سرمایہ پرست معاشرے کی ناکامی کے اسباب
جنتی لوگ جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا، تو وہ چار اسباب بیان کریں گے: پہلا (الف) یہ کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے، یعنی اللہ کے ساتھ تعلق قائم کیے بغیر سعادتِ انسانی کے پروگرام سے منحرف ہو گئے۔ دوسرا (ب) یہ کہ ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، یعنی پسماندہ اور کمزور طبقات کی معاشی ضروریات پوری کرنے کی بجائے ان کا استحصال کرتے رہے۔ تیسرا (ج) یہ کہ ہم بے کار بحث کرنے والوں کے ساتھ مل کر خوض کرتے تھے، یعنی اصل مسائل کی بجائے فضول اور غیر ضروری مباحثوں میں وقت ضائع کیا۔ چوتھا (د) یہ کہ ہم یومِ جزا کا انکار کرتے تھے، یعنی اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری رہے۔ لیکچر میں واضح کیا گیا کہ یہی چاروں روئیے دراصل اس سرمایہ پرست معاشرے کی ناکامی کی حقیقی وجوہات ہیں، اور یہ اعتراف اب انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ سزا کے وقت کیا گیا اقرار سودمند نہیں ہوتا۔
کلیدی نکتہ #3 "غلبہ دین حق کا شعوری نظریہ" کو منفی سمت سے واضح کرتا ہے: یہ چار اسباب — تعلق باللہ سے پہلو تہی، مساکین کا استحصال، فضول بحثیں، اور اعمال کی ذمہ داری سے انکار — دراصل وہ چار رویے ہیں جو کسی بھی معاشرے کو دین حق کے غلبے سے دور رکھتے ہیں۔ گویا یہ نکتہ "غلبہ" کے شعوری نظریے کا الٹا پہلو، یعنی ناکامی کا نظریہ، پیش کرتا ہے: جہاں یہ چار رویے موجود ہوں، وہاں حق کا غلبہ قائم نہیں ہو سکتا، اور معاشرہ لازماً ناکامی کی طرف بڑھتا ہے۔
"بین الاقوامی پروگرام کی تفصیل" کے زیرِ عنوان، اہلِ جنت اہلِ جہنم سے پوچھتے ہیں: مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ — "تم کو اس دوزخ میں کس چیز نے ڈالا؟" (ص 295)۔ (1) "تعلقِ باللہ کی ضرورت": جواب آیا قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ — "وہ کہنے لگے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔" کتاب وضاحت کرتی ہے: "نماز انسان کے قلب میں خداشناسی کی جو قوت مضمر ہے اسے نمو دیتی ہے... اس ترقی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو مسکینوں اور کمزوروں کا خادم سمجھنے لگ جاتا ہے۔" (ص 296)، اور سورۃ الماعون کی آیات نقل کی گئی ہیں: فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُم عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ... وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ۔ (2) "مساکین کی تنظیم کی ضرورت": وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ — "اور ہم کسی مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔" کتاب اس کی وضاحت کرتی ہے: "مساکینوں کو کھانا کھلانے کے معنی یہ نہیں کہ بھیک منگے پیدا کیے جائیں، بلکہ یہ کہ بیکار لوگوں کو تعلیم اور کام کے ذرائع بہم پہنچا کر سوسائٹی کا مفید رکن بنایا جائے۔" (ص 297)۔ "بیکار مباحثے": وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ — "اور ہم بحث کرنے والوں کے ساتھ مل کر بحثیں کیا کرتے تھے۔" — "ہم انسانیت کی خدمت کرنے کے بجائے فلسفیانہ موشگافیوں اور دور از کار بحثوں میں پڑ گئے، حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ بیکاروں (The Unemployed) کو کام پر لگانے کے ذرائع پر غور کرتے۔" (ص 297)۔ (3) "اعمال کی ذمہ داری سے انکار": وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ — "اور ہم جزا کے دن کا انکار کرتے تھے۔" کتاب کی وضاحت: "ہم اپنے اعمال کے لیے کسی جوابدہی کے آگے سے سمجھتے نہ تھے، اگر کوئی ہم سے اس ذمہ داری کا ذکر کرتا تو ہم اسے جھٹلا دیتے تھے۔" آیت 47: حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ — "یہاں تک کہ آگئی یقینی بات" (ص 298)۔