چوتھا خُلق: عدالت — استحصال کی ممانعت، کسریٰ و قیصر کی مثال، اور استقامت کی ضرورت
چوتھا خلق 'عدالت' یہ ہے کہ استحصال کی ممانعت ہو اور رفاہِ عامہ کے ادارے قائم کیے جائیں — یعنی جس کام کا جو حقیقی نتیجہ اور جو معاوضہ بنتا ہے، اس سے زیادہ وصول نہ کیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء بھیجے (الحدید 57:25: کتاب و میزان کے ساتھ رسول اس لیے بھیجے گئے کہ لوگ عدل قائم کریں)۔ (الف) امام شاہ ولی اللہ نے کسریٰ و قیصر کی مثال سے سرمایہ پرست نظام کی تباہی کا تجزیہ کیا: جب یہ سلطنتیں وراثتاً مالدار ہوئیں تو ان کے امراء نے پیداوار کے بجائے بیت المال کے ناجائز استعمال اور کسانوں و تاجروں پر گراں ٹیکسوں کے ذریعے عیش و عشرت میں اضافہ کیا، جس کے تین بڑے نتائج نکلے: (i) سعادتِ اخروی سے مکمل غفلت، کیونکہ دل دنیاوی لذتوں میں کھو جاتے ہیں؛ (ii) غیر پیداواری اخراجات کی بھرمار اور عالی شان محلات و سامانِ تعیش کی ہوس، جو پیداوار کے بجائے استحصال سے پوری کی جاتی ہے؛ (iii) بیروزگار، بے مقصد طبقوں کی افزائش، جو آباء کے ناموں یا کھوکھلے عہدوں کے بل پر زندہ رہتے اور وقت کے ساتھ معاشرے پر بوجھ بنتے چلے جاتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے اسی زوال کو اٹھارویں صدی کی دہلی پر بھی منطبق کیا — کوئی بازار، دیہات یا طبقہ اس معاشی وبا سے محفوظ نہ رہا۔ (ب) اسی لیے آخری تقاضا استقامت کا ہے (وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر): جن کے مفادات اس انقلاب سے متصادم ہیں وہ ہر ممکن کوشش کریں گے — کبھی مخالفت سے، کبھی عہدے و اعزاز کی پیشکش سے — کہ انقلابی جماعت کو اپنے نظام کا حصہ بنا لیں؛ ان تمام حربوں کے مقابلے میں اللہ پر مکمل بھروسے کے ساتھ ثابت قدم رہنا ہی مطلوب ہے۔
قرآنی شعورِ انقلاب، جلد دوم میں عدالت کا بیان کئی مراحل میں آتا ہے: **(1) انتفاع کا امتناع** — آیت نمبر6 "وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ" کی تفسیر (ص268-269): "جب تو کسی پر احسان کرے تو اپنے حق سے زیادہ معاوضہ طلب نہ کر۔ یہ خُلق عدالت کے منافی ہے۔ مثلاً یہ جائز نہیں کہ تو جو تعلیم دیتا ہے اس کا اجر طلب کرے اور اپنے لیے مال و دولت جمع کرے... اپنے کسی مزدور کو کرایہ پر کام دے کر اس سے حد سے زیادہ کام لینا اور اس کی محنت سے قدرِ زائد (Surplus Value) پیدا کرنا انسانیت سے گری ہوئی بات ہے۔" **(2) انقلاب کا بنیادی اصول** (ص269): "انقلاب صالح کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسانیت کو ظلم و ستم سے محفوظ کر کے اس میں رفاہِ عامہ کے ادارے قائم کیے جائیں، نہ کہ اپنے انتفاع (Exploitation) کا صیغہ کھول لیا جائے۔" **(3) سرمایہ پرستانہ نظام کی بربادی کے اسباب** — شاہ ولی اللہ کی طویل عربی عبارت (حجۃ اللہ البالغہ، جلد اول، ص45) کا حوالہ دے کر (ص269-271) دو اسباب بیان کیے گئے: "(1) بیتُ المال کا ناجائز استعمال — لوگ سرکاری بیت المال کے گرد جمع ہو جاتے ہیں، مختلف بہانوں سے روپیہ اینٹھتے ہیں، اور اس کے عوض کوئی کام نہیں کرتے۔ (2) گراں بار ٹیکس — حکام کاشتکاروں، تاجروں اور پیشہ وروں پر بھاری ٹیکس لگاتے ہیں۔" **(4) کسریٰ و قیصر کی تباہی کی مثال** — ایک اور طویل عربی اقتباس (حجۃ اللہ البالغہ، جلد اول، ص105-106) کے ساتھ، سرخی "ایرانیوں اور رومیوں کی عیاشی" کے تحت: "جب ایرانیوں اور رومیوں کو حکومت کرتے صدیاں گزر گئیں اور دنیوی تعیش کو انہوں نے اپنی زندگی بنا لیا... تو ہر شخص داد عیش دینے لگا، علماء اور حکماء ان کے گرد عجیب نکتہ آفرینیوں میں مصروف نظر آنے لگے، حتیٰ کہ امراء و سرمایہ داروں میں سے جس کسی کے پاس ایک لاکھ درہم سے کم مالیت کا لباس ہوتا اسے بخیلی کا طعنہ دیا جاتا۔" (ص271-273) **(5) اٹھارویں صدی کی دہلی کی حالت** (ص273): "الغرض ان ملوکِ ایران و روم کی یہ داستان کہاں تک بیان کی جائے۔ تم اپنے زمانے کے پادشاہانِ دہلی (اب پاکستان کے حکمرانوں اور اعلیٰ سول، آرمی، بیوروکریسی اور مذہبی طبقہ) کی جو حالت دیکھتے ہو، وہی ان ملوکِ ایران و روم کی حالت کا قیاس کرنے کے لیے بالکل کافی ہے۔" اس کے بعد تین نتائج تفصیل سے بیان ہوئے: عوام کی تنگ حالی اور سعادتِ اخروی سے غفلت (ص274)، عیاشی و لباس و محلات پر خطیر غیر پیداواری اخراجات (ص274)، اور "بیکاری کی مصیبت" — بے مقصد طبقوں کی افزائش جو آباء کے ناموں پر وظیفہ خوری کرتے ہیں (ص274-275)۔ **(6) استقامت کی ضرورت** — آیت نمبر7 "وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ" ("اور اپنے رب پر صبر کر") کی تفسیر، سرخی "انقلاب کے لیے استقامت کی ضرورت" (ص275): "صاحبِ اقتدار لوگ جن کے مستقل مفادات کو اس 'انسانی' پروگرام سے زک پہنچنے کا اندیشہ ہوگا، وہ اپنی طرف سے انتہائی کوشش کریں گے کہ تمہیں اس پروگرام سے ہٹا دیں... لیکن تم قرآن کے اس بین الاقوامی پروگرام پر ڈٹے رہو۔ ہر مصیبت کا استقلال کے ساتھ مقابلہ کرو اور کسی لالچ، دھمکی یا دھونس میں نہ آؤ۔" باب کا اختتام ایک خلاصے پر ہوتا ہے (ص275-276) جو چاروں اخلاق (اِخبات، طہارت، ساحت، عدالت) کو اکٹھا دہراتا ہے: "اس انذار کے معنی یہ ہیں کہ اخلاقِ اربعہ — اِخبات، طہارت، ساحت اور عدالت — اختیار کرو، ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔"
"چوتھا خُلق جس کا یہاں تذکرہ ہوا، وہ عدالت کا ہے: اور ایسا نہ کریں کہ کام کریں تو اس کا معاوضہ اس کے کیے گئے کام سے زیادہ لینے لگ جائیں۔ آپ کوئی کام کریں تو اس کا معاوضہ برابر لیا جائے — یہ کس خُلق کی نفی ہے؟ عدل کی۔ عدل کا خُلق یہ ہے کہ جو کام جس طرح سے ہوا، اس کا جو نتیجہ بنتا ہے، وہی اس کا معاوضہ، اس کا ریٹرن، اسے مل جائے، اس میں زیادتی نہ ہو۔ یہ عدالت اصل میں وہ خُلق ہے جس کی حیثیت بڑی بنیادی ہے، یہ ہر سوسائٹی میں، ہر انسانی معاشرے میں فطرت کی آواز ہے۔ اس عدالت کے خُلق کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سوسائٹی کے اندر نظامِ ظلم کا خاتمہ ہو، اس نظامِ ظلم کی وجہ سے بننے والے جو معاشی تفاوت ہیں اور جو سماجی مساوات کا انتشار ہے، اس کی تلافی ہو۔ یہ وہ خُلق ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سارے انبیاء مبعوث کیے — قرآنِ پاک میں اس کا تذکرہ ہے (الحدید 57:25): 'لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ' — ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے، جتنی بھی کتابیں نازل کیں، ان سب کا مقصد صرف یہ تھا کہ انسانیت میں عدل و انصاف کا نظام قائم ہو جائے۔ اور پھر اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ استقامت کی بات کرتے ہیں: کہ آپ اس بین الاقوامی پروگرام پر ہر حالت میں ڈٹے رہیں، مخالفین کی جتنی بھی تدبیریں ہوں — اگر ان میں کوئی ایسی تدبیر بھی ہو کہ وہ آپ کو اور آپ کی جماعت کو اپنے نظام کا حصہ بنانا چاہیں، عہدہ دینے کی پیشکش کریں — تو تب بھی آپ نے اپنا بنیادی ہدف اور مقصد اس سے پیچھے نہیں ہٹانا، اور اللہ کے بھروسے پر کام جاری رکھنا ہے۔"
عدالت اور استقامت اس سلسلے کی آخری کڑی ہیں اور "دین حق کی جامعیت" کو اس کے سب سے سخت امتحان تک لے جاتے ہیں: جامعیت صرف عقیدے، عبادت اور نفس تک محدود رہتی تو ادھوری رہتی — اسے معیشت اور سیاسی طاقت کے میدان تک پھیلنا تھا، جہاں مفادات سب سے مضبوط ہوتے ہیں۔ عدالت (استحصال کی ممانعت، رفاہِ عامہ) وہ نکتہ ہے جہاں تکبیر، طہارت اور ساحت کے انفرادی اخلاق ایک مکمل معاشی و سماجی نظام کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ اور چونکہ ایسا نظام لازماً صاحبانِ اقتدار و سرمایہ کے مفادات سے ٹکرائے گا، اس لیے جامعیت کی آخری شرط استقامت ہے — ورنہ نظریہ کتنا ہی جامع ہو، دباؤ کے آگے پیچھے ہٹنے سے وہ عملاً جزوی رہ جائے گا، بالکل ویسے ہی جیسے کیپوائنٹ 2 میں دوسرے (ناکام) انقلابات کی مثال دی گئی تھی۔
کتاب کا یہ تجزیہ کہ ساسانی (فارس) اور بازنطینی (روم) سلطنتوں کی زوال پذیری کی بنیادی وجہ درباری عیش و عشرت اور کاشتکاروں پر گراں ٹیکس تھی، عمومی تاریخی علم سے بھی ہم آہنگ ہے: مؤرخین عموماً ساسانی سلطنت کے آخری دور کی اندرونی کمزوری کا سبب بھاری زرعی ٹیکسوں، امرا کی آپسی رقابتوں اور شاہی خاندان کی عیاشی کو قرار دیتے ہیں، جس نے ان سلطنتوں کو ساتویں صدی کی اسلامی فتوحات کے لیے کمزور کر دیا۔ یہ ایک معروف عمومی تاریخی تجزیہ ہے، کسی مخصوص کتاب کے صفحے سے پڑھا گیا حوالہ نہیں — اسے کتاب کے مؤقف کی تائید کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، خود حجۃ اللہ البالغہ کے متن کے طور پر نہیں۔
کتاب خود (ص273) اٹھارویں صدی کی دہلی کی تباہی کا موازنہ براہِ راست "اب پاکستان کے حکمرانوں اور اعلیٰ سول، آرمی، بیوروکریسی اور مذہبی طبقہ" سے کرتی ہے — یہ مصنف کا اپنا عصری سیاسی تبصرہ ہے، قرآن یا شاہ ولی اللہ کے اصل متن کا حصہ نہیں۔ یہ ایک واضح طور پر وقت اور حالات سے جڑا ہوا (dated) براہِ راست سیاسی حوالہ ہے جو لیکچر پیش کرتے وقت سامعین کے موجودہ سیاسی تناظر سے میل نہ کھائے یا غیر ضروری بحث چھیڑ دے۔ عدالت کے اصولی نکتے (استحصال کی ممانعت، رفاہِ عامہ) کو اس مخصوص عصری مثال کے بغیر بھی مکمل طور پر واضح انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے — یہ فیصلہ لیکچرار کا اپنا ہے کہ اسے دہرانا ہے یا نہیں۔