5

غلبہ دین کی عصری اہمیت

سمسٹر 1 — لیکچر 5
مولانا عبیداللہ سندھی مشرق یورپ اور جدید انقلابات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بیسویں صدی کے نصف اول میں بڑی بڑی سلطنتیں تباہ ہوئیں، بادشاہ، سپہ سالار اور امراء طرح طرح قتل کئے گئے، وہ طبقے جو علم و حکمت اور عزت و دولت کے نشے میں مست تھے، زمانے کی ایک عمیق ٹھوکر میں غرق ہوگئے، نہ ان کا کوئی قدردان رہا اور نہ ان کی عزت کا پرسان حال۔ انقلاب کا یہ فلسفہ خدا کے وجود کاصراحۃً انکار کرتا ہے، لیکن اس کا دعویٰ اور کوشش یہ ہے کہ ساری خلق خدا بغیر کسی رنگ، نسل، ملک ومذہب کی تمیز آزادی، مساوات اور اقتصادی خوشحالی کی نعمتوں سے یکساں فیض یاب ہو، یہ فلسفہ مظلوموں کوانصاف دلاتا ہے۔ انقلاب کا لادینی فلسفہ جو آگ کی طرح ساری دنیا میں پھیل رہا ہے! تمہارے ملکوں کو دو سرے طبقوں کی جانب دشمن بنادے گا اور اگر تمہاری غفلت وہ ان کے دشمنی اٹھی تو اس آگ کے شعلے تمہیں جلا کر خاک کر دیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ تمہارے مذہب اور علم وکلچر کی بھی خیر نہ ہو گی۔ انقلاب اور اس کے لادینی فلسفے کے ہولناک نتائج سے بچناچاہتے ہو تو دینی انقلاب کا سا کوئی ایسے دینی فلسفہ کو اختیار کرو، جس کے ذریعے تم خدا کے منتظر مظلوم خلق کو خوش حال بناسکو۔
مقصد
  • بیسویں صدی کی ساجی تبدیلیوں سے آگاہی حاصل کرنا۔
  • ولی اللٰہی فکر کی اساس پر عالمگیر انقلابات کاتجزیاتی مطالعہ کرنا۔
  • دینی اجتماعی فکر کی اساس پر ساجی تبدیلی کاشعور پیدا کرنا اور اس کاداعیہ بنانا۔
دائرہ کار
  • مولانا سندھی کے مشاہدات اور تجزیہ کے تناظر میں۔
بنیادی نظریہ
غلبہ دین کاشعوری نظریہ
نکات
حاصلِ تعلیم
  • بیسویں صدی میں عالمی سطح پر ساجی، سیاسی ومعاشی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔
  • عالمگیر تبدیلیوں سے لاپروائی اور غفلت قوم کوذلت وتباہی سے دوچار کر دیتی ہے۔
  • عالمگیر تبدیلیوں کاشعوری ادراک اور دینی فکر پر اساس ساجی تبدیلی کی معروضی حکمت عملی ناگزیر تقاضا ہے۔
  • ساج کی تباہی میں رعایت مفاد پرست اشرافیہ، رجعت پسند مذہبی طبقہ اور آلہ کار عناصر بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
عملی تقاضے
  • بیسویں صدی کے انقلابات کاتجزیاتی مطالعہ کرنے کی صلاحیت کے لیے اجتماعی ماحول اختیار کرنا اور تربیت کرنا۔
  • جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ساجی تبدیلی کی جدوجہد کومنظم کرنا۔
  • پاکستانی معاشرہ کی طبقاتی حیثیت کوملکی وبین الاقوامی حالات وواقعات کے تناظر میں جاننا اور اس حوالے سے شعوری راہنمائی حاصل کرنا۔
ماخذ:

مولانا عبیداللہ سندھی، شعور و آگہی، غلبہ دین کی عصری اہمیت، مقالہ نمبر 5، رحیمیہ مطبوعات، لاہور، 2020۔ص:121-132/طبع 2009 ص:43-50

اضافی مواد (آڈیو)

ابھی تک کوئی مواد اپ لوڈ نہیں ہوا۔