10
تصوف، تہذیب نفوس انسانی کاطریقہ کار
سمسٹر 1 — لیکچر 10
تصوف کالفظ سُن کر عام طور پر قدامت پسندی اور رجعت پسندی کاخیال آتا ہے اور تصوف عموماً اقدام واقدام کاضد سمجھا جاتا ہے، لیکن تصوف "نہایت اندیشہ وکمال جنون" کامجموعہ ہے، اور ہمارے سوتے سے اس عمل کے پھوٹتے ہیں۔ دھرم اور شریعت، پوجا پاٹ اور نماز، روزے وغیرہ کانام تصوف نہیں ہے۔ جذبہ ہی تصوف ان کاموں سے عقیدت وخلوص سے دل وجان سے تلقین کرتا ہے، تصوف زندگی میں کوئی خاص راہ عمل متعین نہیں کرتا، بلکہ راہ عمل پرہمت واستقامت کوچلانے والاجذبہ ہے۔
مقصد
- تصوف کے فرسودہ وجمود پرمبنی نظریات کارد کرنا۔
- تصوف کے حقیقی تقاضوں کاشعور پیدا کرنا۔
دائرہ کار
- ولی اللٰہی فکر کی تعلیمات کے تناظر میں موضوع کی وضاحت۔
بنیادی نظریہ
دین حق کی جامعیت
نکات
تمہیدی نکات:
اساسی نکات:
- جذبہ تصوف کی حقیقت اور انسانی زندگی پراثرات:
- aعقیدہ کی پختگی۔
- b"انا" اور "خودی" کی بیداری۔
- cاخلاص واستقامت اور طلبیت۔
- dجرأت اور ہمت اور بالیدگی۔
- eحکمت عملی کے مطابق کام کرنے کی صلاحیت۔
- تصوف پررجعت پسندی اور جمود کے الزام کی حقیقت۔
- امام شاہ ولی اللہ دہلوی کی تعلیمات کے اثرات۔
- منکرین ومتجددین کے تصوف سے متعلق تصورات کاجائزہ۔
- شاہ ولی اللہ صاحب کے نزدیک تصوف صحیح کی ضرورت واہمیت۔
- عام صوفیاء کا تصوف سے متعلق نظریہ۔
- شاہ صاحب کے نظریہ تصوف کی جامعیت۔
- شریعت اور طریقت میں وحدت۔
حاصلِ تعلیم
- تصوف انسانی زندگی کی تہذیب، مقصدیت اور لگن پیدا کرتا ہے۔
- صحت صالح سے انسان کی استقامت میں اخلاص کے ساتھ اس کے باطنی شعور کی تہذیب ہوتی ہے۔
عملی تقاضے
- نظریہ کی پختگی۔
- صحت صالح کواختیار کرنا۔
ماخذ:
مولانا عبیداللہ سندھی، شعور و آگہی، تصوف، مقالہ نمبر 10، رحیمیہ مطبوعات، لاہور، 2020۔ص:171-186/طبع 2009 ص:70-73