2
خدا پرستی - انسان دوستی
سمسٹر 1 — لیکچر 2
قرآن کی عالمگیریت محض اس بنیاد پر کہ وہ کل انسانیت کی کتاب ہے، ثابت نہیں ہوتی۔ قرآن ایک عالمگیر اور ناقابل تغیر اصول حیات پیش کرتا ہے جس کے مطابق ایمان باللہ کا عقیدہ انسانیت کے لیے ایک بلند اور اعلیٰ نصب العین کی حیثیت رکھتا ہے اور اس دنیا میں اس کی حیثیت کا ارفع ترین مظہر خدا پرستی ہے، جس کے بغیر خدا پرستی ممکن نہیں۔ ایمان باللہ کی ایک منزل انسان دوستی ہے، اگر آدمی یہ مانتا ہے کہ سارے انسان اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں تو اس کو خالق سے جو محبت ہے، اسی کی وجہ سے لازمی ہے کہ اس کی مخلوق سے بھی محبت ہو۔ اسی بنا پر قرآن نے اپنے ابتدائی عہد سے سرویت اور کسریت کے بدترین مظاہر تعیش، ختم کرنے کی دعوت دی، اور اس کی جگہ ایسا نظام قائم کیا جس میں انسانی مساوات، ہر ایک سے انصاف واخوت، بنیادی اصول، انسانیت عامہ کا تزکیہ اور اس کاراستقامت مختصر قرآن کا تقاضا تھے۔
مقصد
- قرآن کاباطور جامع تصور حیات تعارف کروانا۔
- ایمان باللہ کے عملی تقاضوں سے آگہی حاصل کرنا۔
- انسان دوستی کے مفہوم کی وضاحت کرنا۔
دائرہ کار
- مولانا عبیداللہ سندھی کے قرآنی افکار کی روشنی میں موضوع کا ادراک کرنا۔
بنیادی نظریہ
دین حق کی جامعیت
نکات
تمہیدی نکات:
- فطرۃ اللہ ودین قیم۔
- انسانی تاریخ کے مطالعہ کی ضرورت واہمیت۔
- اختلاف شرائع کا پس منظر اور مظاہر زندگی۔
- aقرآن حکیم کی حکمت ابدی۔
- bحکمت اور قانون میں فرق۔
اساسی نکات:
- قرآن حکیم کامقصود اصلی (خدا پرستی وانسان دوستی) اور اس کے نظام کے بنیادی اصول۔
- aایمان باللہ
- bانسانی مساوات
- cعدل وانصاف
- dبھائی چارہ واخوت
- ایمان باللہ اور تصور وحدت کائنات وانسانیت۔
- انسان دوستی کی اہمیت:
- aسیرت رسول اکرم ﷺ کی روشنی میں
- bصوفیاء کی نظر میں
- cانسان دوستی اور نظریہ جہاد
- عصر حاضر کی قطعی مذہبی (ساج بیزار مذہبیت) ذہنیت کا تجزیہ اور حقیقی مذہب کاتعارف۔
حاصلِ تعلیم
- قرآنی تعلیمات پرحکمت اور ابدی ہیں۔
- قرآن حکیم خدا پرستی کے طور پر لازمی نتیجہ انسان دوستی کی تعلیم دیتا ہے۔
- قرآن حکیم استحصالی نظاموں کا خاتمہ کرکے انسانی مساوات کی اساس پر خدمت خلق اور ارتقائے انسانیت کا نظام تشکیل دیتا ہے۔
- قیامت کے دن انسانی حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے لازمی بازپرس ہوگی، اس بنیاد پر لازمی انسانی حقوق کے نظام کا عادلانہ قیام ضروری ہے۔
عملی تقاضے
- قرآنی حکمت کاشعوری ادراک کرنا اور قرآن کے بلند نصب العین کی دعوت دینا۔
- انسانیت دوستی پر مبنی نظام کے قیام کی جدوجہد کرنا۔
- خدا پرستی کے ذریعے اعمال کے انسان دوستی کی بے غرض ومخلصانہ جدوجہد کو مقصد حیات بنانا۔
ماخذ:
مولانا عبیداللہ سندھی، شعور و آگہی، خدا پرستی انسان دوستی، مقالہ نمبر 2، رحیمیہ مطبوعات، لاہور، 2020۔ص:87-98/طبع 2009 ص:22-28