سرمایہ پرستانہ ذہنیت کا تجزیہ اور اس کا انجام
سورہ مدثر کی آیت نمبر 11 سے قرآن حکیم سرمایہ پرستانہ ذہنیت کا تجزیہ ولید بن مغیرہ کی مثال سے کرتا ہے، جسے اللہ نے تنہا پیدا کیا، مال و دولت اور اولاد سے نوازا، مگر اس کے باوجود اس کی حرص کم نہ ہوئی اور وہ ہمیشہ "کیسے مزید بڑھے" کے چکر میں رہا۔ یہ طبقہ اپنے لیے کام کرنے والے مزدوروں اور کمزوروں کی فلاح کا نام تک نہیں لیتا اور اپنی دولت و اقتدار کو صرف اپنی ذات، خاندان اور قبیلے تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔ قرآن اس ذہنیت کو انقلاب کا سب سے بڑا مخالف (Reactionary) قرار دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ اپنے ظالمانہ اعمال کے نتیجے میں ہی جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوگا — یہ ظلم نہیں بلکہ خود اسی کے اعمال کا حاصل ہے۔ لیکچر میں اسی تجزیے کو موجودہ پاکستانی سماج پر منطبق کر کے دکھایا گیا کہ یہی سرمایہ پرست ذہنیت آج بھی امیر ترین طبقے میں کارفرما ہے۔
اس لیکچر کا بنیادی نظریہ "غلبہ دین حق کا شعوری نظریہ" ہے۔ حق کا غلبہ قائم ہونے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کی راہ میں حائل ذہنیت کی نشاندہی کی جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس کا انجام ناکامی ہی ہے — ورنہ غلبے کا دعویٰ محض ایک امید بن کر رہ جاتا۔ کلیدی نکتہ #1 یہی کام کرتا ہے: قرآن ولید بن مغیرہ کی مثال سے سرمایہ پرستانہ ذہنیت کا تجزیہ کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ یہ ذہنیت خود اپنے ہی اعمال کے نتیجے میں ناکام ہوگی۔ یعنی حق کا غلبہ کسی خارجی جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ باطل کی اپنی داخلی ناکامی اور حق کی اپنی داخلی قوت کا لازمی نتیجہ ہے — یہی بات اسے "شعوری نظریہ" بناتی ہے، محض خواہش نہیں۔
قرآن حکیم کا اسلوب یہ ہے کہ "رجعت پسند (Reactionary) مخالفین کی ذہنی کیفیت بیان کرنے کے لیے ایک شخص کا نمونہ لے لیتا ہے اور اس کی ذہنیت کا نفسیاتی تجزیہ (Psychological Analysis) کر کے دکھاتا ہے" (آیت 11 کی تفسیر، ص 278)۔ آیت 16 کی تفسیر میں واضح کیا گیا ہے: "ہرگز نہیں، وہ تو ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ لیکن ایسے مخالف سرمایہ پرست کو ہرگز بڑھنے نہیں دیا جائے گا کیونکہ وہ انقلابی پروگرام (Revolutionary Programme) کا مخالف ہے۔" (ص 279)۔ "سرمایہ پرستانہ ذہنیت کا انجام" کے زیرِ عنوان: "ایسا شخص صالح انقلاب کے رہنما، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں کیسے بڑھ سکتا ہے؟ اس کی ہر ایک ترقی، معکوس ترقی ہوگی۔... وہ جہنم میں ایک پہاڑی پر چڑھے گا لیکن اس کے پاؤں ترقی کی طرف نہیں جائیں گے، بلکہ اپنے ذہن میں خیال کرے گا کہ میں چڑھ رہا ہوں۔" (ص 280)۔ "ارتجاع کا انجام" کے زیرِ عنوان: "اس ارتجاعی (Reactionary) کے لیے اس ظلم اور بداخلاقی کی آگ سے بچنا محال ہے، جو وہ اپنے لیے پیدا کر رہا ہے۔ ایسے ہی انقلاب لانے والی پارٹی اسے دنیا میں سزا دے گی۔" (آیت 26-29 کی تفسیر، ص 283)۔ "جہنم کی حقیقت" کے زیرِ عنوان: "اس میں جس آگ سے واسطہ ہوگا، وہ انسان اپنے ساتھ اس دنیا سے لے جاتا ہے... انسان کے برے اخلاق اور برے اعمال کے نتائج جو مختلف قسم کے 'زہر ہیلے مادے' انسان کے بدن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، وہی جہنم میں 'آگ' کی صورت میں اسے بھڑکائیں گے۔" حوالے کے طور پر سورۃ الہمزہ کی آیت نقل کی گئی ہے: نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ — "ایک آگ ہے سلگائی ہوئی، وہ جھانک لیتی ہے ان کے دلوں کو" (ص 284)۔
"ایک نفسیاتی نکتہ" کے زیرِ عنوان (ص 285) جہنم کے 19 مراکز کا ذکر ہے: "انسان کی روح میں انیس مراکز ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی تکمیل کرتی ہے... ان 19 مراکز کے مطابق جہنم میں بھی 19 مراکز ہیں، اور ہر ایک مرکز کو ایک جداگانہ 'محکمہ' سمجھنا چاہیے۔" کتاب خود اس نکتے کی مزید تفصیل کے لیے ایک بنیادی ماخذ کی طرف اشارہ کرتی ہے: "اس کی تفصیل کے لیے حجۃ الاسلام امام ولی اللہ کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے (دیکھئے تفہیمات الہیہ وغیرہ)۔" یہ حوالہ خود شاہ ولی اللہ کی ان تصانیف (حجۃ اللہ البالغہ، تفہیماتِ الٰہیہ) کی طرف ایک پکا اشارہ ہے، لیکن میں نے یہ اصل کتب سے خود تصدیق نہیں کی — یہ صرف اس بات کی نشاندہی ہے کہ مزید تحقیق کے لیے کہاں دیکھنا چاہیے۔
عمومی تاریخی و تفسیری روایت میں (کسی خاص ماخذ کے تازہ مطالعے کے بغیر، بلکہ عمومی علمی معلومات کی بنیاد پر) یہ بات معروف ہے کہ کلاسیکی مفسرین (مثلاً ابن کثیر) عموماً ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ — قریش کے ایک نمایاں اور دولت مند سردار — کو قرار دیتے ہیں، جو ابتدائی دور میں نبی اکرم ﷺ کی دعوت کا سخت مخالف تھا۔ یہ ایک وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ تفسیری نکتہ ہے، مگر یہاں اسے محض پس منظر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے — اگر تفصیلی تصدیق درکار ہو تو کسی معتبر تفسیر (جیسے تفسیر ابن کثیر) میں سورہ مدثر کی آیت 11 کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔