پریپ نوٹس — لیکچر 5: قرآنی انقلاب کے مقاصد

دوسرا خُلق: طہارت — لباسی و جسمانی پاکیزگی سے باطنی پاکیزگی تک، اور نیکی و بدی کا نوعی معیار

موجودہ خلاصہ
کتابلیکچر ٹرانسکرپٹ

دوسرا خلق آیتِ 'وَثِيَابَكَ فَطَهِّر' سے ثابت ہوتا ہے — ظاہری پاکیزگی، جو تین دائروں میں پھیلی ہے: لباس کی صفائی، بدن کی صفائی، اور اس ماحول کی صفائی جس میں انسان رہتا ہے۔ یہ فطری میلان ہر انسان میں پایا جاتا ہے کہ وہ گندگی سے نفرت اور طہارت سے راحت محسوس کرے۔ اگلی آیت 'وَالرُّجْزَ فَاهْجُر' اسی طہارت کو باطن تک وسیع کرتی ہے: جس طرح انسان جسمانی گندگی سے نفرت کرتا ہے، اسی طرح اسے اپنے خیالات، افکار اور نظریات کی ہر کجی اور نقص سے بھی پاک ہونا چاہیے، علم و عقل کی طرف بڑھنا چاہیے (سب الف: ظاہری، اخلاقی ونفسیاتی پاکیزگی)۔ (ب) اچھائی اور برائی کا معیار خالص ذاتی پسند نہیں بلکہ نوعی ہے — امام شاہ ولی اللہ کے نزدیک 'اثم' (گناہ) وہ ہے جسے انسان کی درست، عمومی فطرت اپنے لیے نقصان دہ سمجھ کر رد کرے، خواہ وہ اس کی اپنی جنس سے ہو یا غیر جنس سے؛ اور 'سعادت' وہ ہے جسے یہی فطرت اپنے لیے پسند کرے۔ ظاہری تہارت سے عملی قوت اور باطنی تہارت سے علمی و نظریاتی پختگی پیدا ہوتی ہے — اور کوئی بھی جماعت جو ساجی انقلاب لانا چاہے، اسے سب سے پہلے اپنے اندر یہی پاکیزگی پیدا کرنا ہوگی، کیونکہ جماعت کا اپنا ماحول ہی افراد کی سوچ اور روش کو ڈھالتا ہے۔

حوالہ: قرآنی شعور انقلاب، جلد دوم، ص 266-268؛ لیکچر ٹرانسکرپٹ
اصل حوالہ (کتاب کی اصل عبارت)

قرآنی شعورِ انقلاب، جلد دوم، ص266 پر آیت نمبر4 "وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ" ("اور اپنا لباس پاک رکھ") کی تفسیر میں سرخی: "لباسِ کی پاکیزگی" — "اس انقلاب کے لیے کوئی خاص نشان (Emblem) یا وردی (Uniform) کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی انقلاب ہے جو ہر قوم میں ظاہر ہوگا۔ البتہ ایک شرط یہ ہے کہ وہ لباس پاک ہو اور اخلاق کی پاکیزگی میں مدد دینے والا ہو۔ اس کا نتیجہ: لباس کی پاکیزگی بدن اور بیرونی ماحول کی پاکیزگی کو چاہتی ہے... انسان ان نجاستوں سے پاک ہو کر ایک قسم کی فرحت اور انبساط اپنے نفس کے اندر پاتا ہے۔ اس احساس کا نام طہارت ہے۔ حکمتِ ولی اللٰہی میں انسانیت کا ایک بنیادی خُلق ہے۔" (ص266) پھر سرخی "نفسیاتی نجاستوں سے اجتناب": "اسی طرح انسان نفسیاتی نجاستوں یعنی جوشِ غضب، پیاس، بھوک اور دیگر شہوات وغیرہ سے طبیعت کو پاک کر لے تو بھی ایک قسم کا سکون اور سرور محسوس کرتا ہے... اس کا نتیجہ: انسان خُلقِ طہارت میں کمال حاصل کر لے تو وہ عالمِ مثال کی قوتوں سے ملحق ہو جاتا ہے۔" (ص266) آیت نمبر5 "وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ" ("اور گندگی سے دور رہ") کی تفسیر میں سرخی "باطنی پاکیزگی": "ظاہری پاکیزگی کے ساتھ باطنی پاکیزگی کا بھی خیال رکھ۔ اس ناپاکی سے بھی نفرت کر۔" (ص267) پھر: "امام الائمہ کے نزدیک برائی —اثم— کا معیار شخصی نہیں بلکہ نوعی تقاضا ہے۔" اور امام شاہ ولی اللہ کی تعریفِ "سعادتِ انسانی" نقل کی جاتی ہے: "اِعۡلَمۡ اَنَّ لِلۡاِنۡسَانِ کَمَالًا کَمَالَ تَقۡتَضِیۡہِ الصُّورَۃُ النَّوۡعِیَّۃُ وَ کَمَالًا یَقۡتَضِیۡہِ مَوۡضُوۡعُ النَّوۡعِ مِنَ الۡجِنۡسِ الۡقَرِیۡبِ وَالۡبَعِیۡدِ وَسَعَادَتُہُ الَّتِیۡ یَقُدُّہَا وَیَقۡصِدُہَا اَھۡلُ الۡعُقُوۡلِ الۡمُسۡتَقِیۡمَۃِ قَصۡدًا مُؤَکَّدًا ھُوَالۡاَوَّلُ" (حجۃ اللہ البالغہ، جلد اول، ص50) "یعنی واضح رہے کہ انسان میں دو قسم کے کمالات ہو سکتے ہیں: ایک وہ جو اس کی صورتِ نوعیہ کے تقاضے سے پیدا ہوا، دوسرے وہ جو اس کی جنسِ قریب (حیوانیت) اور جنسِ بعید (جمادیت) کا تقاضا ہے، لیکن وہ سعادت جس کی عدمِ موجودگی سے انسان کو نقصان پہنچتا ہے، اور جسے ہر صاحبِ عقلِ سلیم حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، وہ اول الذکر ہے۔" (ص267-268) "پس شقاوت (بدبختی اور برائی) وہ ہوگی جو انسان کے نوعی تقاضے کے خلاف ہو۔ اسے قرآن حکیم کی اصطلاح میں 'منکر' قرار دیا گیا ہے۔" (ص268)

لیکچر ٹرانسکرپٹ سے متعلقہ حصہ

"دوسرا خُلق جس کا یہاں بتایا گیا، طہارت کا، مطلب پاکیزگی حاصل کرنا، ہر طرح کی پاکیزگی — یعنی اس آیت میں تذکرہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا لباس پاک کریں۔ تو لباس کا تعلق انسان کے جسم سے ہے، لباس صاف ہو اور جسم صاف نہ ہو تو یہ چیز... لباس کی پاکیزگی تقاضا کرتی ہے کہ اس کا بدن، جسم جس کے ساتھ یہ لباس ہے، وہ صاف ہونا چاہیے۔ بلکہ جب لباس صاف ہو گیا، بدن صاف ہو گیا، تو انسان خود جس ماحول میں ہے اگلا تقاضا اس ماحول کی پاکیزگی کا ہے۔ تو طہارت حاصل کرنے کا یہ ظاہری عمل تین دائروں میں انسانوں کے اندر اس بنیادی فطرت کو واضح کرتا ہے، یہ عمل دنیا بھر کے انسانوں میں موجود ہے... جس طرح ظاہری طہارت انسان کی فطرت کا تقاضا ہے، اس کا اگلا مرحلہ انسان کے باطن کے اندر کی پاکیزگی ہے: انسان کے خیالات، اس کے افکار و نظریات کے اندر جو کجروی ہے، جو علمی کمی ہے، جو اعتقادی طور پر نقص ہے، وہ ان خیالات کو چھوڑ دے اور علم کی طرف، عقل کی طرف، شعور کی طرف بڑھے... طہارت کا یہ خُلق — ظاہری طہارت، باطنی طہارت — اس سے کیا نتیجہ آئے گا؟ انسان کے اندر عملی قوت پیدا ہوگی۔"

لیکچر کے بنیادی نظریے (basic_theory) سے تعلق

basic_theory کے میدان "دین حق کی جامعیت" سے اس کیپوائنٹ کا تعلق یہ ہے کہ جامعیت صرف عقیدے (تکبیر) تک محدود نہیں رہتی بلکہ فوراً عمل اور نفس کے دائرے میں پھیل جاتی ہے: ظاہری لباس و بدن سے لے کر باطنی خیالات و نظریات تک، ہر سطح پر پاکیزگی مطلوب ہے۔ یہی تدریج — ظاہر سے باطن کی طرف — خود جامعیت کی عملی مثال ہے: ایک ایسا نظام جو صرف دل کے عقیدے یا صرف جسم کے عمل میں سے کسی ایک پر اکتفا کرے وہ جامع نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح نیکی و بدی کے معیار کو "شخصی" کے بجائے "نوعی" قرار دینا (اثم/سعادت کی تعریف) اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اخلاق کسی ایک قوم یا مسلک کی ذاتی پسند نہیں بلکہ پوری انسانیت پر یکساں لاگو ایک عالمگیر معیار ہیں — بالکل ویسے ہی جیسے کیپوائنٹ 2 میں انقلاب کی عالمگیریت ثابت کی گئی تھی۔

اصطلاحات و نام

اثم (نوعی معیار پر مبنی گناہ)، منکر، شقاوت، سعادت — امام شاہ ولی اللہ کی اصطلاحات، جن کی تفصیلی تعریف حجۃ اللہ البالغہ (جلد اول، ص50) میں دی گئی ہے۔ یہ کتاب کا اپنا حتمی مآخذ ہے، اس لیے مزید اوپر جانے کی ضرورت نہیں — تاہم پیش کرنے سے پہلے خود حجۃ اللہ البالغہ کا یہ صفحہ پڑھ لینا مفید رہے گا تاکہ عربی عبارت کا سیاق و سباق بھی معلوم ہو۔