قرآنی انقلاب کے مقاصد
- قرآنی انقلاب کے مقاصد یعنی انسانیت کے بنیادی اخلاق کی اہمیت اجاگر کرنا۔
- انسانیت کے نوعی تقاضوں اور نبوی انقلاب کے مطالعہ کی روشنی میں۔
- بعثت کے وقت عربوں کی ذہنی حالت۔
تفصیل دیکھیں
لیکچر ٹرانسکرپٹکتاببعثت کے وقت مکہ کے قبائل تین ذہنی رجحانات میں منقسم تھے: ایک طبقہ قیصرِ روم کی سلطنت، شان و شوکت اور عالمی تسلط کی طرف مائل تھا؛ دوسرا طبقہ کسریٰ ایران کے نظام سے سیاسی و تجارتی طور پر جڑا ہوا تھا اور اسی کی بادشاہت کی طرف ذہنی رجحان رکھتا تھا؛ جبکہ تیسرا طبقہ ان دونوں عالمی طاقتوں سے الگ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے چلی آ رہی ملتِ حنیفیہ پر قائم تھا۔ نبی اکرم ﷺ خود بعثت سے پہلے ہی اس تیسرے، حنیفی طبقے کے سرگرم رکن تھے اور آپ ﷺ میں اس گروہ کی قیادت کی خداداد صلاحیت بھی موجود تھی۔ اس طبقے کی کمی صرف یہ تھی کہ ان کے پاس نہ کوئی نامزد رسول تھا نہ کوئی مرتب نظام۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی انقلابی دعوت کے فروغ کے لیے ابتداءً اسی تیسرے طبقے کو منتخب کیا، انہیں نصب العین، رسول اور نظام عطا کیا، اور اپنی دعوت میں شامل کر لیا۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 260-261؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - انقلاب نبوی ﷺ کی جامعیت۔
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹنبوی انقلاب کی جامعیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ کسی ایک قوم، خطے یا زندگی کے کسی ایک پہلو تک محدود جزوی انقلاب نہیں بلکہ انسانی سماج کے تمام دائروں کا احاطہ کرنے والا کامل انقلاب تھا: خدا اور بندوں کے مابین تعلق سے لے کر بندوں کے آپس کے روحانی، معاشرتی اور معاشی تعلقات تک، ہر رشتہ درست کیا گیا۔ یہ انقلاب پہلے قومی سطح پر عرب میں برپا ہوا اور پھر انہی لوگوں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر روم اور فارس کی سلطنتوں تک پھیل گیا۔ فرانس، جرمنی، ترکی اور روس کے انقلابات اس لیے دوسری اقوام تک اپنا اثر نہ پھیلا سکے کہ وہ اپنی ہی قوم کی مخصوص ضروریات تک محدود رہے، جبکہ حجازی انقلاب انسانیت کے انہی نوعی تقاضوں پر مبنی تھا جو ہر قوم میں یکساں پائے جاتے ہیں — یہی وجہ ہے کہ بعد میں یہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کو بھی اپنے اندر جذب کر گیا۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 256، 261-262؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - شعوری ساجی تبدیلی کے لیے نشرواشاعت کی اہمیت۔
تفصیل دیکھیں
لیکچر ٹرانسکرپٹکتابآیتِ 'قُم فَاَنذِر' اس مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے جب دعوت کا انداز بدل جاتا ہے: تقریباً دو تین سال تک نبی اکرم ﷺ نے انفرادی طور پر لوگوں سے مل کر، ہر ایک کی صلاحیت کے مطابق، انقلابی نظریہ ان کے سامنے رکھا تھا۔ اب اسی نظریے کو اجتماع میں کھلے عام بیان کرنے اور اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول ہو کہ ان کی تکلیفوں کا حل ظالمانہ نظام کے خلاف انقلابی نظریہ سیکھنے، اسے سمجھنے اور اس پر قائم جماعت کا رکن بن کر جدوجہد کرنے میں ہے۔ جو لوگ یہ نظریہ پہلے سیکھ چکے تھے اب ان کا کام یہ ٹھہرا کہ وہ خود بھی اسے آگے پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں — یعنی انفرادی دعوت سے اجتماعی، منظم نشرواشاعت کی طرف پیش رفت۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 262-263؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - اخلاق کا مفہوم:
- aاسلام کا تصور سیاست، ملوکیت وبرہمنیت کا خاتمہ
- bاس جذبہ کا نفسیاتی تجزیہ
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹامام شاہ ولی اللہ کے نزدیک ہر شریعت اور ہر دور کے نیکی و بدی کے تصورات کا حاصل یہی ہے کہ انسانیت چار بنیادی اخلاق پر قائم معاشرہ تشکیل دے، کیونکہ عقیدہ و عمل، اگر اندر سے اخلاق پیدا نہ کریں، بے اثر رہ جاتے ہیں۔ ان چاروں میں پہلا خلق آیتِ 'وَرَبَّكَ فَكَبِّر' سے ثابت ہوتا ہے: اللہ ہی کو سب سے بڑا ماننے کا مطلب یہ ہے کہ کسی خاندان، قبیلے، بادشاہ یا مذہبی پیشوا کو اللہ کے مقابلے میں بالادست تسلیم نہ کیا جائے — اسی سے ملوکیت (سیاسی تسلط) اور برہمن ازم (علمی و مذہبی اجارہ داری) دونوں کا قطعی خاتمہ ہوتا ہے، اور اس کی جگہ ایک ایسا سیاسی نظام قائم ہوتا ہے جس میں امیر بھی اللہ کے قانون کا پابند ہو اور مشورہ لازم ہو، جیسا کہ خود نبی اکرم ﷺ کو مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا (آل عمران 3:159)۔ (ب) اس رویے کے پیچھے وہ فطری نفسیاتی جذبہ ہے جسے 'خشوع' یا 'اخبات' کہا جاتا ہے — ہر انسان فطرتاً بزرگوں، اساتذہ اور صالح حکام کے سامنے عاجزی محسوس کرتا اور ان کی خوشنودی میں ان کا حکم فوراً بجا لانا چاہتا ہے۔ یہ جذبہ کسی ایک مذہب سے خاص نہیں بلکہ ہر انسان کی فطرت میں پایا جاتا ہے۔ قرآن اسی فطری جذبے کی سمت موڑتا ہے: جس طرح انسان کائنات کے نظام میں اللہ کو بڑا مانتا ہے، اسی طرح اسے اپنی دنیاوی و ساجی زندگی میں بھی اللہ کے قانون کو بالادست تسلیم کرنا ہے۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 262-266؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - طہارت کا مفہوم:
- aظاہری، اخلاقی ونفسیاتی پاکیزگی
- bبرائی اور اچھائی کا معیار
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹدوسرا خلق آیتِ 'وَثِيَابَكَ فَطَهِّر' سے ثابت ہوتا ہے — ظاہری پاکیزگی، جو تین دائروں میں پھیلی ہے: لباس کی صفائی، بدن کی صفائی، اور اس ماحول کی صفائی جس میں انسان رہتا ہے۔ یہ فطری میلان ہر انسان میں پایا جاتا ہے کہ وہ گندگی سے نفرت اور طہارت سے راحت محسوس کرے۔ اگلی آیت 'وَالرُّجْزَ فَاهْجُر' اسی طہارت کو باطن تک وسیع کرتی ہے: جس طرح انسان جسمانی گندگی سے نفرت کرتا ہے، اسی طرح اسے اپنے خیالات، افکار اور نظریات کی ہر کجی اور نقص سے بھی پاک ہونا چاہیے، علم و عقل کی طرف بڑھنا چاہیے (سب الف: ظاہری، اخلاقی ونفسیاتی پاکیزگی)۔ (ب) اچھائی اور برائی کا معیار خالص ذاتی پسند نہیں بلکہ نوعی ہے — امام شاہ ولی اللہ کے نزدیک 'اثم' (گناہ) وہ ہے جسے انسان کی درست، عمومی فطرت اپنے لیے نقصان دہ سمجھ کر رد کرے، خواہ وہ اس کی اپنی جنس سے ہو یا غیر جنس سے؛ اور 'سعادت' وہ ہے جسے یہی فطرت اپنے لیے پسند کرے۔ ظاہری تہارت سے عملی قوت اور باطنی تہارت سے علمی و نظریاتی پختگی پیدا ہوتی ہے — اور کوئی بھی جماعت جو ساجی انقلاب لانا چاہے، اسے سب سے پہلے اپنے اندر یہی پاکیزگی پیدا کرنا ہوگی، کیونکہ جماعت کا اپنا ماحول ہی افراد کی سوچ اور روش کو ڈھالتا ہے۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 266-268؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - ساحت (یعنی ہمہ گیریت اور اس کی تمام شکلوں پر نوعی تقاضے (رائے کلی) کا غلبہ)۔
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹتیسرا خلق 'ساحت' امام شاہ ولی اللہ کے الفاظ میں یہ ہے کہ 'رائے کلی' (انسانیت کے مجموعی و عمومی تقاضے) حیوانی و بہیمی خواہشات پر غالب رہے۔ ہر انسان دنیا میں عزت، مرتبہ اور وقار حاصل کرنا چاہتا ہے؛ اگر یہ خواہش انسان کے نوعی تقاضوں — محبت، ہمدردی، بھائی چارہ، باہمی میل جول — کے مطابق ہو تو نتیجہ ترقی کی صورت میں نکلتا ہے، لیکن اگر یہی خواہش حیوانی تقاضوں کے تابع ہو جائے تو حسد، لالچ، مادہ پرستی اور ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعی مفاد کی قربانی جیسے نقصانات جنم لیتے ہیں۔ ساحت کے عملی ثمرات یہ ہیں: مصیبت میں بے صبری کے بجائے صبر، مال جمع کرنے کے بجائے سخاوت، اور انتقام کے بجائے شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے عفو و درگزر۔ جو جماعت ساجی انقلاب برپا کرنا چاہے، اسے سب سے پہلے یہ خلق اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا تاکہ اس کے افراد عزت و وقار کا حصول علم، کردار اور باہمی تعاون سے حاصل کریں، نہ کہ حیوانی رقابت سے۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 268-269؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ - عدالت (استحصال کی ممانعت اور رفاہیت عامہ کا قیام)۔
- aامام شاہ ولی اللہ کے پاس سرمایہ پرست نظام کی بنیاد اور اس کے نتائج: i- سعادت اخروی سے غفلت، ii- غیر پیدا واری اخراجات کی کثرت اور سامان تعیش کی ہوس، iii- بیروزگاری کی وبا اور بے مقصد سرگرمیوں کا فروغ
- bاستقامت کی اہمیت
تفصیل دیکھیں
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹچوتھا خلق 'عدالت' یہ ہے کہ استحصال کی ممانعت ہو اور رفاہِ عامہ کے ادارے قائم کیے جائیں — یعنی جس کام کا جو حقیقی نتیجہ اور جو معاوضہ بنتا ہے، اس سے زیادہ وصول نہ کیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء بھیجے (الحدید 57:25: کتاب و میزان کے ساتھ رسول اس لیے بھیجے گئے کہ لوگ عدل قائم کریں)۔ (الف) امام شاہ ولی اللہ نے کسریٰ و قیصر کی مثال سے سرمایہ پرست نظام کی تباہی کا تجزیہ کیا: جب یہ سلطنتیں وراثتاً مالدار ہوئیں تو ان کے امراء نے پیداوار کے بجائے بیت المال کے ناجائز استعمال اور کسانوں و تاجروں پر گراں ٹیکسوں کے ذریعے عیش و عشرت میں اضافہ کیا، جس کے تین بڑے نتائج نکلے: (i) سعادتِ اخروی سے مکمل غفلت، کیونکہ دل دنیاوی لذتوں میں کھو جاتے ہیں؛ (ii) غیر پیداواری اخراجات کی بھرمار اور عالی شان محلات و سامانِ تعیش کی ہوس، جو پیداوار کے بجائے استحصال سے پوری کی جاتی ہے؛ (iii) بیروزگار، بے مقصد طبقوں کی افزائش، جو آباء کے ناموں یا کھوکھلے عہدوں کے بل پر زندہ رہتے اور وقت کے ساتھ معاشرے پر بوجھ بنتے چلے جاتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے اسی زوال کو اٹھارویں صدی کی دہلی پر بھی منطبق کیا — کوئی بازار، دیہات یا طبقہ اس معاشی وبا سے محفوظ نہ رہا۔ (ب) اسی لیے آخری تقاضا استقامت کا ہے (وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر): جن کے مفادات اس انقلاب سے متصادم ہیں وہ ہر ممکن کوشش کریں گے — کبھی مخالفت سے، کبھی عہدے و اعزاز کی پیشکش سے — کہ انقلابی جماعت کو اپنے نظام کا حصہ بنا لیں؛ ان تمام حربوں کے مقابلے میں اللہ پر مکمل بھروسے کے ساتھ ثابت قدم رہنا ہی مطلوب ہے۔
حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 269-276؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
- اخلاقِ اربعہ کی بنیاد پر ساج کی تشکیل کے نظریے کا سوچ
- مکمل ساجی تبدیلی کے لیے اسوہ نبوی ﷺ مکمل نمونہ
- غیر صالح نظام کو ترک کر قرآنی اصولوں کی روشنی میں صالح نظام کی جدوجہد کا قیام
- 1) قرآنی شعور انقلاب (طبع 2009،ص:635 تا657)(طبع2019 جلد اول،ص:254 تا277) تفسیر سورہ المدثر آیت نمبر 1 تا 10
- 2) رجعات (اردو ترجمہ) طبع 1999م سندھ ساگر اکادمی لاہور