8

قرآن حکیم کی انقلابی تاثیر

سمسٹر 1 — لیکچر 8
شاہ صاحب نے قرآنی تعلیمات کے اثرات کووضاحت کیا کہ قرآن حکیم ایک عظیم انقلاب آفرین نظام دیتا ہے، جو کسی بھی زمانے کی تخصیص کے بغیر ساری انسانیت پرمحیط ہے۔ قرآن کی تعلیمات کااثر جس اجتماعی تحریک میں آیا وہ مسلمانوں کے تعیش سے شروع ہوکر حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت تک اپنی اصلی حالت میں جاری رہی۔ قرآن حکیم کی آیت (لیظہرہ علی الدین کلہ) میں تمام ادیان پر غلبے کاجودعویٰ کیاگیا ہے وہ خلافت راشدہ کے دور اول میں پورا ہوچکاتھا۔ اس عظیم مقصد کاسب سے بڑا مظہر کسریٰ وقیصر کا زور توڑ کر ایساانتظام نافذ کیاجائے جس سے ان اقوام کو مصیبت سے نجات حاصل ہو، اور اخلاق اربعہ کاغلبہ ہو۔ قرآن عظیم کی اس انقلابی دعوت کوزندہ کرنے کاارادہ جس سوسائٹی مسلم کاداشیرازہ فراہم کرے، اس کے واسطے ضروری ہے کہ سرورعالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ جو خاندان قریش شرفائے مہاجرین اولین ہوئے، ان کی ذہنیت، ان کی معاشی حالت اور ان کی معاشرتی سیرت کواپناامام بنائے۔
مقصد
  • قرآن حکیم کی انقلابی تاثیر کی وضاحت اور دور حاضر میں اس سے راہنمائی حاصل کرنا۔
دائرہ کار
  • شاہ ولی اللہ کے افکار کی روشنی میں وضاحت کرنا۔
بنیادی نظریہ
منظم اجتماعیت
حاصلِ تعلیم
  • مہاجرین اولین کی سیرت نمونہ ہے جنہوں نے بین الاقوامی نظام کاقیام ممکن بنایا۔
  • عصر حاضر میں بھی قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر قرون اولیٰ جیسی تاثیر پیدا ہو سکتی ہے۔
عملی تقاضے
  • قرآنی فکر کی اساس پر ساجی تبدیلی کی جدوجہد کریں۔
  • تنظیمی طاقت پیدا کریں۔
ماخذ:

مولانا عبیداللہ سندھی، شعور و آگہی، قرآن حکیم کی انقلابی تاثیر، مقالہ نمبر 8، رحیمیہ مطبوعات، لاہور، 2020۔ص:153-160/طبع 2009 ص:63-65

اضافی مواد (آڈیو)

ابھی تک کوئی مواد اپ لوڈ نہیں ہوا۔