7
قرآن حکیم کا اعجاز (امام شاہ ولی اللہ دہلوی کانظریہ اعجاز قرآن)
سمسٹر 1 — لیکچر 7
شاہ ولی اللہ نے گرد و پیش کی سوسائٹی کا مطالعہ کر کے اپنے پروگرام میں دو اصول متعین کیے۔ پہلا اصول قرآن عظیم کی حکمت عملی یعنی انسانوں کی زندگی کے عملی تصورات قرآنی متعلق حقیقی معجزے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسرا اصول اقتصادی عدم توازن یعنی معاشرت، اجتماع، حکومت اور ملت کی خرابیوں کاباعث تمام اخلاقی اور عملی معاملات کو درست کرنا اصل معاشی توازن اور عدم توازن ہے۔ شاہ صاحب نے قرآن کاآغاز اس متعین نظام سے بتایا کہ قرآن کا آغاز اس کے نزدیک اس عملی افادیت سے اس کامعجزہ ہونا ثابت ہوئی۔ اب اس نظام حیات کوہر شخص خواہ وہ عربی ہو یا عجمی، فلسفی ہو یاعالم، سادہ ہو یا صاحب مزاج، مستفید ہو سکتا ہے، اور اس اعجاز کوسمجھ سکتا ہے۔ لیکن قرآن کااعجاز محض عربی زبان کی فصاحت وبلاغت کاپابند نہیں ہے کہ اس کی صورت میں معدودے چند افراد (گنتی کے) سوادوسرے لوگ اس کی اعجازی خوبیوں سے محروم رہتے۔
مقصد
- شاہ ولی اللہ کی قرآنی تعلیمات کافہم وشعور پیدا کرنا۔
- قرآنی اعجاز کے حقیقی ادراک کرنا اور موجودہ مفاہیم کا جائزہ لے کر تطبیق دینا۔
دائرہ کار
- شاہ ولی اللہ کے افکار کی روشنی میں وضاحت کرنا۔
بنیادی نظریہ
غلبہ دین حق کاشعوری نظریہ
نکات
تمہیدی نکات:
اساسی نکات:
- شاہ صاحب کے نظریہ اعجاز قرآن کی اہمیت اور اس کے دو اہم اصول:
- aقرآنی حکمت عملی
- bنظریہ عدل اقتصادی
- اعجاز قرآن کے متعلق دیگر نظریات۔
- انسانی اخلاق کے متوازن اقتصادی نظام کی ضرورت۔
- نظام نبوت اور انسانی زندگی کاباہمی تعلق۔
- شاہ صاحب بحیثیت مفکر ودعاعی انقلاب۔
- شاہ صاحب بحیثیت بین الاقوامی مفکر وعظیم الشان حکیم۔
- شاہ صاحب کے عہد کے ماحول اور ان کی حکمت عملی وبیعت طریقت۔
حاصلِ تعلیم
- قرآن کااعجاز اس کانظام حیات میں ہے۔
- معاشی عدم توازن معاشرتی خرابیوں کی بڑی وجہ ہے۔
عملی تقاضے
- قرآن حکیم میں تدبر کریں۔
- قرآنی انقلاب کاداعی بن کر اس کی حکیمانہ تعلیمات عام کریں۔
ماخذ:
مولانا عبیداللہ سندھی، شعور و آگہی، قرآن حکیم کا اعجاز، مقالہ نمبر 7، رحیمیہ مطبوعات، لاہور، 2020۔ص:143-150/طبع 2009 ص:55-62