9

قرآنی حکمت عملی

سمسٹر 1 — لیکچر 9
عام متکلمین نے حکمت نظری کواپنا مطمع نظر (مقصود) بنالیا، حکمت عملی سے کوئی سروکار نہ رکھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ "علم کلام" میں دقیقی لینے والے فقہا اور متکلمین قومی زندگی کی ضروریات پرتدبر اور تفکر (غور وخوض) سے محروم ہو گئے۔ شاہ ولی اللہ حکمت عملی پرزور دیتے ہیں اور آپ نے کتاب وسنت اور صحابہ کے آثار کی روشنی میں حکمت عملی کے اصول وضوابط کے حسن وقبح یعنی "بر" (نیکی) و"اثم" (گناہ) کی حقیقت کولفظی گورکھ دھندوں سے الگ کرکے واضح اور صاف طورپر پیش کر دیا۔ شاہ صاحب کایہ اصول اجتماعی پیش نظر رہے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کی عالمگیر انقلاب کی دعوت اسی قرآن عظیم کی ترجمان ہے۔ قرآن ان اصول تشریح میں معنون ہے، آپ اپنی تشریح میں کسی تکمیل کامحتاج نہیں ہے، شاہ صاحب کی حکمت عملی وفلسفے کایہ سب سے اعلیٰ فکر ہے۔ اس کی مدد سے ہر شخص اصل مقصود کوآسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ الغرض! شاہ صاحب نے اپنے اجتماعی فکر کے ذریعے قرآن کومسلمانوں کے ذہنوں کے قریب کر دیا ہے۔
مقصد
  • حکمت نظری کے مقابلے حکمت عملی کی اہمیت کوواضح کرنا۔
  • حکمت عملی اور اس کے تقاضوں کی وضاحت کرنا۔
دائرہ کار
  • ولی اللٰہی فکر کی تعلیمات کے تناظر میں موضوع کی وضاحت۔
بنیادی نظریہ
دین حق کی جامعیت
نکات
حاصلِ تعلیم
  • ساجی وتنظیمی امور میں حکمت عملی کوبنیادی اہمیت حاصل ہے۔
  • شاہ ولی اللہ کی تعلیمات خیالی تصورات سے نکال کر حسن تخلیق اور فتح کوملانے کانظریہ دیتی ہیں۔
عملی تقاضے
  • امور کی انجام دہی میں منصوبہ بندی کی صلاحیت بڑھانا۔
  • ساجی وتنظیمی امور میں احساس ذمہ داری کارویہ ہو۔
ماخذ:

مولانا عبیداللہ سندھی، شعور و آگہی، حکمت عملی، مقالہ نمبر 9، رحیمیہ مطبوعات، لاہور، 2020۔ص:161-170/طبع 2009 ص:67-69

اضافی مواد (آڈیو)

ابھی تک کوئی مواد اپ لوڈ نہیں ہوا۔