نکتے کی تفصیل — لیکچر 7: دینی انقلاب کے شعوری تقاضے

دور حاضر کی دینی بے تدبیر کا متوازن تجزیہ۔

موجودہ خلاصہ
کتاب

آج مطالعۂ اسلام کا ایک محدود تصور رائج ہے جو اسے محض عبادات تک محدود رکھتا ہے اور اسلام کی تاریخی و سماجی تعلیمات کو موجودہ انسانی جدوجہد سے الگ کر دیتا ہے — حالانکہ اقبالؒ (1938ء) کے قول کے مطابق دینِ فطرت ایک زندہ، متحرک نفسیاتی و تاریخی عمل ہے جو ہر دور کے حالات کا ادراک کرتا ہے۔ نوجوان مسلمانوں میں ابھرنے والی ”بے دینی“ دراصل ایک غیر مرتب انقلابی جوش ہے جو ان استحصالی طبقوں کے خلاف ردعمل ہے جو مذہب کو محض پردہ بنا کر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں — یہ اسلام کا قصور نہیں بلکہ مسلم معاشرے کو اپنی حساس، اصلاح پسند دینی قیادت کی ضرورت ہے۔ خلافتِ راشدہ کا قیام بھی ایک خاص تاریخی منشا اور مخصوص حالات کا نتیجہ تھا؛ اس تاریخی منشا کو سمجھے بغیر کوئی مسلمان اسلام کی صحیح اجتماعی ہیئت کا درست تصور قائم نہیں کر سکتا۔

حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 16-18