرستی کا رد اور اجتماعیت پر مبنی انقلاب کی اہمیت
- سرمایہ پرستی کا تجزیہ اور اس کے مفاسد کا ردّ اور اس کے خلاف انقلاب کی اہمیت
- قرآنی مطالعہ کی روشنی میں
- سرمایہ پرستانہ ذہنیت کا تجزیہ اور اس کا انجام۔
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹسورہ مدثر کی آیت نمبر 11 سے قرآن حکیم سرمایہ پرستانہ ذہنیت کا تجزیہ ولید بن مغیرہ کی مثال سے کرتا ہے، جسے اللہ نے تنہا پیدا کیا، مال و دولت اور اولاد سے نوازا، مگر اس کے باوجود اس کی حرص کم نہ ہوئی اور وہ ہمیشہ "کیسے مزید بڑھے" کے چکر میں رہا۔ یہ طبقہ اپنے لیے کام کرنے والے مزدوروں اور کمزوروں کی فلاح کا نام تک نہیں لیتا اور اپنی دولت و اقتدار کو صرف اپنی ذات، خاندان اور قبیلے تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔ قرآن اس ذہنیت کو انقلاب کا سب سے بڑا مخالف (Reactionary) قرار دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ اپنے ظالمانہ اعمال کے نتیجے میں ہی جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوگا — یہ ظلم نہیں بلکہ خود اسی کے اعمال کا حاصل ہے۔ لیکچر میں اسی تجزیے کو موجودہ پاکستانی سماج پر منطبق کر کے دکھایا گیا کہ یہی سرمایہ پرست ذہنیت آج بھی امیر ترین طبقے میں کارفرما ہے۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 278-284؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - قرآن کی دعوت پیش قدمی۔
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹنبی اکرم ﷺ نے اپنی دعوت کے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ یہ تمام اقوامِ عالم میں پھیل کر ان پر غالب آ جائے گی، اور خود یہی وسعت اس دعوت کی سچائی کی دلیل ہے۔ قرآن انسانوں کو خبردار کرتا ہے کہ ارتجاع پسند قوتیں کبھی اس انقلاب کو روک نہیں سکتیں (کلا انہ تذکرہ)، اس لیے ہر فرد کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ انقلاب کی صفِ اول (Vanguard) میں شامل ہو کر آگے بڑھے یا پیچھے رہ کر نقصان اٹھائے — کیونکہ ہر نفس اپنے اعمال کے عوض رہن ہے (کل نفس بما کسبت رہینہ)۔ لیکچر میں اسی پیش قدمی کو یاد دہانی کے طور پر بیان کیا گیا کہ یہ محض ایک وقتی پروپیگنڈا نہیں بلکہ اللہ کی مشیت اور حکمت کے مطابق حق قبول کرنے والوں کے لیے کھلی دعوت ہے، جسے اہلِ تقویٰ فوراً قبول کر لیتے ہیں جبکہ غلط فہمی کا شکار لوگ آخرکار توبہ کر کے اس میں شامل ہوتے ہیں۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 283-297؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - سرمایہ پرست معاشرے کی ناکامی کے اسباب:
- aسعادت انسانی کے پروگرام سے انحراف
- bپسماندہ افراد کا استحصال
- cبے کار مباحثے
- dاعمال کی ذمہ داری سے انکار
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹجنتی لوگ جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا، تو وہ چار اسباب بیان کریں گے: پہلا (الف) یہ کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے، یعنی اللہ کے ساتھ تعلق قائم کیے بغیر سعادتِ انسانی کے پروگرام سے منحرف ہو گئے۔ دوسرا (ب) یہ کہ ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، یعنی پسماندہ اور کمزور طبقات کی معاشی ضروریات پوری کرنے کی بجائے ان کا استحصال کرتے رہے۔ تیسرا (ج) یہ کہ ہم بے کار بحث کرنے والوں کے ساتھ مل کر خوض کرتے تھے، یعنی اصل مسائل کی بجائے فضول اور غیر ضروری مباحثوں میں وقت ضائع کیا۔ چوتھا (د) یہ کہ ہم یومِ جزا کا انکار کرتے تھے، یعنی اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری رہے۔ لیکچر میں واضح کیا گیا کہ یہی چاروں روئیے دراصل اس سرمایہ پرست معاشرے کی ناکامی کی حقیقی وجوہات ہیں، اور یہ اعتراف اب انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ سزا کے وقت کیا گیا اقرار سودمند نہیں ہوتا۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 296-298؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - اجتماعیت اور انارکی۔
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹمخالفینِ انقلاب کی حالت اس دہشت زدہ گدھے جیسی ہے جو شیر کے خوف سے بھاگتا ہے، حالانکہ ان کے پاس اس خوف کی کوئی معقول وجہ نہیں سوائے اپنی رجعت پسندانہ ذہنیت کے۔ اس کے بعد قرآن ان کے ایک اور مطالبے کا ذکر کرتا ہے: ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے الگ سے اپنا انفرادی صحیفہ یا چارٹر دے دیا جائے، تاکہ وہ اجتماعی نظام میں شامل ہوئے بغیر اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارے۔ قرآن اسے صریح "نراج" یا انارکی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی بھی منظم انسانی معاشرہ (Organised Human Society) اس انفرادیت پسندی سے قائم نہیں ہو سکتا؛ فرد کی حقیقی ترقی اجتماعیت ہی سے ممکن ہے۔ لیکچر میں اس نکتے کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا کہ سرمایہ پرست ذہنیت دراصل مساوات اور عدل پر مبنی اجتماعی پروگرام کو قبول نہیں کرنا چاہتی، اور اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے انتشار و انارکی کو ترجیح دیتی ہے۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 299-300؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - سوسائٹی اور قومی وبین الاقوامی انقلاب عدل۔
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹقرآن اس انقلاب کی ترقی کو چاند کی مثال سے سمجھاتا ہے: جس طرح چاند ہلال سے شروع ہو کر بتدریج بدرِ کامل بنتا ہے، اسی طرح یہ انقلاب بھی مرحلہ وار — پہلے ذاتی، پھر جماعتی، پھر قومی سطح پر عرب کو اپنی مرکزی کمیٹی (Central Committee) بنا کر، اور آخر میں بین الاقوامی سطح پر — مکمل ہوگا۔ یہ کسی ایک خطے یا قوم کے مفاد کے لیے استعمار (Imperialism) یا انتفاع (Exploitation) کا پروگرام نہیں بلکہ پوری نوعِ انسانی کی خیرخواہی کے لیے ہے، اس لیے ہر ملک کے ظالم و خودپرست حکمرانوں کو اس سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی تشریح کے مطابق تقویٰ میں عدل و احسان دونوں شامل ہیں، اور یہی انقلاب دنیا میں عدل قائم کرے گا۔ لیکچر میں اسی نکتے کو دہرایا گیا کہ سوسائٹی کے اندر سے پیدا ہونے والا یہ انقلاب رفتہ رفتہ قومی سے بین الاقوامی انصاف کی منزل تک پہنچے گا۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 289-291، 302-303؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - سورہ مزمل اور سورہ مدثر کا اجمالی مطالعہ۔
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹسورہ مدثر کے اختتام پر کتاب نو نکات میں پوری سورت کا خلاصہ پیش کرتی ہے: کہ صالح انقلاب انسانیت کو ترقی دینے والے قانون کا حامی اور سرمایہ پرستانہ ذہنیت کا شدید مخالف ہوتا ہے، یہ ذہنیت دنیا میں ناکام اور آخرت میں دردناک عذاب سے دوچار ہوگی، اور قرآن کی یہ تعلیم بین الاقوامی نوعیت کی ہے جو قومی سے بین الاقوامی درجے تک ترقی کرے گی، مساکین کی تنظیم کرے گی اور لوگوں کا تعلق اللہ سے استوار کرے گی۔ اس کے بعد سورہ مزمل اور سورہ مدثر کا موازنہ کیا گیا ہے: دونوں سورتیں نبوتِ محمدی کے ابتدائی دور کی ہم عصر ہیں، مزمل میں انقلابی جماعت کی تیاری (قیامِ شب، تہجد) اور تربیت کا حکم اجمالاً دیا گیا جبکہ مدثر میں اسی موضوع کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔ دونوں سورتوں سے مل کر دس بنیادی اصول اخذ کیے گئے ہیں: تبلیغ و تنظیم، تعلقِ باللہ کا قیام، مساکین کی منظم خدمت، ظاہری و باطنی پاکیزگی، سرمایہ پرستی کا استیصال، اجتماعیت، اور دنیا میں بین الاقوامی عدل و انصاف کا قیام۔ لیکچر کے اختتام پر بھی اسی اجمالی خلاصے کو دہرایا گیا۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 303-306؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
- انارکی کا خاتمہ اور سرمایہ داری نظام سے مزاحمت۔
- عادلانہ اجتماعیت کا قیام۔
- فکر منتقل کرنا اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا۔
قرآنی شعور انقلاب (طبع2009 ص:658 تا686)(طبع2019 جلد اول،ص:278 تا306) تفسیر سورہ المدثر آیت نمبر 11 تا آخر