بعثت کے وقت عربوں کی ذہنی حالت — کیا عرب مکمل طور پر وحشی تھے؟
بعثت کے وقت مکہ کے قبائل تین ذہنی رجحانات میں منقسم تھے: ایک طبقہ قیصرِ روم کی سلطنت، شان و شوکت اور عالمی تسلط کی طرف مائل تھا؛ دوسرا طبقہ کسریٰ ایران کے نظام سے سیاسی و تجارتی طور پر جڑا ہوا تھا اور اسی کی بادشاہت کی طرف ذہنی رجحان رکھتا تھا؛ جبکہ تیسرا طبقہ ان دونوں عالمی طاقتوں سے الگ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے چلی آ رہی ملتِ حنیفیہ پر قائم تھا۔ نبی اکرم ﷺ خود بعثت سے پہلے ہی اس تیسرے، حنیفی طبقے کے سرگرم رکن تھے اور آپ ﷺ میں اس گروہ کی قیادت کی خداداد صلاحیت بھی موجود تھی۔ اس طبقے کی کمی صرف یہ تھی کہ ان کے پاس نہ کوئی نامزد رسول تھا نہ کوئی مرتب نظام۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی انقلابی دعوت کے فروغ کے لیے ابتداءً اسی تیسرے طبقے کو منتخب کیا، انہیں نصب العین، رسول اور نظام عطا کیا، اور اپنی دعوت میں شامل کر لیا۔
قرآنی شعورِ انقلاب، جلد دوم، ص 259 پر سورۃ مدثر کی تفسیر کا آغاز ہی اس کیپوائنٹ کی اصل بنیاد ہے۔ عنوان: "تفسیر سورۃ مدثر — بین الاقوامی انقلاب کے اصول"۔ وہاں سب سے پہلے لفظ "مدثر" کی لغوی تشریح دی گئی ہے، موطا امام مالکؓ کے حوالے سے: "لفظ مدثر کی تشریح کے دوران بیان کیا جا چکا ہے کہ موطا امام مالکؓ میں حضرت محمد رسول اللہﷺ کا ایک نام 'المداحی' ہے، جس کے معنی خود حضرت نبی اکرمﷺ نے بتائے ہیں کہ یَمحُو اللہُ بِہِ الکُفر (یعنی میرے ذریعے سے اللہ کفر کو محو کرے گا)۔ چنانچہ لغوی طور پر دثر کے معنی ہلاک (المَحق اور الاِھلاک والمَوارد) کے یعنی ہلاک کرنا بیان کیے گئے ہیں جو بالکل 'المحاحی' کے معنوں کے مترادف ہیں۔ پس مدثر کے معنی ہیں دنیائے انسانیت میں سے ہر ہر قسم کا ظلم دور مٹانے والا۔" اس کے فوراً بعد ایک براہ راست سیرت پر مبنی نکتہ آتا ہے: "نبی اکرمﷺ یہ کام ملتِ حنیفیہ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصول حیات کو دوبارہ زندہ کرنے سے کریں گے جو آپؐ کی گھٹی میں پڑی تھی، اور جس کے نمائندے قریش تھے۔ نبی اکرمﷺ کی سیرت پر ایک نکتہ: سیرت (علیہ صاحبھا الثناء والسلام) کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ ملتِ حنیفیہ ابراہیمیہ کے قیام کے لیے طبعاً تاب تھے۔ آپؐ کی تربیت بھی قریش کے گھرانوں میں ہوئی، جن میں اس ملت کی اچھی اچھی باتیں باقی تھیں۔" یعنی موجودہ محفوظ شدہ key_point_details نوٹ کا حوالہ (ص 260-261) اصل میں ایک قدم آگے سے شروع ہوتا ہے — تفسیر کی حقیقی بنیاد (مدثر کا لغوی مطلب، اور نبیﷺ کا خود ملتِ حنیفیہ سے طبعی و خاندانی تعلق) ص 259 پر ہے۔
قرآنی شعورِ انقلاب، جلد دوم، ص 259 پر یہ جملہ آتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی تربیت قریش کے گھرانوں میں ہوئی، "جن میں اس ملت کی اچھی اچھی باتیں باقی تھیں۔" اسی جملے سے متصل فٹ نوٹ (ص 260) میں مصنف لکھتے ہیں: "یہ خیال غلط ہے کہ قریش اور اہل عرب افریقہ کے وحشیوں کی طرح بالکل وحشی لوگ تھے جن میں کوئی انسانی خوبی باقی نہ تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ قریش اور اکثر اہل عرب میں ملت اہل حنیفیہ کا اچھا خاصا حصہ باقی تھا۔ جیسے آج کل کے مسلمانوں میں تباہی کے باوجود اپنے بزرگوں کی بہت سی اچھی باتیں موجود ہیں۔"
یہ فٹ نوٹ خود ایک حوالہ دیتا ہے: "تفصیل کے لیے دیکھئے حجۃ اللہ البالغہ، جلد اول، ص 124" — یعنی امام شاہ ولی اللہ کی اصل تصنیف، جہاں یہ دلیل تفصیل سے دی گئی ہے۔ لیکچر کی کتاب کا حوالہ خود حتمی ثبوت نہیں بلکہ اس اصل ماخذ کی طرف اشارہ ہے۔ لیکچر میں پیش کرنے سے پہلے حجۃ اللہ البالغہ کا یہ صفحہ خود پڑھ لینا بہتر ہوگا تاکہ دعویٰ خود اپنے بنیادی ماخذ سے تصدیق شدہ ہو، نہ کہ محض ایک ثانوی حوالے پر انحصار ہو۔
لیکچر کا basic_theory میدان "دین حق کی جامعیت" ہے۔ یہ کیپوائنٹ اس جامعیت کی بنیاد اس طرح رکھتا ہے کہ وہ دکھاتا ہے کہ یہ جامعیت کسی اجنبی یا مصنوعی طور پر تھونپی گئی چیز نہیں بلکہ انسانی فطرت کے ساتھ تسلسل رکھتی ہے: عرب کے تیسرے طبقے (حنیفیت پر قائم) کے پاس پہلے سے ایک فطری اخلاقی صلاحیت موجود تھی، صرف نصب العین، رسول اور مرتب نظام کی کمی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے وہی کمی پوری کی۔ گویا جامعیت کا آغاز کسی خالی جگہ سے نہیں بلکہ ایک زندہ، اگرچہ ناکمل، فطری روایت (ملتِ حنیفیہ) سے ہوا جسے مکمل اور عالمگیر بنایا گیا (کیپوائنٹ 2 کا موضوع)۔ مزید یہ کہ مدثر کے لغوی معنی — "دنیائے انسانیت میں سے ہر ہر قسم کا ظلم دور مٹانے والا" — وہی لسانی نکتہ ہے جو بعد میں کیپوائنٹ 2 کے تحت ص 261 پر جامع انقلاب کی دلیل کے طور پر دہرایا جاتا ہے ("الکفر... ہر ہر قسم کا کفر... نکالنے والا")۔ یعنی کیپوائنٹ 1 اور 2 ایک ہی لسانی و استدلالی دھارے کے دو حصے ہیں، الگ الگ دلائل نہیں۔ لیکچر کے موضوع (قرآنی انقلاب کے مقاصد) سے تعلق: یہ کیپوائنٹ وہ سبب فراہم کرتا ہے کہ انقلاب کے مقاصد اس مخصوص شکل میں کیوں سامنے آئے — چونکہ ہدف بننے والا طبقہ پہلے سے فطری اہلیت رکھتا تھا مگر نصب العین/رسول/نظام سے محروم تھا، اس لیے انقلاب کے 'مقاصد' دراصل وہی تین کمیاں پوری کرنے کا عمل ہیں: نصب العین (کیپوائنٹس 4-7 کے چار اخلاق)، رسول (نبی اکرمﷺ کی ذات)، اور نظام (کیپوائنٹ 3 کی نشرواشاعت)۔
فٹ نوٹ کے دعوے کو مزید ٹھوس بنانے کے لیے سیرت و تاریخ کی معروف کتب میں یہ شواہد ملتے ہیں: — حنفاء: بعثت سے پہلے بھی کچھ افراد بت پرستی کو رد کر کے ملتِ ابراہیمی پر قائم تھے، جیسے ورقہ بن نوفل، زید بن عمرو بن نفیل، قس بن ساعدہ الایادی، اور امیہ بن ابی الصلت۔ ان افراد کا وجود اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ حنیفیت کوئی نظریاتی دعویٰ نہیں بلکہ زندہ روایت تھی۔ — حلف الفضول: بعثت سے پہلے قریش کے کچھ خاندانوں نے ایک معاہدہ کیا تھا کہ مکہ میں کسی مظلوم پر ظلم ہو تو اس کی مدد کی جائے گی۔ نبی اکرم ﷺ نے نبوت کے بعد بھی فرمایا کہ اگر آج بھی ایسے معاہدے کی دعوت دی جائے تو میں شریک ہوں گا — یہ پیشگی اخلاقی شعور کی واضح مثال ہے۔ — مروت: مہمان نوازی، وعدے کی پاسداری، کمزور کی حمایت، بزدلی و بخل سے نفرت — یہ عرب معاشرے کی جاہلی شاعری اور روایات میں مسلسل نظر آنے والی قدریں ہیں، جو خود ظاہر کرتی ہیں کہ معاشرہ اخلاقی طور پر خالی نہ تھا۔ — خانہ کعبہ کی تولیت: بت پرستی شامل ہو جانے کے باوجود، حج کے مناسک اور زم زم کی روایت حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام سے چلی آ رہی روایت کا تسلسل تھی، جسے قریش نے سنبھالے رکھا۔
ورقہ بن نوفل زید بن عمرو بن نفیل قس بن ساعدہ الایادی امیہ بن ابی الصلت حنفاء (واحد: حنیف) حلف الفضول مروت (عربی اصل: مروءت) حجۃ اللہ البالغہ
فٹ نوٹ میں دیا گیا موازنہ ("افریقہ کے وحشیوں کی طرح") صرف اس غلط خیال کی نشاندہی کے لیے ہے جسے مصنف رد کر رہے ہیں — لیکن یہ موازنہ خود ایک قوم کے بارے میں تحقیرآمیز عمومیت پر مبنی ہے جو آج کے سامعین کے لیے غیر ضروری اور نامناسب تاثر دے سکتی ہے۔ اصل نکتہ — کہ قریش اور عرب اخلاقی طور پر خالی نہ تھے بلکہ ملتِ حنیفیہ کا حصہ ان میں باقی تھا — اس موازنے کے بغیر بھی مکمل طور پر واضح اور مؤثر انداز میں بیان ہو سکتا ہے۔