3
وحدت انسانیت
سمسٹر 1 — لیکچر 3
عقیدے کو عملی شکل دینے کے لیے جہاد کا سبق قرآن مجید سے ملتا ہے اور اس کا عملی نمونہ رسول مقبول ﷺ اور اس کے صحابہؓ کی زندگیوں میں بدرجہ اتم نظر آتا ہے۔ قرآن مجید کل انسانیت کی راہ نمائی کے بنیادی فکر کا جہان ہے، یہ سب ادیان کی تقسیم کو تسلیم کرتا ہے اور سب قوموں کے وجود کوماننا ہے۔ قرآن نے قومی مذاہب کو جو انسانیت کے ٹکڑے بن گئے تھے، مرد ودریا، اور یہ تلقین کی کہ خدا کے قریب تر جو ہو، اسی فرقے کے معنی یہ ہیں کہ خدا سے فرقوں سے بالاتر ہو کر قوموں کوسارگی تسلیم کرنا انسانیت کی سمیٹ لے۔ یہی ایک بنیاد ہے جس پر صحیح انسانیت کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔
مقصد
- قرآن حکیم دوست انسان کی تعلیمات سے آگہی پیدا کرنا۔
- مذہب کے بے مقصد تعبیرات کی تردید کرنا اور قرآنی مذہب کے تصور کو واضح کرنا۔
- وحدت انسانیت کے قرآنی نظریہ کاشعور پیدا کرنا۔
دائرہ کار
- قرآن حکیم اور تاریخ انسانی کے تناظر میں موضوع کی وضاحت کرنا۔
بنیادی نظریہ
وحدت انسانیت
نکات
تمہیدی نکات:
- وحدت انسانیت کے نظریے کی ضرورت واہمیت:
- aنظریہ کی اہمیت۔
- bنظریہ اور جدوجہد کا باہمی تعلق اور اسوہ حسنہ۔
اساسی نکات:
حاصلِ تعلیم
- قرآن وحدت انسانیت (گروہیت اور فرقہ واریت سے بلند نظریہ) کا داعی ہے۔
- قوموں کے زوال کی وجہ انفرادیت پسندی، گروہ بندی اور تفریق انسانیت پر مبنی تعصبات ہیں۔
- بامقصد صحت بخش اعمال کے اظہار کاذریعہ اعمال ہوتی ہیں، اگر ساج میں بے مقصد رسوم شامل ہو جائیں تو اصلاح نظریہ ان کے خاتمہ کا تقاضا کرتا ہے۔
- صالح نظریہ کے ساتھ اجتماعی واشتراکی انسانی زندگی میں وحدت پیدا کرتی ہے۔
عملی تقاضے
- رسمیت سے بالاتر ہو کر ٹھوس حکمت عملی اور نتیجہ خیز عملی اختیار کرنا۔
- بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب وحیثیت انسانی حقوق کے قیام کی منظم جدوجہد کرنا۔
- صالح رسوم اختیار کرکے وحدت انسانیت کے لیے جدوجہد کو بامقصد بنانا۔
ماخذ:
مولانا عبیداللہ سندھی، شعور و آگہی، وحدت انسانیت، مقالہ نمبر 3، رحیمیہ مطبوعات، لاہور، 2020۔ص:99-108/طبع 2009 ص:29-33