نکتے کی تفصیل — لیکچر 8: حق معیشت میں مساوات اور درجات معیشت میں توازن

شیخ البند کا نقطہ نظر اور علامہ ابن حزم کا موقف

موجودہ خلاصہ
کتاب

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ سورۃ البقرہ کی آیت ''ہو الذی خلق لکم مافی الارض جمیعا'' کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ دنیا کی تمام اشیاء بنی آدم کی مشترکہ ملکیت ہیں، اور انفرادی ملکیت صرف نزاع ختم کرنے کے لیے ایک عارضی انتظام ہے — اصل میں سب کا حق ان چیزوں پر باقی رہتا ہے۔ اسی طرح مشہور محدث علامہ ابن حزم ظاہریؒ اپنی کتاب ''المحلی'' میں لکھتے ہیں کہ ہر بستی کے اہلِ ثروت پر فقراء وغربا کی معاشی کفالت فرض ہے، اور اگر بیت المال کافی نہ ہو تو حاکم انہیں کھانے، پہننے اور رہنے جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی پر مجبور کر سکتا ہے — حضرت ابوسعید خدریؓ، حضرت عمرؓ، حضرت ابوعبیدہؓ اور محمد بن حنفیہؒ سے منقول روایات اس موقف کی تائید کرتی ہیں۔

حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 15-18