6
جہاد اور انقلاب
سمسٹر 1 — لیکچر 6
قرآن کا مقصد عالمگیر انقلاب برپا کرناتھا۔ آج بھی قرآن کو ماننے والوں کافرض ہے کہ وہ اپنا نصب العین عالمگیر انقلاب کو بنائیں۔ انقلاب کے معنی توڑ پھوڑنا، قتل وغارت اور تخریب لے لیے جاتے ہیں، جیسے جہاد کے مفہوم کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ صرف تیغ آزمائی کو کوشش سمجھا جاتاہے۔ قرآن وحدیث میں جہاد بہت وسیع اور جامع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لغت کے لحاظ سے جہاد سے زیادہ "کوشش" کے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ جہاد تلوار سے بھی ہو تا ہے مگر قلم سے، زبان سے، دل سے اور اکثر تو خود اپنے نفس سے بھی پڑتا ہے۔ اسلام کی تعلیم اور شاہ صاحب کے عقیدے کے مطابق جہاد کامل مقدس فرض ہے، جسے ایک پارٹی ہی انجام دے سکتی ہے، جس کی تربیت خاص مقاصد کے لیے خاص طور پرکی گئی ہو، جس کا ہر کارکن ذاتی اغراض کوترک کرکے اپنی ذات کے اعلیٰ مقاصد کی تکمیل کے لیے اپنی زندگی وقف کر چکا ہو۔ یعنی جہاد صرف تیغ آزمائی نہیں ہے اور نہ ہی انقلاب محض تخریب کا دوسرا نام ہے۔ منفی خیالات پیش کرنا انقلابی کام نہیں ہے، بلکہ وہ فرسودہ نظام حیات کی جگہ ایک نیا بہتر اور جاندار نظام پیش کرتا ہے۔
مقصد
- انقلاب کے منفی مفہوم و مغایت کوواضح کرنا۔
- جہاد وانقلاب کی حقیقت کوواضح کرنا۔
- مادی انقلاب کے تناظر میں دینی تصور حیات کافہم پیدا کرنا۔
دائرہ کار
- مولانا سندھی کے افکار کے تناظر میں۔
بنیادی نظریہ
عدم تشدد پر مبنی جدوجہد
نکات
تمہیدی نکات:
اساسی نکات:
- جذبہ انقلاب کے انسانی زندگی پر اثرات۔
- جہاد وانقلاب کے بارے میں منفی تاثر اور اصل حقیقت۔
- امام شاہ ولی اللہ کا نظریہ جہاد۔
- aجہاد کامفہوم اور دائرہ کار
- bجہاد اور ہمہ گیر انقلاب
- انقلاب کااصل مفہوم اور نوعیت۔
- مستقبل کے انقلابات کی نوعیت۔
- سائنسی ترقیات کے بارے میں متوازن تجزیہ کی ضرورت۔
- اسلام کاجامع نظریہ حیات۔
- انسان کا روح سے تعلق (اخلاق اربعہ کے ذریعے)۔
- اسلام مادی ترقی کاسرچشمہ۔
حاصلِ تعلیم
- جہاد اپنے اندر وسیع مفہوم رکھتا ہے، ظلم کے نظاموں کاخاتمہ اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔
- انقلاب کی حقیقت اور اس کے مثبت پہلوؤں سے واقفیت ناگزیر ہے۔
- سائنسی اور مادی ترقیات کے متعلق متوازن رویہ اور تجزیاتی صلاحیت کا پیدا ہونا اس دور کااہم تقاضاہے۔
- اسلام کے جامع تصور حیات کی اساس پر مستقبل کی درست عملی حکمت عملی کی تشکیل کی صلاحیت۔
عملی تقاضے
- ساجی تبدیلی کی درست عملی حکمت عملی تشکیل دینا۔
- جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا۔
- اسلام کے جامع تصور حیات کی اساس پر ساجی جدوجہد کرنا۔
ماخذ:
مولانا عبیداللہ سندھی، شعور و آگہی، جہاد و انقلاب، مقالہ نمبر 6، رحیمیہ مطبوعات، لاہور، 2020۔ص:133-140/طبع 2009 ص:51-54