5

قرآنی انقلاب کے مقاصد

سمسٹر 3 — لیکچر 5
قرآنی انقلاب جامع انسانی انقلاب ہے یعنی انسانیت اعلیٰ کے جملہ تقاضے پورا کرنے والا انقلاب ہے۔ سورت مدثر کے شروع کی آیت میں اسی کی طرف اشارہ کر دیا گیا۔ دنیا میں جو انقلابات آئے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی بھی عالمگیر اور جامع انقلاب نہیں۔ اور آپ نے اس جامعیت کا بہترین نمونہ سرزمین حجاز میں قائم کر کے دکھا دیا، جسے دنیا آج تک اس حیثیت سے جانتی اور مانتی ہے۔ آپ کے انقلاب میں اس وقت کے مہذب اقوام کا کثیر ترین حصہ آگیا اور (آپ نے) سب کو خدمت انسانیت کے ایک نقطے پر جمع کر کے آپس کے تعلقات بھی درست کر دیئے۔ اب جب کبھی کوئی جماعت جامع بین الاقوامی انقلاب پیدا کرنا چاہے گی اسے اسی نقش قدم پر چلنا ہو گا۔ جو جماعت اس لائحہ عمل کے خلاف کوئی اور لائحہ عمل لے کر اٹھے گی وہ یا تو ناکام رہے گی یا صرف جزوی طور پر کامیاب ہو گی۔ چنانچہ فرانس، جرمنی، ترکی اور روس کے انقلابات اس اصول کی بین مثالیں ہیں۔ ان انقلابوں میں وہ جامعیت نہیں جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے پیدا کردہ حجازی انقلاب میں تھی، جس نے بعد میں قیصر و کسریٰ کو بھی ہضم کر لیا۔ (طبع 2009 ص:641)(طبع2019 جلد اول،ص:256،261)
مقصد
  • قرآنی انقلاب کے مقاصد یعنی انسانیت کے بنیادی اخلاق کی اہمیت اجاگر کرنا۔
دائرہ کار
  • انسانیت کے نوعی تقاضوں اور نبوی انقلاب کے مطالعہ کی روشنی میں۔
بنیادی نظریہ
دین حق کی جامعیت
نکات
  1. بعثت کے وقت عربوں کی ذہنی حالت۔
    تفصیل دیکھیں
    لیکچر ٹرانسکرپٹکتاب

    بعثت کے وقت مکہ کے قبائل تین ذہنی رجحانات میں منقسم تھے: ایک طبقہ قیصرِ روم کی سلطنت، شان و شوکت اور عالمی تسلط کی طرف مائل تھا؛ دوسرا طبقہ کسریٰ ایران کے نظام سے سیاسی و تجارتی طور پر جڑا ہوا تھا اور اسی کی بادشاہت کی طرف ذہنی رجحان رکھتا تھا؛ جبکہ تیسرا طبقہ ان دونوں عالمی طاقتوں سے الگ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے چلی آ رہی ملتِ حنیفیہ پر قائم تھا۔ نبی اکرم ﷺ خود بعثت سے پہلے ہی اس تیسرے، حنیفی طبقے کے سرگرم رکن تھے اور آپ ﷺ میں اس گروہ کی قیادت کی خداداد صلاحیت بھی موجود تھی۔ اس طبقے کی کمی صرف یہ تھی کہ ان کے پاس نہ کوئی نامزد رسول تھا نہ کوئی مرتب نظام۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی انقلابی دعوت کے فروغ کے لیے ابتداءً اسی تیسرے طبقے کو منتخب کیا، انہیں نصب العین، رسول اور نظام عطا کیا، اور اپنی دعوت میں شامل کر لیا۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 260-261؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  2. انقلاب نبوی ﷺ کی جامعیت۔
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    نبوی انقلاب کی جامعیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ کسی ایک قوم، خطے یا زندگی کے کسی ایک پہلو تک محدود جزوی انقلاب نہیں بلکہ انسانی سماج کے تمام دائروں کا احاطہ کرنے والا کامل انقلاب تھا: خدا اور بندوں کے مابین تعلق سے لے کر بندوں کے آپس کے روحانی، معاشرتی اور معاشی تعلقات تک، ہر رشتہ درست کیا گیا۔ یہ انقلاب پہلے قومی سطح پر عرب میں برپا ہوا اور پھر انہی لوگوں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر روم اور فارس کی سلطنتوں تک پھیل گیا۔ فرانس، جرمنی، ترکی اور روس کے انقلابات اس لیے دوسری اقوام تک اپنا اثر نہ پھیلا سکے کہ وہ اپنی ہی قوم کی مخصوص ضروریات تک محدود رہے، جبکہ حجازی انقلاب انسانیت کے انہی نوعی تقاضوں پر مبنی تھا جو ہر قوم میں یکساں پائے جاتے ہیں — یہی وجہ ہے کہ بعد میں یہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کو بھی اپنے اندر جذب کر گیا۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 256، 261-262؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  3. شعوری ساجی تبدیلی کے لیے نشرواشاعت کی اہمیت۔
    تفصیل دیکھیں
    لیکچر ٹرانسکرپٹکتاب

    آیتِ 'قُم فَاَنذِر' اس مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے جب دعوت کا انداز بدل جاتا ہے: تقریباً دو تین سال تک نبی اکرم ﷺ نے انفرادی طور پر لوگوں سے مل کر، ہر ایک کی صلاحیت کے مطابق، انقلابی نظریہ ان کے سامنے رکھا تھا۔ اب اسی نظریے کو اجتماع میں کھلے عام بیان کرنے اور اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول ہو کہ ان کی تکلیفوں کا حل ظالمانہ نظام کے خلاف انقلابی نظریہ سیکھنے، اسے سمجھنے اور اس پر قائم جماعت کا رکن بن کر جدوجہد کرنے میں ہے۔ جو لوگ یہ نظریہ پہلے سیکھ چکے تھے اب ان کا کام یہ ٹھہرا کہ وہ خود بھی اسے آگے پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں — یعنی انفرادی دعوت سے اجتماعی، منظم نشرواشاعت کی طرف پیش رفت۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 262-263؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  4. اخلاق کا مفہوم:
    • aاسلام کا تصور سیاست، ملوکیت وبرہمنیت کا خاتمہ
    • bاس جذبہ کا نفسیاتی تجزیہ
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    امام شاہ ولی اللہ کے نزدیک ہر شریعت اور ہر دور کے نیکی و بدی کے تصورات کا حاصل یہی ہے کہ انسانیت چار بنیادی اخلاق پر قائم معاشرہ تشکیل دے، کیونکہ عقیدہ و عمل، اگر اندر سے اخلاق پیدا نہ کریں، بے اثر رہ جاتے ہیں۔ ان چاروں میں پہلا خلق آیتِ 'وَرَبَّكَ فَكَبِّر' سے ثابت ہوتا ہے: اللہ ہی کو سب سے بڑا ماننے کا مطلب یہ ہے کہ کسی خاندان، قبیلے، بادشاہ یا مذہبی پیشوا کو اللہ کے مقابلے میں بالادست تسلیم نہ کیا جائے — اسی سے ملوکیت (سیاسی تسلط) اور برہمن ازم (علمی و مذہبی اجارہ داری) دونوں کا قطعی خاتمہ ہوتا ہے، اور اس کی جگہ ایک ایسا سیاسی نظام قائم ہوتا ہے جس میں امیر بھی اللہ کے قانون کا پابند ہو اور مشورہ لازم ہو، جیسا کہ خود نبی اکرم ﷺ کو مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا (آل عمران 3:159)۔ (ب) اس رویے کے پیچھے وہ فطری نفسیاتی جذبہ ہے جسے 'خشوع' یا 'اخبات' کہا جاتا ہے — ہر انسان فطرتاً بزرگوں، اساتذہ اور صالح حکام کے سامنے عاجزی محسوس کرتا اور ان کی خوشنودی میں ان کا حکم فوراً بجا لانا چاہتا ہے۔ یہ جذبہ کسی ایک مذہب سے خاص نہیں بلکہ ہر انسان کی فطرت میں پایا جاتا ہے۔ قرآن اسی فطری جذبے کی سمت موڑتا ہے: جس طرح انسان کائنات کے نظام میں اللہ کو بڑا مانتا ہے، اسی طرح اسے اپنی دنیاوی و ساجی زندگی میں بھی اللہ کے قانون کو بالادست تسلیم کرنا ہے۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 262-266؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  5. طہارت کا مفہوم:
    • aظاہری، اخلاقی ونفسیاتی پاکیزگی
    • bبرائی اور اچھائی کا معیار
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    دوسرا خلق آیتِ 'وَثِيَابَكَ فَطَهِّر' سے ثابت ہوتا ہے — ظاہری پاکیزگی، جو تین دائروں میں پھیلی ہے: لباس کی صفائی، بدن کی صفائی، اور اس ماحول کی صفائی جس میں انسان رہتا ہے۔ یہ فطری میلان ہر انسان میں پایا جاتا ہے کہ وہ گندگی سے نفرت اور طہارت سے راحت محسوس کرے۔ اگلی آیت 'وَالرُّجْزَ فَاهْجُر' اسی طہارت کو باطن تک وسیع کرتی ہے: جس طرح انسان جسمانی گندگی سے نفرت کرتا ہے، اسی طرح اسے اپنے خیالات، افکار اور نظریات کی ہر کجی اور نقص سے بھی پاک ہونا چاہیے، علم و عقل کی طرف بڑھنا چاہیے (سب الف: ظاہری، اخلاقی ونفسیاتی پاکیزگی)۔ (ب) اچھائی اور برائی کا معیار خالص ذاتی پسند نہیں بلکہ نوعی ہے — امام شاہ ولی اللہ کے نزدیک 'اثم' (گناہ) وہ ہے جسے انسان کی درست، عمومی فطرت اپنے لیے نقصان دہ سمجھ کر رد کرے، خواہ وہ اس کی اپنی جنس سے ہو یا غیر جنس سے؛ اور 'سعادت' وہ ہے جسے یہی فطرت اپنے لیے پسند کرے۔ ظاہری تہارت سے عملی قوت اور باطنی تہارت سے علمی و نظریاتی پختگی پیدا ہوتی ہے — اور کوئی بھی جماعت جو ساجی انقلاب لانا چاہے، اسے سب سے پہلے اپنے اندر یہی پاکیزگی پیدا کرنا ہوگی، کیونکہ جماعت کا اپنا ماحول ہی افراد کی سوچ اور روش کو ڈھالتا ہے۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 266-268؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  6. ساحت (یعنی ہمہ گیریت اور اس کی تمام شکلوں پر نوعی تقاضے (رائے کلی) کا غلبہ)۔
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    تیسرا خلق 'ساحت' امام شاہ ولی اللہ کے الفاظ میں یہ ہے کہ 'رائے کلی' (انسانیت کے مجموعی و عمومی تقاضے) حیوانی و بہیمی خواہشات پر غالب رہے۔ ہر انسان دنیا میں عزت، مرتبہ اور وقار حاصل کرنا چاہتا ہے؛ اگر یہ خواہش انسان کے نوعی تقاضوں — محبت، ہمدردی، بھائی چارہ، باہمی میل جول — کے مطابق ہو تو نتیجہ ترقی کی صورت میں نکلتا ہے، لیکن اگر یہی خواہش حیوانی تقاضوں کے تابع ہو جائے تو حسد، لالچ، مادہ پرستی اور ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعی مفاد کی قربانی جیسے نقصانات جنم لیتے ہیں۔ ساحت کے عملی ثمرات یہ ہیں: مصیبت میں بے صبری کے بجائے صبر، مال جمع کرنے کے بجائے سخاوت، اور انتقام کے بجائے شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے عفو و درگزر۔ جو جماعت ساجی انقلاب برپا کرنا چاہے، اسے سب سے پہلے یہ خلق اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا تاکہ اس کے افراد عزت و وقار کا حصول علم، کردار اور باہمی تعاون سے حاصل کریں، نہ کہ حیوانی رقابت سے۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 268-269؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
  7. عدالت (استحصال کی ممانعت اور رفاہیت عامہ کا قیام)۔
    • aامام شاہ ولی اللہ کے پاس سرمایہ پرست نظام کی بنیاد اور اس کے نتائج: i- سعادت اخروی سے غفلت، ii- غیر پیدا واری اخراجات کی کثرت اور سامان تعیش کی ہوس، iii- بیروزگاری کی وبا اور بے مقصد سرگرمیوں کا فروغ
    • bاستقامت کی اہمیت
    تفصیل دیکھیں
    کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

    چوتھا خلق 'عدالت' یہ ہے کہ استحصال کی ممانعت ہو اور رفاہِ عامہ کے ادارے قائم کیے جائیں — یعنی جس کام کا جو حقیقی نتیجہ اور جو معاوضہ بنتا ہے، اس سے زیادہ وصول نہ کیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء بھیجے (الحدید 57:25: کتاب و میزان کے ساتھ رسول اس لیے بھیجے گئے کہ لوگ عدل قائم کریں)۔ (الف) امام شاہ ولی اللہ نے کسریٰ و قیصر کی مثال سے سرمایہ پرست نظام کی تباہی کا تجزیہ کیا: جب یہ سلطنتیں وراثتاً مالدار ہوئیں تو ان کے امراء نے پیداوار کے بجائے بیت المال کے ناجائز استعمال اور کسانوں و تاجروں پر گراں ٹیکسوں کے ذریعے عیش و عشرت میں اضافہ کیا، جس کے تین بڑے نتائج نکلے: (i) سعادتِ اخروی سے مکمل غفلت، کیونکہ دل دنیاوی لذتوں میں کھو جاتے ہیں؛ (ii) غیر پیداواری اخراجات کی بھرمار اور عالی شان محلات و سامانِ تعیش کی ہوس، جو پیداوار کے بجائے استحصال سے پوری کی جاتی ہے؛ (iii) بیروزگار، بے مقصد طبقوں کی افزائش، جو آباء کے ناموں یا کھوکھلے عہدوں کے بل پر زندہ رہتے اور وقت کے ساتھ معاشرے پر بوجھ بنتے چلے جاتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے اسی زوال کو اٹھارویں صدی کی دہلی پر بھی منطبق کیا — کوئی بازار، دیہات یا طبقہ اس معاشی وبا سے محفوظ نہ رہا۔ (ب) اسی لیے آخری تقاضا استقامت کا ہے (وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر): جن کے مفادات اس انقلاب سے متصادم ہیں وہ ہر ممکن کوشش کریں گے — کبھی مخالفت سے، کبھی عہدے و اعزاز کی پیشکش سے — کہ انقلابی جماعت کو اپنے نظام کا حصہ بنا لیں؛ ان تمام حربوں کے مقابلے میں اللہ پر مکمل بھروسے کے ساتھ ثابت قدم رہنا ہی مطلوب ہے۔

    حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 269-276؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
حاصلِ تعلیم
  • اخلاقِ اربعہ کی بنیاد پر ساج کی تشکیل کے نظریے کا سوچ
  • مکمل ساجی تبدیلی کے لیے اسوہ نبوی ﷺ مکمل نمونہ
عملی تقاضے
  • غیر صالح نظام کو ترک کر قرآنی اصولوں کی روشنی میں صالح نظام کی جدوجہد کا قیام
ماخذ:
  • 1) قرآنی شعور انقلاب (طبع 2009،ص:635 تا657)(طبع2019 جلد اول،ص:254 تا277) تفسیر سورہ المدثر آیت نمبر 1 تا 10
  • 2) رجعات (اردو ترجمہ) طبع 1999م سندھ ساگر اکادمی لاہور
اضافی مواد (آڈیو)
C2S3T5.m4a
30.4 MB · 32:51
ٹرانسکرپشن مکمل
ٹرانسکرپٹ دیکھیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم یا ایبن المنطقی کن فعل کے اور کفا کفا وخیلہ روحان پاکی ونور دزاقہ کراکنوں نے مسرح کیا نہیں ہوتی کافی بسم اللہ الرحمن الرحیم اسی سکو قرآن انقلاب اس کا تعالی اس کے لئے اجتماعات اجتماعات کی جو نیت اور پھر اجتماعات کے لئے اس کے لئے حضورﷺ ہے اور ان سبوں کی حسن میں وہ قرآنی انقلاب جتنوں کرتے ہیں یہ بھی مرانی سے بھی جائے گا یہ بات چیز ابھی اس لئے موضوعات میں حسن نیمی ہیں پسیم سبسو میں لحاقتی موضوع ہے قرآنی انقلاب خیم مقاصد اور انہوں نے کہا کہ انقلاب لانا چاہتا ہے اس کے پیچھے نظر کیا انقلاب مقاصد ہے سائیکی کے اندر تبدیلی لاتا قرآن پاک انسانیت سے کس طرح کے تبدیلی کس طرح کے اخلاق کس طرح کا ان کا اسلامی نظام لانا چاہتا ہے تو اس موضوع کا جو ذریعہ ہے انسانیت کے چار بنیادی اخلاق کے تناظر میں قرآنی انقلاب کے مقاصد کو سمجھنا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نتی انقلاب کے ہوتا آیا اور انسانیت کے نوی انقلابوں کی روشنی میں ہم نے اس انقلاب کی امیر تواسط اس موضوع کو بردر اس موضوع کے اوپر باحثیت کر کے جو نظریہ ہم سے کرنا چاہتے ہیں وہ دین کا اجتماعییت کا ہے یعنی دین اسلام سیاست کے حوالے سے واضح پروگرام دیتا ہے اس نظریہ پر ہماری بیٹ آجائے گی اس کا کیا مطلب ہے اس نظریہ میں جامعیت احمیت کیسے ہے اور اس طرح سے یہ نظریہ باقی نظریات سے اسلامی نظریات سے خلافی نظریات سے اس طرح محققی قرآن پاک جب انقلاب کی بات کہتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انقلاب کا پروگرام مکہ کنس مہاشنہ میں لوگوں کے سامنے رکھا تو اس پروگرام کو سمجھنے کے لیے انقلاب کا نظریہ سمجھنے کے لیے مکہ کے رہنے والے اور قبائل وہ کس طرح کی ذہنیت رکھتے تھے ان کا ذہنی قسم نظر کیا تھا تو اس وقت قریش کے قبائل تین طرح کے ذہنی رجانات میں منقسم تھے ایک طبقہ تو قیسر مون کی طرف مائل تھا اس کے نظام اس کا روح اور تقدمہ دنیا اوپر اس کا قسلم دنیا اوپر اس کے ایک نانی ایک طبقہ کا رجحان اس ذہنی میدان قیسر مون کی طرف مائل تھا جبکہ دوسرا طبقہ اس کا ذہنی رجحان ذہنی میدان مشرق میں جس رہا اعلان کی طرف تھا اس کی سلطنت اس کی بادشاہت اس کی دنیا کے اندر شان و شوقت دوسرا طبقہ عرب قبائل کا وہ اعلان سے اس کی حکومت سے مربوط تھا ایک تیسرا طبقہ تھا عرب قبائل میں جو ان دونوں طبقات سے مختلف ذہنیت رکھتا تھا اور وہ ذہنیت حنیفیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے عرب قبائل میں چلی آ رہی تھا فقر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت انقلابی نظریات کے فروغ کے لیے اس طبقے کا انتخاب کیا وہ عرب قبائل میں تیسرے طبقے کے لوگ تھے یہ جو حنیفی ذہنیت رکھتے تھے حنیفی ذہنیت کیوں کہ اپنی سوسائٹی کے نظام کو چلانے کی ایک جتن جوہر اور کوشش کر رہے تھے کمیوں میں یہ تھی کہ ان کے پاس بوازِ رسول اللہﷺ نہیں تھا علاہِ احمد نہیں تھا فقر صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تیسرے طبقے کو آکر ایک نظریہ دیا ایک مسئلہ دیا ایک عدد دیا اور اس کے اوپر قرآن کی عادت میں شامل کیا نتی انقلاب اس کی جاملیت کیسے ہے اس طرح یہ انقلاب باقی انقلابات سے مختلف ہے کوئی بھی انقلاب جب معاشرے میں آتا ہے تو وہ اس دور کے انمیج اس دور کے مرزی حقائق اس دور کے انسانی سلسلی مسائل ان کے پیچھے نظر آتا ہے یہ تبعاثہ انقلاب کا انسانی سوسائٹی میں سے اُبرتا ہے یہ تو باری سے کسی انسانی معاشرے کے اوپر مسندلی نہیں آتا بلکہ انقلاب انسانی سوسائٹی کے اندر سے اس کے اندر کی آواز ہے کہ انسانیت اب اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ وہ اپنے اوپر غالب نظام کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انقلاب وہ جامع کسی تبعاثے تھا کہ اس نے انسانی سماج کے تمام دائروں کا احاطہ کیا اس انقلاب میں انسان کی مادی زوریاں کا بھی پورا احاطہ کیا اور پھر انسان کے اندر فقرہ کہا رہ میں ملکیت کی طاقت رکھی ہے جس سے اس کے روحانی تقاضی اُبرتے ہیں وہ روحانی زوریاں کے اوپر کی پورا ایک مکمل نظام انسانیت کے سامنے لکھا اتنا دن انسانیت کے نقطہ نظر سے پہلے ارموں کے اندر قومی سطح کا انقلاب برپا کیا گیا اور پھر انہی ارم لوگوں کی ذریعے سے اجمی اقوام کے اوپر بین الاقوامی انقلاب برپا کیا گیا اب اسلام کا یہ بینور قومی انقلاب جس طرح کے میں آپ سے پہلے اشارہ چکا ہوں یہ انسانی قدرتی تقاضوں اور انسانیت کی انہی تقاضوں کی تقمیل کے لیے ہے اور اس انقلاب کے جو بنیادی مقاصد ہیں وہ انسانیت کے انہی بنیادی اخلاف کی تقمیل ہے کہ جس پر اللہ تعالی نے انسانیت کی چطور کو بنایا ہے اس بنیاد پر یہ انقلاب جب عرق سے باہر نکل کر روم اور جنان کی سلطنت کو پڑھ پاتے ہوتا ہے تو نہ صرف یہ کہ ان ممالکہ اور ان اقوام کا اس کا جلوہ ہوتا ہے بلکہ وہاں کے رہنے والے انسان اس کے انقلاب کے انہی بنیادی انسانی تقاضوں کو محمد کرنے اور انسانیت کو انہی بنیادی اخلاف پر جمع کرنے پر اس کے انقلاب کو قبول کرنے یہ فرق ہے اسلام کے جامع انقلاب میں اور دنیا کے دیگر انقلابات میں کہ دیگر انقلابات تشیعہ کا انقلاب ہو جنونی فرنس کا انقلاب ہو وہ اپنے اپنی قوم سے دائجی اندازت کو اس نے اپنی قوم کی ضروریات کو پیشنے لگا رکھا اور وہاں پر اس کو تکیلی طرح کر دیئے لیکن وہ انقلابات دوسری اقوام تک اپنا اثر اور اپنا نتیجہ حاصل نہیں کرسکے تو قرآن کا انقلاب ایک جامع انقلاب مکمل سماجی تبدیلی کا انقلاب جس کے ذریعے سے انسانیت اپنے انہی تقاضوں کو اتاقب آگے بڑھتی ہے تو سورة المدسج جو ہے اس کے بھی آیات آپ اس سامنے جنابتی ہیں اس میں اسی قرآنی انقلاب کے ان بنیادی اخلاف کا تذکرہ ہے تو وہ بنیادی اخلاف جو انسانیت کی میراز ہیں انسانیت کی فطرت کا تقاضہ ہیں اس کے انہی تقاضوں کی تقمیل کرتے ہیں تو آپ صدر اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں یا ایوہ المدسج ہے ظلم کے نظاموں کو توڑنے والے حجز سنگیر احمد اللہ علیہ اس کا مفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صدر اللہ علیہ وسلم کی جو حسیط ہے آپ کی جو ایک سگھت ہے آپ کا ایک نام ہے جس کا تذکرہ موتایمہ مالک میں ہے وہ نبی صدر اللہ علیہ وسلم اپنے اس نام کی تشریف کرتے ہوئے ترماتے ہیں قلب آتی کہ جس کا مطلب ہلاک کرنے والا توڑنے والا یعنی انسانوں کے اوپر غالب انسانی معاشر کے اوپر مسلط وہ تمام نظام جو ظلم کی وجہ سے ہیں جس کا عدب اور مقصد انسانیت کے اندر بدعملی بے چہنی تباہی قائم کرنا ہے تو آپ صدر اللہ علیہ وسلم کی یہ سگھت ہے کہ آپ کو نظاموں کو ختم کرنے والے اور پھر آپ اٹھئے اور کرے ہو جائیں ان لوگوں کو ڈرائیں یعنی وہ جو انقلاب اس کے لیے جس نظریے کی اشارت کی ضرورت ہے جس دعوت کی عملی کی فروغ کی ضرورت ہے اس انقلاب کی فروغ کے لیے اس کے نظریے کی تدریب کے لیے لوگوں میں اس کو فرمان چڑھانے کے لیے آپ انفرادی طور پر لوگوں سے ملیں تو وہ آپ صدر اللہ علیہ وسلم کا وہ زمانہ جس میں آپ نے پکیہ دعوت دی جو جو دیوارنے کے بعد وہ دو تین سال کا حصہ ہے جس میں آپ پر کن کن لوگوں سے ملتے اور افراد سے مل کر روحان باقیہ بھی نظریہ ان کے سامنے رکھتے انہیں دکاتے اور پھر ان کی صلائیت کے مطابق انہیں آگے مزید اس نظریے کی تدریب کے لیے ان کے تعلقات کے ذریعے اسلام کو آگے بڑھانے کے لیے آپ نے قدم اٹھایا تو دراصل یہ جو عمل ہے یہ جو مقدمہ ہے یہ انفرادی دعوت سے اب اجتماعی دعوت کی طرف ہے لوگوں کو ڈرانے کا مطلب اب آپ پہلے جو دعوت سکتیا طور پر انفرادی طور پر لوگوں کو دے رہتے اب وہ آپ کام اجتماع میں آ کر اعلان کر کے لوگوں کو اس بات کی طرف دلائیں کہ ان کے مسائل کا حل ان کی مسئلتوں اور تدریبوں کا حل جو اب زحل کے نظام کی شکل میں ان کے معاشرے کے اوپر مسلط ہے اس کا حل انقرابی نظریے کا فہم حاصل کرنے انقرابی نظریے کے سیکھنے اور اس نظریے پر جماعت سازی کا عمل اختیار کر کے اس کا رکن بن کر اس میں جتو جو کرنے سے ہے تو جس طرح پہلے موضوعات میں اس کا تذکرہ دیا گیا کہ جو اس سماعات کے خاص ارکین تھے ان کے لیے پروگرام کی عامل لے کر دیا گیا کہ رات کا قیام ان کے لیے ضروری قرار دیا گیا اور اس کی وضاحت بھی آپ کے سامنے آئی کہ اس طرح سے اس قیام اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انسانی نفس کی جو خواہشات ہیں انسانی نفس کے جو دیجہ حد سے بڑے ہوئے تقاضے ہیں ان کو کس طرح سے کنٹرول کیا جاتا ہے تو ایک تو جماعت خاص کے لیے قیام اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر وہ لوگ جو اس انقلاب کے نظریے کو سیکھ چکے تو وہ دین کے معاملات میں اس انقلاب کی دعوت میں غروب کردار دا کرے غروب آگئے اس نظریے کی آگئے اس کے منتقل کرنے میں اپنا کردار دا کرے اب وہ اخلاق جو قرآنی انقلاب کا مقصد ہے اس انکون اخلاق کا تعرف مدرسہ و علی اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح مطلعہ کراتے ہیں کہ دنیا میں جتنے بھی شریعتیں آئیں دنیا میں جتنے بھی قوانین آئیں انسانی حدائق اور نمائی کے دنیا میں جتنے بھی نیکی کے تصورات دیئے گئے اور جتنے بھی بھید کے برائی کے نظریات بنے ان سب کا حاصل انہی اخلاق پر مبنی معاشرہ قائم کرنا ہے یعنی نیکی اور بھید کا لازمی نتیجہ اخلاق پر مبنی سوسائٹی قائم کرنا ہے عقائد عامال جن کی جو عقیدہ ہے اس عقیدے پر عمل تو کر دیا جائے لیکن اس عمل کرنے کے بعد وہ خود پیدا نہ ہو تو وہ نتیجہ وہ عمل پر نتیجہ ہو جائے گا بے اثر ہو جائے گا اثر مقصد عامال کرنے کا اخلاق پیدا کرنا ہے رشاہ صاحب نے اس کا علمی اخلاق کو قرآنی دلائل سے واضح کیا اور یہ بات واضح کی یہ یہ چار بنیادی اخلاق قرآن سے ثابت ہیں عقید سے ثابت ہیں اس کی قبعہ سب شریعتیں ان اخلاق کی بلا کر کرتے ہیں اب ان چار اخلاق میں جو بنیادی خلق ہے پہلا وہ اتبات کا ہے وربکا کا فقبیر اور اپنے رب کی بڑائی بیان کریں اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا مطلب کیا ہے کہ اللہ بڑا ہے سب سے بڑا ہے اس کا اسطاعنات کے اوپر مسلط ہے اس کا اقتدار ہے اس کا اختیار ہے اس کی حاکمیت ہے اس کا غلبہ ہے اس کا نظام ہے اس کا قانون ہے اس سب پر وہ غالب حصہیت رکھتا ہے انسان جب اس کو پر غور پیپر کرتا ہے تو وہ اپنی عقل کی ساری قوتوں کو استعمال میں لاکر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس کی عقل اس کی سوچ اس کی قاتل اس کی اوپر اس مرکزی قاتل اور مرکزی اوپر کے مقابلے پر محدود ہے تو وہ اپنے آپ کو اس بڑی قاتل کے سامنے سرنڈر کرسہ ہے اپنی آنزی اپنی کمزوری اپنی بیبسی کا اظہار کرتا ہے یہ جذبہ کسی خاص مذہب کے ساتھ منسلی ہوئی ہے کہ صرف اسلام کے ماننے والے مسلمان ہی ایسا جذبہ رکھتے ہیں بلکہ اتباع ان اللہ کا یہ جذبہ دنیا کے ہر انسان کے اندر فکری طور پر بائے جاتا ہے اور کسی جذبے کو بنیاد بنا کر قرآن اپنا مقصد واضح کرنا چاہتا ہے کہ جس طرح انسان اس کائنات کے نظام میں اللہ تعالیٰ کو بڑا مانتے ہیں اسی طرح سے انسان اپنے دنیا کے نظام میں دنیا کے محول میں اللہ کے نظام اللہ کے قانون کو بالہ دستی اور بالہ ابرتر حصیت دیں اللہ کو بڑا ماننے کا یہ مطلب ہے اللہ سے برتر کسی کو طاقتور نہ ماننا جائے تو جو قیام جو فطرت انسان کی ہے اسی فطرت کو سامنے رکھ کر قرآن نے اپنے مقصد کا تعلیم کیا کہ قرآن کسی مقصد پر سوسائٹی کو آگے لانا چاہتا ہے تو یہ سوسائٹی کے اندر کی فلک کو بڑھانا چاہتا ہے اس کو سوسائٹی کی تشکیل کرنا چاہتا ہے دوسرا کل جس کے یہاں باتا پتاں گے تہارت کا مطلب پاکیس کی حاصل کرنا ہر طرح کی پاکیس کی یعنی اس آیت کا جس میں تذکرہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا لباس پاک کریں تو لباس کا تعلق انسان کے جسم سے ہے لباس ساف ہو ور جسم ساف نہ ہو تو یہ چیز انسان کی اگر اس کو تذکرہ نہیں کریں لباس کی پاکیس کی تقاضی کرتی ہے کہ وہ اس کا بدن جسم جس کے ساتھ یہ لباس ہے وہ ساف ہونا چاہتا ہے بلکہ جب لباس ساف ہو گیا بدن ساف ہو گیا تو انسان خود کس محول میں ہے اگلا تقاضی اس محول کی پاکیس کی ہے تو یہ تہارت حاصل کرنے کا ظاہری عمل یہ تین دائروں میں انسانوں کے اندر فلک اس بنیادی فطرت کو واضح کرتا ہے یہ عمل دنیا بھر کے انسانوں میں موجود ہے دنیا بھر کے انسان اپنے اس فطری تقاضی کی تنفیز جاتے ہیں لیکن جو غالب نظام ہے جو ظلم کا نظام ہے اس نے انسان کے اس فطری عمل کو رسمیت دے دی کہ ایک رسمیت کے طور پر تو انسان یہ عمل کرنا ہے تہارت کا فلک حاصل کرنا ہے لیکن جو اس کی روح ہے اس روح تک پہنچنے کی رسائی حاصل نہیں کر پا رہا تھا اب جس طرح ظاہری تہارت انسان کی فطرت کا تقاضی ہے تو اس کا اگلا مرحلہ انسان کے باطن کے اندر پاکیس کی تہارت انسان کے خیالات اس کے افکار و نظریات اس کے اندر سے ہر طرح جو کجربی ہے جو علمی کمی ہے جو اقدی طور پر اس میں نقص ہے تو وہ ان خیالات کو چھوڑ دے اور اس کی طرف اس علم کا انتخاب کرے اس عقل کی طرف بڑھے اس شعور کی طرف بڑھے جو اس کے باطن میں موجود جو اس کی فطرت کے تصورات ہیں اس کی طرف اس کے باطن کو پہنچے گا اب تہارت کا یہ فلک ہے ظاہری تہارت باطن تہارت اس سے کیا نتیجہ آئے گا انسان کے اندر عمل کی قوت پیدا ہوگا تو عمل کی قوت اس فلک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور علم کی قوت اس سے پیشنے فلک میں اتباع کے ساتھ جڑی ہوئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کو اس تہارت کا فلک حاصل کرنے کی تنقید دی جا رہی ہے کہ جماعت جب سسائٹی میں انقلاب لانا چاہتی ہے سسائٹی میں تبدیلی لانا چاہتی ہے اس کے اندر سب سے پہلے درجے میں اس فلک کا پیدا ہونا ضروری ہے یہ فلک جماعت میں آئے گا افراد میں آئے گا تو ان کے ظاہری رویے بھی درست ہوں گے ابھی دیکھیں نا کہ ہم ایک محول میں بیٹھے ہیں یہ جماعت کا پیدا کردہ محول ہے اس محول کے اندر رہ کر ہم افکار خیالات نظریات قرآن کا تہہم اور تقضیب حاصل کر رہے ہیں تو یہ محول کا نتیجہ ہے نا ایک صاف محول ایک انتہ محول جس کے اندر ہم بیٹھیں اس طرح کی بات سیکھنے کے لئے تو یہ فلک انسانوں کو ان کے باطنی افکار کی بھی پاکیزی کی طرف رکھپندے لاتا ہے اور جماعت کے اندر عملی قوت کو مضبوط کرنے کے لئے اس فلک کا اتجاد کرنا ضروری ہے تیسرا فلک جس کے طرف قرآن پاک میں وضاحت کی گئی وہ رضا پرکتو اور اپنے آپ کو جندگی سے دور رکھی ہے اب اس سماحت کا مطلق ہے اس کا عام مفہوم یہ ہے کہ ہر انسان دنیا میں عزت مرتبہ اور وقار حاصل کرنا چاہتا ہے اب یہ عزت مرتبہ اور وقار کا حصول ہے یہ اگر انسان کی نوئی تقاضوں کے مطابق ہوگا تو انسان ترقی کرے گا انسان کی نوئی تقاضیں کیا ہیں کہ اس کی انسانیت اس میں نظر آئے گا اب انسان جو ہے اس کا مادہ انس ہے انسان کو اللہ تعالیٰ نے محبت پیار حقوق بھائی چارہ اجتماعیہ دوسرے انسانوں کے ساتھ مل جول کر رہنے والا دوسرے انسانوں کے ساتھ محبت کے ساتھ مقدمی کرنے والا یہ اس کا بنیادی فلک ہوتا ہے تو جو عزت وقار اور مرتبہ کا حصول اس نوئی تقاضے کے قابل ہوگا تو یہ اس پر نتیجہ دے گا اور اگر یہ بھی عزت مرتبہ کا حصول نوئی تقاضے سے ہٹ کر بہینی تقاضے کے تناسب میں ہوگا بہمانی تقاضے کے تناسب میں ہوگا تو اس کے اثرات اور نتائج مصبت کی وجہہ میں نہیں آئے گی انسان مخمدتی آئے گی محبت پرستی آئے گی گانت جائے گی اور وہ اپنے مخامات کے لیے اجتماعی مخامات کو قربان کرے گا اپنی ذات کے لیے اپنے مالی فائدے کے لیے اپنے حفاظش کی تقریر کے لیے وہ انسانی نوئی تقاضوں کی نکی کرے گا اس سائیٹی کے اندر اس کا پورا اثر اور نتیجہ اس کے ساتھ جو پاکی افکار ہیں جس طرح سمر کا آ جانا اس میں یہ سماحت کا پھل کا نتیجہ ہے کہ مصیبت کے وقت میں انسان جزاء الفضاء کے بجائے اس چیز کو اس مشکل مرحلے کو اس پریشانی کو وہ سبر کے ساتھ انتہا کرے اسی طرح سے صحاوت کی شکل میں سماحت کے پھل کا اظہار ہوتا ہے کہ انسان جو ہے اس کے اندر محبت اور مال جمع کرنا اپنی خواہشات کو غالب کرنا اس چیز کی کمی آئے اور اسی طرح سے حفظ و درگزر یعنی انتقام لینے کا جو بدلہ ہے یا اس چیز کو جو ہے انسان درگزر کرے یعنی شریعت کی جو بنائی ہوئی حدود ہیں ان میں رہ کر انسان اپنے سماحت کے خلق کی جو ہے وہ تقریر کرے تو وہ انقلامی جماعت جو سائیٹی میں انقلام کرنا چاہتی ہے اس کے لیے اس تیزرے خلق کے مطابق اپنی تقریر کرنا اور اس خلق کو اپنے اندر پیدا کرنا تاکہ تعلیمی اور تقریری نظام میں رہتے ہوئے ہم عزت وقار اور پورے اتمنان کے ساتھ اپنے علم کی بھی آبیاری کریں اپنے نظریات کو بھی بہتر کریں اور پھر اس تنظیمی عمل کے تقریری دائرے میں رہتے ہوئے محصد کے دائرے میں چوتھا خلق جس کا یہاں میں تذکران ہوا وہ ادارت کا اور ایسا نہ کریں کہ کام کریں تو اس کا معافظہ اس کے کیے گئے کام سے زیادہ کرنے جائے اس بات سے آپ کو روکا جائے آپ کوئی کام اگر کیا جائے تو اس کا معافظہ پرہا کر لیا جائے تو یہ کس خلق کی نفی ہے عدل کی عدل کا جو خلق ہے وہ یہ ہے کہ جو کام جس طرح سے ہوا اس کا جو نتیجہ بنتا ہے وہ اس کا معافظہ اس کا ریزرٹ اسے مل جائے اسی طرح سے اس میں زیادتی نہ ہو تو اس مثال کی یہ بنیادی قیام ہے، حفاظی قیامہ کا قیام ہے، اب یہ عدالت جو ہے یہ اصل میں وہ قلد ہے کہ جس کی حیثیت بڑی بنیادی ہے یہ ہر سوسائیٹی میں، ہر انسانی معاشرے میں فطرت کی آواز ہے اس کی نوعیت ادالے کی ترمیل کے لیے اس عدالت کو قلد بنیادی قصہ یہ سوسائیٹی کے اندر نظامِ ظلم کا خاتمہ ہو اس نظامِ ظلم کی وجہ سے بنے ہوئے جو معاشی طرفات ہیں اور اس نظامِ ظلم کی وجہ سے جو سماجی طور پر مسابات کی عدم عدلِ مسابات کی جو سکترال ہے اس کی مطیبہ اب یہ وہ قلد ہے جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے سارے نبی مبوث کیے جتنے بھی نبی دنیا میں آئے قرآنِ پاک میں اس کا تذکرہ ہے ستائیس میں بارے میں اِنہاں پر ارسلنا رسولہ نا بالبیلینا فانسلنا معاہو بالکتاب والنزان لیعفو بننا سلوک بسکے کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے ان کے ساتھ جتنی بھی کتابیں نازل کی جتنی بھی شریعتیں آئیں ان سب کا حاصل ان سب کا مقصد صرف ایک تھا کہ انسانیت عدل و انصاف کے نظام کا قائم ہو جائے تو یہ عدالت کا حکم یہ بنیادی ہے احمیت رکھتا ہے کسی عدالت کے حکم کو قائم کرنے کے لیے قرآن انقلاب کا نظریہ دیتا ہے انقلاب کا جماعت کی دھیانی کی بات کرتا ہے نائنفرابی کی ضرورت کی بات کرتا ہے یہ حکم قائم ہوگا اس کی سیاسی بھی قائم ہوگی تو سوسائیکی کے اندر سماعت اتبار اور تہارت کے حکم اپنی اصل شہر شکل میں گزر آئے گے اور اسی حکم کے نتیجے میں معاشرہ جو ہے وہ ترقی کرے گا اور آگے کی طرف کرے گا اور پھر اگلی آیت جو انکی انزار افلاق کے اوپر اللہ تعالیٰ آپ کی وہ استقامت کی بات کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ آپ خسوئے کہ قرآن کا جو بہرحوامی پروگرام ہے اس کے اوپر آپ نے ہر حالیس نے کٹے رہنا ہے مخادمین کی مخادفت مخادمین کی جتنی کی تدابیریں ہیں اور ان کی تدابیریں میں اگر کوئی ایسی تدبیر بھی ہے تو وہ آپ کو اور آپ کی جماعت کو اپنے نظام کا حصہ بنانا چاہتے ہیں آپ کو بنانے کی پیشتش کریں تو تب بھی آپ نے اپنا جو بنیادی حدف اور مقصد ہے دنیا میں بہرحوامی اطلاق قائم کرنے کا اس سے پیشے نہیں بنانا اور اللہ کی بروسے پر کام کو جاری رکھنا ہے تو یہ کچھ بزارشات تھی بہرحوامی اطلاق کے مقصد کے حوالے سے اللہ تعالیٰ سے دعا دارکہ اللہ تعالیٰ میں یہ کو سمجھ لے اس کا مطلب یہ ہے