نکتے کی تفصیل — لیکچر 8: حق معیشت میں مساوات اور درجات معیشت میں توازن

معاشی نظام کا اصل منشا اور مقصد

موجودہ خلاصہ
کتاب

کسی بھی ''معاشی نظام'' کی صحت کا معیار محض اس کے ظاہری قواعد و ضوابط نہیں بلکہ اس کے پیچھے کارفرما ذہنیت اور منشا بھی ہے۔ اگر نظام کا محرک محض زیادہ سے زیادہ نفع کمانا ہو (سرمایہ دارانہ نظریہ، جس کی زیرِ اثر کارپوریشنیں اربوں کماتی ہیں جبکہ عام آبادی افلاس واحتیاج کا شکار رہتی ہے) تو بظاہر درست نظر آنے والے اصول بھی فاسد ہوجاتے ہیں۔ اسلام کے معاشی نظام کا بانی ومؤسس اس کے برعکس صرف انسانی حاجات کے رفع اور افراد واجتماع کی ضروریات کی تکمیل کو منشا بناتا ہے، نہ کہ نفع در نفع کی دوڑ کو۔

حوالہ: قرآنی اصول معاشیات، ص 8-10