نکتے کی تفصیل — لیکچر 7: دینی انقلاب کے شعوری تقاضے

مذہبی بنیادوں پر سیاسی تنظیم کے مضمرات کا جائزہ۔

موجودہ خلاصہ
کتاب

فلسطین اس بات کی مثال ہے کہ مذہبی و فرقہ وارانہ سیاست کو سامراجی طاقتیں کس طرح اپنے مفاد میں استعمال کرتی ہیں — برطانیہ نے صیہونی و بین الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی عرب مخالف پالیسیوں کو یکسر تبدیل کر دیا (جبری فوجی بھرتی سے استثنیٰ، قرضوں کی معافی، مسلم فوج کی تشکیل، اور تمام اسلامی فرقوں کو مکمل مذہبی آزادی)، جبکہ ایڈگر سنو کی ”ریڈ سٹار اوور چائنا“ چینی مسلمانوں کے غیر ملکی طاقتوں کے خلاف اتحاد کی مثبت مثال پیش کرتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کو فرقہ وارانہ بنیاد پر الگ تنظیم بنانی چاہیے؟ مصنف کے نزدیک ایسی تنظیم دراصل جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور برطانوی سامراج کے مفاد میں ہوگی جو مسلمانوں کی تفریق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے بجائے عملی تجویز یہ ہے کہ اردو ذریعہ تعلیم کے دن و رات کے مدارس قائم کیے جائیں اور مسلم امدادِ باہمی انجمنیں (Co-operative Societies) اور بینک قائم کیے جائیں تاکہ مسلمان سودی قرضے سے آزاد ہو سکیں۔

حوالہ: عصر حاضر میں دین حق کے شعوری تقاضے، ص 20-22