پریپ نوٹس — لیکچر 6: سرمایہ پرستی کا رد اور اجتماعیت پر مبنی انقلاب کی اہمیت

سوسائٹی اور قومی وبین الاقوامی انقلاب عدل

موجودہ خلاصہ
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

قرآن اس انقلاب کی ترقی کو چاند کی مثال سے سمجھاتا ہے: جس طرح چاند ہلال سے شروع ہو کر بتدریج بدرِ کامل بنتا ہے، اسی طرح یہ انقلاب بھی مرحلہ وار — پہلے ذاتی، پھر جماعتی، پھر قومی سطح پر عرب کو اپنی مرکزی کمیٹی (Central Committee) بنا کر، اور آخر میں بین الاقوامی سطح پر — مکمل ہوگا۔ یہ کسی ایک خطے یا قوم کے مفاد کے لیے استعمار (Imperialism) یا انتفاع (Exploitation) کا پروگرام نہیں بلکہ پوری نوعِ انسانی کی خیرخواہی کے لیے ہے، اس لیے ہر ملک کے ظالم و خودپرست حکمرانوں کو اس سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی تشریح کے مطابق تقویٰ میں عدل و احسان دونوں شامل ہیں، اور یہی انقلاب دنیا میں عدل قائم کرے گا۔ لیکچر میں اسی نکتے کو دہرایا گیا کہ سوسائٹی کے اندر سے پیدا ہونے والا یہ انقلاب رفتہ رفتہ قومی سے بین الاقوامی انصاف کی منزل تک پہنچے گا۔

حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 289-291، 302-303؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
لیکچر کے بنیادی نظریے (basic_theory) سے تعلق

اس لیکچر کا بنیادی نظریہ "غلبہ دین حق کا شعوری نظریہ" ہے — یعنی یہ شعوری فہم کہ حق کا غلبہ کسی حادثاتی یا اچانک واقعے کی بجائے ایک منظم، مرحلہ وار عمل کے ذریعے آتا ہے۔ کلیدی نکتہ #5 اسی نظریے کی عملی تفصیل پیش کرتا ہے: قرآن انقلاب کی ترقی کو چاند کی روشنی کے بتدریج بڑھنے سے تشبیہ دیتا ہے — ذاتی سے جماعتی، جماعتی سے قومی (عرب کی مرکزی کمیٹی کے ذریعے)، اور قومی سے بین الاقوامی سطح تک۔ یہ ترتیب خود اس بات کی دلیل ہے کہ دین حق کا غلبہ کوئی جبری یا اچانک مسلط کیا گیا نظام نہیں بلکہ ایک شعوری، سمجھی بوجھی حکمتِ عملی ہے جو مرحلہ وار انسانیت کے ہر طبقے تک پہنچتی ہے، اور اس کا حتمی مقصد پوری دنیا میں عدل کا قیام ہے — یعنی "غلبہ" کا اصل ثمرہ "عدل" کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ محض اقتدار کی منتقلی کی صورت میں۔

اصل حوالہ

"قرآنی تدریجی ترقی کو قمر کی روشنی کی قسم پر قیاس کرنا چاہیے۔ یہ پروگرام مختلف منازل سے گزر کر پہلے سرزمین عرب میں ہلال سے بدر بن چکے گا اور عرب کو بین الاقوامی انقلاب کی سنٹرل کمیٹی (Central Committee) بنا دے گا۔ اور اس کے بعد اس عرب پارٹی کی کوششوں سے بین الاقوامی انقلاب کی صحیح نمودار ہوگی۔" (آیات 33-35 کی تفسیر، قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 289)۔ آیت نمبر 36 (نذیرا للبشر) کے تحت: "یہ بین الاقوامی انقلاب کا پروگرام کسی خاص خطہ زمین یا کسی خاص قوم کے لیے نہیں ہے کہ وہ ملک یا خطہ اس کے ذریعے اپنا تفوق (بالادستی) (Imperialism) قائم کر کے دوسرے ممالک یا اقوام سے انتفاع (Exploitation) شروع کر دے۔ بلکہ یہ انقلابی تعلیم ساری نوعِ انسان کے لیے ہے۔ لہٰذا ہر زمانے اور ہر ملک کے خودپرست جابر و ظالم حکمرانوں کو اس انقلابی تعلیم سے ڈرنا چاہیے۔" (ص 290)۔ اور "انقلاب عدل قائم کرے گا" کے زیرِ عنوان (آیت 56 کی تفسیر): حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اپنی تصنیف "غنیۃ الطالبین" میں تقویٰ کے معنی میں یہ آیت نقل فرماتے ہیں: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ (النحل 16:90) — "بیشک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ان کا حق دیں، اور فحشاء، منکر اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔" کتاب اس سے یہ نتیجہ نکالتی ہے: "اس آیت کی رو سے تقویٰ میں عدل شامل ہے۔" (ص 302)۔

بنیادی ماخذ

آخری اقتباس خود ایک اور بنیادی ماخذ کی طرف اشارہ کرتا ہے: حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی تصنیف "غنیۃ الطالبین"، جس میں یہ آیتِ نحل (16:90) نقل کی گئی ہے۔ یہاں یہ اقتباس صرف اسی طرح پیش کیا گیا ہے جیسا "قرآنی شعور انقلاب" میں نقل ہوا ہے — "غنیۃ الطالبین" کا اصل متن الگ سے نہیں دیکھا گیا، اس لیے یہ حوالہ بذاتِ خود حتمی توثیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مزید تصدیق کے لیے "غنیۃ الطالبین" کے اصل نسخے میں اس اقتباس کا سیاق و سباق دیکھنا مناسب ہوگا۔

معاون تاریخی شواہد

عمومی تاریخی شعور کی بنیاد پر (کسی مخصوص ماخذ کے مطالعے کے بغیر) یہ بات معلوم ہے کہ اسلامی تحریک کا عملی سفر بھی اسی ترتیب سے آگے بڑھا: پہلے مکہ و مدینہ میں انفرادی و جماعتی تربیت، پھر نبی اکرم ﷺ کے دور میں ہی جزیرہ نمائے عرب کا اتحاد، اور آپ ﷺ کے بعد خلافت کے ذریعے اس تحریک کا عرب کی حدود سے باہر پھیلنا۔ یہ ایک معروف تاریخی خطِ سفر ہے، مگر اسے محض عمومی پس منظر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے — یہ کسی مصدقہ ماخذ سے خاص طور پر تحقیق کر کے نکالا گیا حوالہ نہیں۔